بلوچستان اور بے سمت ریاست کا المیہ
تحریر: علی بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچستان کا مسئلہ محض ایک صوبے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ اب ریاست اور اس کے سول و عسکری اداروں کی فکری، اخلاقی اور سیاسی دیوالیہ پن کی علامت بنتا جا رہا ہے بدقسمتی سے اس مسئلے کو سمجھنے اور حل کرنے کے بجائے اسے مختلف طاقت ور حلقے اپنے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں حکمران اشرافیہ اور عسکری اسٹیبلشمنٹ نے مل کر بلوچستان کو ایک مستقل بحران میں دھکیل دیا ہے۔
حکمران اشرافیہ کا کردار سب سے زیادہ منافقانہ نظر آتا ہے جب بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے مفادات ٹکراتے ہیں تو بلوچ مسئلہ اچانک ان کے لیے ایک “اخلاقی ہتھیار” بن جاتا ہے۔ بلوچوں کے دکھ، لاپتہ افراد، وسائل کی لوٹ مار اور سیاسی محرومی پر بیانات دیے جاتے ہیں مگر یہ ہمدردی صرف اسی وقت تک قائم رہتی ہے جب تک پنجاب میں اقتدار یا حصہ داری کا سوال حل نہیں ہو جاتا۔ جیسے ہی مفادات پورے ہوتے ہیں بلوچ عوام کو ایک بار پھر مشکوک، باغی، یا ملک دشمن القابات سے نواز دیا جاتا ہے جس کی تازہ مثال نواز لیگ کی موجودہ طرزِ سیاست اور رانا ثناء اللہ صاحب کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں کی گئی تازہ گفتگو ہے۔
یہ سوال بہت اہم ہے کہ بلوچوں نے ان جماعتوں سے امید رکھنا کب اور کیوں چھوڑا؟ شاید اُس دن جب بار بار ثابت ہوا کہ بلوچ خون صرف ایک سیاسی سودے بازی کی قیمت ہے کوئی اصولی مسئلہ نہیں۔
دوسری طرف عسکری اسٹیبلشمنٹ کا رویہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کا مقصد کبھی حقیقی نارملائزیشن، سیاسی شمولیت یا فلاح و بہبود نہیں رہا انہیں یہاں صرف کنٹرول چاہیے زمین پر، وسائل پر، اور بیانیے پر بھی طاقت کے ذریعے خاموشی مسلط کرنا ریاستی پالیسی بن چکا ہے جب کہ اعتماد، انصاف اور مکالمہ ناپید ہو چکی ہیں۔
اسی مسلسل جبر کا نتیجہ یہ ہے کہ بلوچ نوجوان، نتائج کی پرواہ کیے بغیر، ہتھیار ڈالنے کے بجائے مسلح جدوجہد کو ترجیح دے رہے ہیں یہ فیصلہ کوئی رومانوی یا جذباتی انتخاب نہیں، بلکہ ایک ایسی نسل کا ردِ عمل ہے جس کے سامنے تمام سیاسی راستے بند کر دیے گئے ہیں جب ملکیت، حکمرانی اور شناخت کے مطالبے کو غداری کہا جائے تو پھر نوجوانوں کے پاس کیا رہ جاتا ہے؟
آج کی حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں بلوچ عوام کی قیمتی “سرمایہ” یعنی تعلیم یافتہ، باشعور اور باصلاحیت نوجوان مسلسل نگلی جا رہی ہے، لاشیں بڑھ رہی ہیں، نفرت گہری ہوتی جارہی ہے اور فاصلے ناقابلِ عبور بنتے جا رہے ہیں ریاست طاقت کے نشے میں یہ سمجھ رہی ہے کہ مسئلہ دب جائے گا مگر تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے حقوق کو گولی سے کبھی ختم نہیں کیا جا سکا بلکہ اس طرزِ عمل سے مسائل مزید پیچیدگی اختیار کرتے ہیں۔
بلوچ نوجوان بلوچستان پر اپنے حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کے مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے بلوچ قوم کے پاس بلوچستان کے علاوہ کیا بلوچوں کے لیے یہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ ان کی شناخت، تاریخ سب اسی سے وابستہ ہیں سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں لڑ رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ریاست نے انہیں لڑنے کے سوا کون سا راستہ دیا ہے؟
جب تک حکمران اشرافیہ اپنی مفاد پرستانہ سیاست ترک نہیں کرتی، عسکری اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کے بجائے انصاف کو ترجیح نہیں دیتی، اور وفاق پاکستان بلوچستان کو ایک برابر کے سیاسی فریق کے طور پر تسلیم نہیں کرتا تب تک اس خونریز جنگ کا کوئی حل نظر نہیں آتا اور بدقسمتی سے اس جنگ کا خمیازہ انسانی زندگیاں ادا کر رہی ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































