بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے آپریشن ہیروف کے تحت مختلف علاقوں میں حملوں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے آفیشل چینل پر نوشکی میں پاکستانی فورسز کے خلاف حملوں میں شامل ایک جنگجو کی آڈیو جاری کی ہے۔
ہفتے کی صبح شروع ہونے والے بلوچ لبریشن آرمی کے مربوط حملے آج بھی نوشکی سمیت دیگر علاقوں میں جاری ہیں۔
آڈیو پیغام میں جنگجو کہتا ہے کہ کل صبح سے ہم نے کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے، مجید بریگیڈ کے دوست اندر داخل ہو چکے ہیں۔
جنگجو کے مطابق مجید بریگیڈ کے ساتھی چاروں جانب سے اندر گئے ہیں، جبکہ فتح اسکواڈ کے دوست بھی کارروائی میں شامل ہیں۔
آڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کینٹ کے اندر متعدد فوجی اہلکار مارے گئے ہیں۔ اس جانب سی ٹی ڈی دفتر، سینٹرل جیل اور چھوٹے بڑے تمام دفاتر کے اہلکار مارے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
جنگجو مزید کہتا ہے کہ کوئٹہ کی جانب سے آنے والی کمک کی دو گاڑیوں کو حملہ کرکے تباہ کیا گیا۔ خاران کی طرف سے کمک کے لیے آنے والے 13 اہلکاروں کو بابِ خاران کے مقام پر مارے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، جبکہ ان کے تھرمل اور نائٹ ویژن آلات اپنے قبضے میں لینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
آڈیو میں یہ بھی سنا جا سکتا ہے کہ صبح سویرے ہیلی کاپٹر آئے، جن پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد ہیلی کاپٹر واپس چلے گئے۔ جنگجو کے مطابق مجید بریگیڈ کے ساتھی آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ فتح اسکواڈ انہیں کور فراہم کر رہی ہے۔
آڈیو پیغام میں جنگجو یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ علاقہ مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں بھی ان کے سرمچار اپنی پوزیشنیں سنبھالے ہوئے ہیں، اور جھڑپوں میں 150 سے زائد پاکستانی فوج، پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔















































