طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کو بتایا کہ سعودی عرب کی ثالثی کے ذریعے تین پاکستانی فوجیوں کو رمضان المبارک کے موقع پر جیل سے رہا کیا گیا۔
ذبیح مجاہد نے کہا ہے کہ فوجیوں کو 12 اکتوبر کو جنوبی افغانستان میں ڈیورنڈ لائن پر طالبان کی سرکاری افواج کے ’انتقامی حملوں‘ کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔
طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ ’امارت اسلامیہ نے ان قیدیوں کو دوسرے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے رہا کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستانی افواج نے افغان جانب سے کوئی فوجی نہیں پکڑا۔
طالبان حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امارت اسلامیہ افغانستان نے تمام ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات پر زور دینے کی اپنی پالیسی کے مطابق رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد کے اعزاز میں جو کہ رحمتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے اور برادر ملک سعودی عرب کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی میزبانی کی درخواست کے جواب میں کل پیر کے روز کابل پہنچنے والے تین پاکستانی فوجیوں کو قیدیوں کے ساتھ رہا کیا۔


















































