اقوام متحدہ کے پانچ خصوصی نمائندگان نے پاکستانی حکومت کو ایک باضابطہ مراسلہ ارسال کرتے ہوئے ممتاز انسانی حقوق کی وکلا ایمان زینب مزاری حاضر اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف جاری فوجداری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان پر عائد کیے گئے الزامات، خصوصاً “سائبر دہشت گردی”، بظاہر انسانی حقوق کی قانونی معاونت اور اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
مراسلے پر دستخط کرنے والوں میں ججز اور وکلا کی آزادی، اظہارِ رائے کی آزادی، پرامن اجتماع و تنظیم سازی، انسانی حقوق کے محافظین، اور انسانی حقوق و انسدادِ دہشت گردی سے متعلق خصوصی نمائندگان شامل ہیں۔
24 جنوری 2026 کو دونوں وکلا کو پاکستان کے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (PECA) 2016 کی دفعات 9، 10 اور 26-اے کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ سب سے طویل سزا 10 سال (سائبر دہشت گردی) کی تھی۔ مزید برآں، ہر ایک پر 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ سائبر دہشت گردی کی تعریف مبہم اور وسیع ہے اور اسے ایسے بیانات پر لاگو کیا گیا جو بظاہر عوامی امور اور انسانی حقوق سے متعلق تنقیدی رائے پر مبنی تھے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 2022 سے اب تک ایمان مزاری کے خلاف کم از کم دس ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں، تاہم کسی میں بھی سزا نہیں ہوئی۔ ان مقدمات میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج، عسکری قیادت پر تنقید، اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتاری جیسے معاملات شامل رہے۔
ماہرین نے لکھا کہ ان اقدامات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ دونوں وکلا کو ان کے پیشہ ورانہ کردار اور انسانی حقوق کی وکالت کے باعث نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مراسلے میں عدالتی کارروائی کے دوران متعدد مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر کیا گیا، جن میں ایف آئی آر کی باضابطہ اطلاع نہ دینا، دفاع کو اہم دستاویزات فراہم نہ کرنا، ناقابلِ ضمانت وارنٹس کا اجراء، اور ملزمان و ان کے وکلا کی غیر موجودگی میں گواہی ریکارڈ کرنا شامل ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ان معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ٹرائل عدالت نے کارروائی جاری رکھی۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندگان نے بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کی دفعات 14، 19 اور 15 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اظہارِ رائے کے حق کو دہشت گردی کے الزامات سے جوڑنا انسانی حقوق کے محافظین کے کام کو مجرمانہ رنگ دینے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مبینہ خلاف ورزیوں کو روکے، منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دے اور PECA میں ضروری اصلاحات کرے تاکہ قانون بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہو سکے۔
یہ 2025 کے دوران پاکستان کو بھیجا گیا سترہواں خصوصی مراسلہ ہے، جو وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے خلاف بڑھتے دباؤ پر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

















































