سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ) نے دعویٰ کیا ہے کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے علاقے بارکھان میں ایک کارروائی کرتے ہوئے چھ مسلح افراد کو ہلاک کیا گیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کے تمام اہلکار محفوظ رہے۔
اس سے قبل، کوئٹہ میں آٹھ افراد اور گزشتہ روز کراچی میں تین افراد کو مبینہ جعلی مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔ کراچی میں ہلاک کیے گئے افراد کی شناخت پہلے سے زیر حراست افراد کے طور پر کی گئی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی مبصرین کے مطابق، ماضی میں بھی سی ٹی ڈی کی متعدد کارروائیوں کو مشکوک قرار دیا گیا ہے، جہاں مبینہ مقابلوں کے نام پر پہلے سے لاپتہ افراد کو ہلاک کیا گیا۔ بلوچستان میں طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات ریاستی اداروں سے منسلک رہے ہیں۔
ماہرین اور انسانی حقوق کی کمیٹیاں تنبیہ کر رہی ہیں کہ یہ واقعات نہ صرف قومی قوانین بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدات، خصوصاً بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کے آرٹیکل 6 اور 9 کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
جبکہ ماضی میں بھی سی ٹی ڈی کی متعدد کارروائیوں کو مشکوک قرار دیا گیا ہے، جہاں مبینہ مقابلوں کے نام پر پہلے سے لاپتہ افراد کو ہلاک کیا گیا۔ بلوچستان میں طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات ریاستی اداروں سے منسلک رہے ہیں۔ اس پس منظر میں کوئٹہ، بارکھان اور کراچی کا حالیہ واقعہ ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
















































