آپریشن ہیروف 2.0: بلوچستان کے نئے گریٹ گیم میں پاکستان ایک مہرہ

41

آپریشن ھیروف کا دوسرا مرحلہ شاید تاریخ میں اس لمحے کے طور پر درج ہو کہ جب پاکستان یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ وہ گریٹ گیم کا بادشاہ گر نہیں رہا، بلکہ اسی کھیل میں بین الاقوامی طاقتوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والا ایک مہرہ بن چکا ہے۔

تقریباً ایک دہائی تک پاکستان نے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری “سی پیک” کو اپنی جیوپولیٹیکل بحالی کی بنیاد کے طور پر پیش کیا، اسے ایک ایسی ’’ہمیشہ کی شراکت داری‘‘ کے طور پر بیچا گیا جو پاکستان کو ایک کمزور سیکیورٹی اسٹیٹ سے یوریشیائی تجارت اور بحری حکمت عملی کے اعصابی مرکز میں بدل دے گی۔

سی پیک کو پاکستان کے معاشی عدم استحکام اور اسٹریٹجک غیر اہمیت سے نکلنے کا آخری راستہ قرار دیا گیا، تاہم بلوچ مزاحمت کاروں کے آپریشن ھیروف 2.0 نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ تمام مفروضے کس قدر قبل از وقت اور خطرناک حد تک خوش فہمی پر مبنی تھے۔

بی ایل اے کی جانب سے حالیہ مربوط حملے محض علیحدگی پسند سرگرمیوں کا معمول نہیں، یہ ایک ایسا جیوپولیٹیکل موڑ ہے جو نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی کے ڈھانچے کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ اسلام آباد کس تیزی سے ایک ایسے اسٹریٹجک جال میں پھنس رہا ہے جہاں بلوچستان پر کنٹرول کھونے کا خطرہ صرف مزاحمت کاروں کے ہاتھوں نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے مقابلہ آرائی کے باعث بھی بڑھ رہا ہے۔

پاکستان، جو خود کو کبھی عظیم طاقتوں کے کھیل کا منتظم سمجھتا تھا، اب اسی کھیل کا ممکنہ نقصان بردار بن رہا ہے۔

چین کا بلوچستان میں داخلہ کبھی معاشی بنیادوں پر نہیں تھا اور نہ ہی معاشی اعتبار سے سی پیک کوئی پائیدار منصوبہ تھا، گوادر پورٹ جو دنیا کی اہم ترین آئل چوکی آبنائے ہرمز کے عین باہر واقع ہے، چین کی سب سے بڑی بحری بیٹنگ تھی۔

چونکہ دنیا کی تقریباً پانچویں توانائی اسی تنگ گزرگاہ سے گزرتی ہے، گوادر چین کیلئے ایک ایسی جگہ تھی جہاں سے وہ خلیج فارس کی توانائی تک رسائی آبنائے مالاکا کے بغیر حاصل کر سکتا تھا یہ چین کے لیے ایک مستقل اسٹریٹجک فائدہ مند زاویۂ نظر کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔

لیکن بلوچ مزاحمت کی مسلسل واپسی نے اس تصور کی تباہی لکھ دی ہے، حالیہ حملوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ گوادر ایک ایسے علاقے میں گھرا ہوا ہے جہاں پاکستان کا کنٹرول نہ مطلق ہے نہ دیرپا، چینی انجنیئرز، انفراسٹرکچر قافلے اور سیکیورٹی تنصیبات بارہا نشانہ بنتی رہی ہیں جس نے گوادر کو بحری کامیابی کے بجائے ایک قلعہ بند جزیرے میں بدل دیا ہے۔

چین کا ردعمل اس تبدیلی کو واضح کرتا ہے اگرچہ بیجنگ سرکاری سطح پر سی پیک سے دستبرداری کا تاثر نہیں دیتا، لیکن عملی طور پر سرمایہ کاری کا بہاؤ تقریباً رک چکا ہے۔

پاکستان چین سیکیورٹی و معاشی اجلاس اب مکمل طور پر سیکیورٹی خدشات اور سی پیک کے تحت پاکستان کو ملنے والے قرضوں کی واپسی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، پاکستان کی بڑھتی ہوئی ناکامی کے تناظر میں، چین پیچھے نہیں ہٹ رہا بلکہ پنی حکمتِ عملی کو ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے اور یہی اعتراف ہے کہ سی پیک شاید وہ اسٹریٹجک برتری کبھی نہ دے سکے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔

امریکی جوابی چال: پسنی پورٹ اور معدنیات کا نیا محور

چین کی ہچکچاہٹ کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے خود کو دوبارہ ایک ’’جیوپولیٹیکل سوئنگ اسٹیٹ‘‘ کے طور پر پوزیشن کرنا شروع کیا ہے بلوچستان کے ریئر ارتھ ذخائر، تانبے کی کانوں کے ٹھیکے اور ساحلی انفراسٹرکچر خصوصاً اسٹریٹجک پسنی پورٹ اب مغربی سرمایہ کاروں اور خاص طور پر واشنگٹن کے سامنے پیش کیے جارہے ہیں۔

پسنی کی جغرافیائی اہمیت ناقابل تردید ہے یہ گوادر کی طرح انہی بین الاقوامی تجارت کے اہم راستوں کے نزدیک واقع ہے جو آبنائے ہرمز تک رسائی فراہم کرتے ہیں، چونکہ امریکی بحری طاقت میں عالمی سمندری راستوں پر کنٹرول مرکزی حیثیت رکھتا ہے، پسنی پورٹ امریکیوں کے لیے چین کے توسیعی اثر کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک ممکنہ اسٹریٹجک توازن بخش عنصر ہے۔

پاکستان سمجھتا ہے کہ اس نے چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کے مقابل کر کے ’’جیوپولیٹیکل شاہ چال‘‘ چل لی ہے لیکن حقیقت میں یہ سوچ ایک خطرناک جیوپولیٹیکل غلط فہمی ہے۔

پاکستان عالمی طاقتوں کو ایسے علاقوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہا ہے جہاں اس کا اپنا ریاستی کنٹرول متنازع اور کمزور ہے وہ معدنی راہداریاں اور ساحلی تنصیبات جنہیں اسلام آباد بیچنے کی کوشش کر رہا ہے، انہی علاقوں میں موجود ہیں جہاں “ بی ایل اے” اور ٹی ٹی پی جیسے گروہ قائم ہیں آپریشن ہیروف 2.0 نے دوبارہ ثابت کیا کہ ریاستی اختیار کہاں تک سکڑ چکا ہے۔

آبنائے ہرمز بلوچستان کی جنگ کے پیچھے اصل انعام

چین اور امریکہ دونوں کا بلوچستان میں بڑھتا ہوا فریم ورک براہ راست آبنائے ہرمز دھکیل رہا ہے وہ توانائی کی شہ رگ جو خلیج فارس کو دنیا کی معیشت سے جوڑتی ہے۔

ہرمز کے قریب موجودگی بھی ایک اسٹریٹجک طاقت ہے گوادر چین کو اس تنگ گذرگاہ پر نظر رکھنے کا موقع دیتا ہے، جبکہ پسنی مغرب کے لیے اسی طرح کی رسائی کا امکان رکھتا ہے۔

یوں بلوچستان خلیج فارس کے توانائی نظام کا بیرونی حفاظتی حلقہ بنتا جا رہا ہے—اور آپریشن ہیروف 2.0 نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ یہ بیرونی حلقہ شدید غیر مستحکم ہے۔

پاکستان کی خود تباہ کن حکمتِ عملی: دو طرفہ کھیل اور مکمل کنٹرول کا زوال

پاکستان ہمیشہ سمجھتا رہا ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کے درمیان ’’توازن‘‘ برقرار رکھنے میں ماہر ہے سرد جنگ ہو یا 9/11 کے بعد کا دور پاکستان نے خود کو ہمیشہ ایک لازم اتحادی کے طور پر بیچا لیکن بلوچستان میں یہ کھیل اب روسی رولیٹ جیسا خطرناک ہو چکا ہے۔

ایک طرف چین کو گوادر میں بٹھانا دوسری طرف مغرب کو معدنیات و بندرگاہوں کا متبادل دینا یہ ایک ایسا کھیل ہے جو وقتی ریلیف تو دے سکتا ہے لیکن بلوچستان میں بیرونی اثر و رسوخ کے متوازی حلقے پیدا کر دے گا، تاریخ ثابت کرتی ہے کہ متحارب بیرونی طاقتیں جب کسی کمزور خطے میں اثر و رسوخ کی جنگ لڑتی ہیں تو مقامی خودمختاری سب سے پہلا نقصان بن جاتی ہے۔

پاکستان کا بلوچستان کو سودے بازی کے کارڈ کے طور پر استعمال کرنا شاید بالآخر اس کے اپنے اختیار کو مکمل تحلیل کر دے گا۔

آپریشن ہیروف 2.0: عسکری بیانیے کی تباہ کن شکست

اس آپریشن کا سب سے بڑا دھچکا پاکستان کی عسکری بالادستی پر پڑا ہے فوج طویل عرصے سے اپنے اقتدار کو ’’ریاست کی وحدت کے ضامن‘‘ کے بیانیے سے جائز ثابت کرتی رہی ہے لیکن مزاحمت کاروں کی جانب سے بار بار سیکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے پر حملے اور چند مقامات پر عارضی قبضے نے اس بیانیے کو چیلنج کر دیا ہے۔

فوجی طاقت صرف ہتھیاروں پر نہیں تاثر اور ساکھ پر بھی قائم ہوتی ہے۔ آپریشن ہیروف 2.0 نے دو بڑے نقصانات پیدا کیے:
1. اندرونِ ملک عوام کے اعتماد میں کمی؛
2. بیرونی سرمایہ کاروں اور اتحادیوں کی نظر میں سیکیورٹی گیارنٹی کی کمزوری۔

پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی داخلی بغاوت ہے، جو فوجی اداروں کی ساکھ کو کمزور کرتی جارہی ہے۔

داخلی سلامتی کا ٹائم بم

بلوچستان میں بیرونی طاقتوں کی رسہ کشی داخلی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہے غیر ملکی سرمایہ کاری، سیکیورٹی ڈھانچے اور سیاسی نیٹ ورکس اکثر متوازی طاقت کے مراکز بن جاتے ہیں، جو دراڑوں کو مزید وسیع کرتے ہیں۔

بلوچستان جتنا زیادہ عالمی قوتوں کا میدان بنتا جا رہا ہے، پاکستان کی اپنی پالیسی کا اختیار اسی رفتار سے محدود ہوتا جا رہا ہے۔ نتیجہ ترقی نہیں بلکہ ریاستی اختیار کا تحلیل ہون ہے۔

نیا گریٹ گیم اور پاکستان کی خطرناک حیثیت

آج بلوچستان میں جو مقابلہ جاری ہے وہ 19ویں صدی کے گریٹ گیم جیسا ہے، جب بڑی طاقتیں وسطی و جنوبی ایشیا میں اثر و رسوخ کی جنگ لڑتی تھیں اس دور میں مقامی خطوں کو کبھی استحکام نہیں ملا صرف مقابلہ اور عدم تحفظ ہی ملا۔

آپریشن ہیروف 2.0 کا پیمانہ بتاتا ہے کہ بلوچستان اب توانائی، بحری راستوں اور ریئر ارتھ وسائل کی عالمی جنگ کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نگرانی میں موجود عسکری حکمران طبقہ سمجھتا ہے کہ وہ اس عالمی مقابلے کو اپنے فائدے میں موڑ سکتا ہے، لیکن تاریخ صاف بتاتی ہے کہ متضاد عالمی قوتوں کو بیک وقت خوش کرنے کی کوشش کرنے والی ریاستیں بالآخر اپنی خودمختاری کھو دیتی ہیں۔

پاکستان بادشاہ گر بننے کے دعوے سے نکل کر ایک جیوپولیٹیکل فالٹ لائن بنتا جا رہا ہے ایسی دراڑ جو عالمی مسابقت سے مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔

خواہش اور حقیقت کے درمیان پھنسا ہوا پاکستان

آپریشن ہیروف 2.0 نے پاکستان کے عسکری و ریاستی ڈھانچے کی کمزوری، بڑے جیوپولیٹیکل دعووں اور بلوچستان پر کنٹرول کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے چین کی محتاط حکمت عملی، امریکہ کی بڑھتی دلچسپی اور بلوچ مسلح تنظیموں کی مسلسل مزاحمت نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان ایک خطرناک راستے پر کھڑا ہے۔

پاکستان بلوچستان کو عالمی طاقتوں کیلئے اسٹریٹجک مارکیٹ میں بدلنے کی کوشش کررہا ہے، مگر اسی کوشش میں وہ اس علاقے پر اپنا کنٹرول کھوتا جارہا ہے، اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو بلوچستان ایک ایسا خطہ بن جائے گا جسے پاکستان کی قومی حکمت عملی نہیں بلکہ بیرونی طاقتوں کے مفادات تشکیل دیں گے۔

اس کے اثرات صرف معاشی یا سفارتی نہیں ہوں گے یہ پاکستان کی داخلی سلامتی، سیاسی یکجہتی اور علاقائی خودمختاری کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔

آپریشن ہیروف 2.0 شاید وہ لمحہ بن کر یاد رکھا جائے جب پاکستان یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ وہ گریٹ گیم کا کھلاڑی نہیں رہا بلکہ خود اسی کھیل کی بساط پر ایک مہرہ بن چکا ہے۔


نوٹ: یے تحریر صحافی اور تجزیہ نگار راجہ منیب کی جانب سے انگریزی خبر رساں ادارے فرسٹ پوسٹ کے لئے لکھی گئی ہے، دی بلوچستان پوسٹ اسے اپنے اردو کارئین کے لیے پیش کررہی ہے۔