آپریشن ہیروف 2.0 ۔ ٹی بی پی اداریہ

71

آپریشن ہیروف 2.0 

ٹی بی پی اداریہ

31 جنوری کی صبح کا آغاز بلوچستان کے مختلف شہروں میں پاکستان کے اہم فوجی اہداف پر فدائی حملوں اور فوج و سی ٹی ڈی کے ساتھ بلوچ مزاحمتکاروں کی شدید جھڑپوں سے ہوا۔ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ، مستونگ، دالبندین، قلات، گوادر، پسنی، تمپ اور نوشکی سمیت کئی شہروں میں بیک وقت مزاحمتکاروں نے کنٹرول سنبھال کر پاکستان فوج سے دوبدو لڑائیوں کا آغاز کیا۔ ان مربوط اور فدائی حملوں کا دائرہ بلوچستان کے تزویراتی اور کلیدی مراکز میں پھیلا ہوا تھا۔ بلوچ لبریشن آرمی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں آپریشن ہیروف کا دوسرا فیز قرار دیا۔

آپریشن ہیروف کا دوسرا فیز بلوچ قومی آزادی کی مسلح تحریک کی تاریخ کا سب سے بڑا اور مہلک ترین حملہ ہے، جس میں بلوچ لبریشن آرمی کا فدائی یونٹ مجید بریگیڈ، ایس ٹو او ایس اور انٹیلی جنس ونگ زراب کے جنگجو شامل ہیں۔ ان مربوط حملوں میں بی ایل اے کے جنگجوؤں نے بلوچستان کے مرکز کوئٹہ سمیت بارہ شہروں میں کنٹرول حاصل کر کے فوجی اہداف پر ہلاکت خیز حملے کیے اور کوسٹل ہائی وے اور کراچی–کوئٹہ شاہراہ پر مختلف مقامات پر کنٹرول حاصل کر کے ریاستی عمل داری ختم کر دی۔

بلوچستان بھر میں اس پیمانے کا یہ پہلا حملہ ہے جس میں ہزاروں مزاحمتکاروں نے بیک وقت سی ٹی ڈی، فوج اور پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کو نشانہ بنایا۔ تھانے جلائے گئے، فوج اور پولیس کے افسران و اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا اور پولیس تھانوں و فوجی کیمپوں سے اسلحہ ضبط کیا گیا۔ مجید بریگیڈ کے فدائیوں نے بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں ریڈ زون، نوشکی میں فوج کے مرکزی کیمپ، گوادر میں کوسٹ گارڈ کے کیمپ، پسنی میں پاکستان نیوی کے بیس، دالبندین میں فرنٹیئر کور کے کیمپ، قلات میں کمانڈنٹ میس اور تمپ میں پل آباد اور رودبن کے فوجی کیمپوں کو فدائی حملوں میں نشانہ بنایا۔

آپریشن ہیروف نہ صرف اب تک بلوچ جنگ کا مہلک ترین مربوط حملہ ہے بلکہ پاکستان اور بلوچ قومی اداروں کے درمیان جنگ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بلوچ خواتین نے جنگی محاذ پر دوبدو لڑائیوں میں حصہ لیا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کے اس فیصلے سے بلوچ آزادی کی جنگ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

بلوچستان میں آپریشن ہیروف کے مربوط حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم، آپریشن ہیروف کے دوسرے فیز کی شدت سے واضح ہے کہ یہ اقدام بلوچ انسرجنسی کا منظرنامہ بدلنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے اور جنگِ آزادی کے مسلح محاذ میں جدت لانے کا سبب بنیں گے۔