افغانستان پر پاکستان کے حملوں میں معصوم جانیں ضائع ہوئیں، بلوچ قوم افغانستان کے حقِ دفاع کی حمایت کرتی ہے۔ بی این ایم

0

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے افغانستان پر پاکستان کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب افغانستان کی آبادیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت پورے خاندان قتل ہوئے۔ بلوچ قوم کی ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں، اور ہم افغانستان کی خودمختاری اور اس کے حقِ دفاع کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان پر پاکستانی حملے افغان قوم کی خودمختاری، سالمیت اور آزادی پر براہِ راست حملہ ہیں، جن میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حقائق پاکستان کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔ ان فضائی حملوں میں بھی حسبِ سابق معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ گزشتہ 79 برسوں سے خطے میں بدامنی کی بنیادی وجہ ریاستِ پاکستان کی پالیسیاں ہیں، جو ظاہری اور پوشیدہ توسیع پسندانہ عزائم رکھتی ہے۔پاکستان نے اپنے قیام کے فوراً بعد بلوچستان پر قبضہ کیا، اقوام کی خودمختاری اور آزادیاں چھین لی گئیں اور انھیں بالادست پنجابی رجیم نے محکوم بنا کر رکھا ہے۔ موجودہ ’ نام نہاد پاکستان ‘ میں محکوم اقوام اپنی قومی بقا کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان سیاسی اور سماجی طور پر انتشار کا شکار ہو چکا ہے، اور  یہی حالات ریاست پاکستان کے لیے مسائل کا باعث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سیاسی قوتوں کے خلاف فوجی جبر اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود پاکستان اپنے معاملات کو درست کرنے میں مسلسل ناکام رہا ہے، اور اپنی ان ناکامیوں کا ملبہ ہمسایہ ممالک پر ڈال کر خطے میں بے چینی اور جنگی ماحول پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان کی فوجی طاقت نہ صرف خطے بلکہ خطے سے باہر کے ممالک کے لیے بھی ایک واضح خطرہ ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے خطے کی اقوام کے درمیان اتحاد اور مشترکہ  محاذ کا قیام ناگزیر ہے۔