بلوچستان اور کراچی سے مزید 6 بلوچ جبری لاپتہ

184

بلوچستان اور کراچی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم چھ بلوچ نوجوانوں کو حالیہ دنوں میں پاکستانی فورسز نے مختلف مقامات سے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، 5 فروری 2026 کو صبح تقریباً 2 بجے، اسد اللہ کرد (عمر 25 سال)، ولد ظفر اللہ کرد، پیشے کے لحاظ سے طالب علم اور ساکن بلوچ کالونی، کوئٹہ، کو پاکستانی فورسز نے بروری روڈ کوئٹہ سے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

اسی طرح 3 جنوری 2026 کو صبح 2 بجے، ولید (عمر 30 سال)، ولد عبدالمجید، پیشے کے لحاظ سے باورچی اور ساکن لیاری، کراچی، کو ان کے گھر سے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

2 فروری 2026 کو صبح 10 بجے، خدا بخش (عمر 18 سال)، ولد دلوش، پیشے کے لحاظ سے طالب علم اور ساکن گڈانی، حب چوکی، کو کراچی سے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا۔

اسی روز صبح 10 بجے ہی یاسر عرفات (عمر 25 سال)، ولد قادر بخش، ساکن مشکے، آواران، کو بھی کراچی سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

مزید براں گزشتہ شب پاکستانی فورسز نے جیونی کے علاقے گوتری بازار اور کوسر بازار میں بلوچ گھروں پر دھاوا بولا، جس دوران سراج ولد غفور اور زاہد ولد عبدالرحمن کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، جس کے بعد سے وہ جبری طور پر لاپتہ ہیں۔