ایک آپریشن، پچاس فدائین – گنجل بلوچ

67

ایک آپریشن، پچاس فدائین

تحریر: گنجل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

50 فدائی ایک آپریشن میں شاید پہلے کبھی ایسا ہو۔ جس میں مرد اور خواتین، بزرگ اور نوجوان شامل ہوں شاید کبھی ایسے آپریشن ہو دنیا میں، میں نے نہ سنا ہے نہ پڑھا ہے۔ بزرگ شہید ہتم ناز اور بزرگ شہید فضل کی قربانیوں نے بلوچ نوجوانوں کے حوصلوں کو اور بلند کیا۔ یہ صرف فدائی نہیں آئیڈیل ہیں ہمارے لیے۔

بلوچستان میں حالیہ پس منظر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے ایک نیا باب تاریخ میں رقم ہونے والا ہے جو شاید ہم نے نہ کبھی سنا ہے نہ کبھی پڑھا ہے یہ ایک ایسا باب ہے جس نے پورے ایشیا کو حیران کر دیا ہے شاید پورے دنیا کو۔ برصغیر میں تو اس کا شورش کچھ زیادہ ہی چل رہا ہے۔

بات ہو رہی ہے ہیروف 2.0 کا جو 31 جنوری کو شروع ہوا تھا جس نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا یہ آپریشن آگ کی طرح پھیل گیا تھا۔ حالانکہ انٹرنیٹ بند ہونے کے باوجود گھر گھر میں اس کی آواز پہنچ گئی تھی جہاں بھی جاتے صرف “ہیروف” کی باتیں سننے کو ملتیں۔

وہ ریاست جو اپنے افواج کو دنیا کے ٹاپ 10 فوجوں میں شامل کرتی ہے جب اس کے کچھ حصوں پر 6 دنوں تک مسلح افراد کا کنٹرول رہا تو پھر بھی فخر سے کہتی ہے کہ میرے نوجوان بہادری سے لڑ رہے ہیں کٹھ پتلی حکومت کی یہ جھوٹی بیانیہ ہر ہمیشہ یہی ہوتا ہے خیال رہے بنگلہ دیش کے آزادی کے ایک دن پہلے ریاست پاکستان نے کہا تھا جنگ ہم نے جیت لی ہے لیکن وہاں ان کے 90 ہزار فوجیوں کے پتلونوں کو نکال دیا تھا۔ ان کے بنیادی اینٹے ایسے رکھے ہوئے ہیں حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اس کو قبول نہیں کرتے۔

اگر بلوچ قوم دہشت گرد ہوتی تو اس کی حسین اور پڑھے لکھے بچیں خدا کو چھوڑ چھاڑ (ٹکڑے ٹکڑے) نہیں کرتیں۔ یہ سوچنے کی اور فکر کرنے کی بات ہے۔ یہ دونوں صلاحیتیں ریاست پاکستان میں نہیں ہیں۔

آصفہ مینگل اور حوا بلوچ جو پڑھے لکھے تھے وہ یہ جانتے تھے کہ غلامی کیا ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ایک غلام قوم کو غلامی سے کیسے نمٹنا ہے جب ایک فرد، ایک سوسائٹی یا ایک قوم غلامی کو سمجھے تو وہ اپنا ہر حربہ استعمال کرے گا اس کو ختم کرنے کے لیے۔ چاہے وہ جان و مال کی قربانی کیوں نہ ہو۔ آسان لفظوں میں بتاؤں تو اس کو شعور کہتے ہیں جب شعور آ جائے تو صحیح اور غلط کے فرق کو پہچانا جاتا ہے۔

ایک میاں اور ایک بیوی ایک ساتھ مجید بریگیڈ میں شامل ہوتے ہیں اور فدائی کے لیے بھی ایک ساتھ جاتے ہیں جنگ میں ایک ساتھ جھڑپ دیتے ہیں دشمن کے ساتھ روبرو اور آخر میں خدا کو وطن پر قربان کر دیتے ہیں وہ بھی ایک ساتھ۔ صرف تصور کریں، اس ساعت (وقت) میں کیا ماحول ہوگا دشمن کے ساتھ دوپھر لڑائی میں وہ کس کے بارے باتیں کر رہے ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دنیا کے کس لمحے کو یاد کرتے ہوں گے۔ کیا اس وقت بھی وہ وطن کی خوبصورتی کی باتیں کرتے ہوں گے یا ان بہنوں کے بارے میں جو زندانوں میں بند ہیں؟ خیر جو بھی بات ہوئی ہے وہ تو بس ان کو پتہ ہوگا۔

ہم ایک ایسے سوسائٹی میں رہتے ہیں جہاں ایک مرد اور ایک عورت کو بازار میں دیکھا جائے تو غلط سمجھتے ہیں۔ اس سوسائٹی میں ہماری بہنیں اپنے بھائیوں کے ساتھ محاذوں پر بہادری کے ساتھ لڑ رہی ہیں اپنی جانیں نذرانہ پیش کر رہی ہیں تو میرے خیال میں اس سے آگے کوئی بات تو ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ اقدام یہ قربانیاں مشعل راہ ہیں ہمارے آنے والے جنریشن کے لیے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔