آپریشن ہیروف فیز ٹو: آپریشنل مہارت، علاقائی طاقت، پاور پالیٹکس کے تناظر میں
تحریر: ہارون بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
یقیناً آپریشن ہیروف فیز ٹو صرف بی ایل اے نہیں بلکہ بلوچ جنگی تاریخ میں کسی بھی قابض کے خلاف بیک وقت سب سے منظم، مربوط اور طاقتور جنگی معرکہ ہے جس کی مثال نہ صرف بلوچستان کی حالیہ تاریخ میں بلکہ خطے میں بھی نہیں ملتی۔ بی ایل اے کے سرمچاروں کی جانب سے ایک ہی وقت میں بلوچستان کے 12 اہم شہروں پر حملے، کئی علاقوں پر قبضے، بیک وقت درجنوں فدائین آپریشنز کرنے اور ہزاروں کی تعداد میں سرمچاروں کا شہروں کے اندر داخل ہونا جہاں دشمن کے لیے شدید جانی و مالی نقصانات کا باعث بنا، وہیں نفسیاتی طور پر بھی دشمن کو شدید دھچکا پہنچا۔ پہلی مرتبہ عملی طور پر بلوچ سرمچاروں نے علاقوں کو کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت دکھائی اور دشمن کے ساتھ روایتی (کنونشنل) جنگ کا بہترین مظاہرہ کیا، جس نے بلوچ جنگ میں ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب بلوچ سرمچاروں نے دنیا کے سامنے اپنی قوت و طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا، دشمن کو ثابت کیا کہ بلوچ سرمچار صرف پہاڑوں تک محدود نہیں بلکہ وہ دشمن کے قلعوں تک جانے کے لیے تیار ہیں اور ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ دشمن کے مضبوط حصار والے شہروں میں بھی داخل ہوسکتے ہیں۔
سرمچاروں کے اس دلیرانہ اور بہادرانہ اقدام سے انہوں نے دنیا کو بلوچ جنگ کے حوالے سے نہ صرف آگاہی دی بلکہ اپنی طاقت کا عملی نمونہ پیش کیا۔ حملے کے بعد سینکڑوں سرمچاروں کا بحفاظت شہروں سے نکل کر اپنے محفوظ مقامات تک واپس پہنچ جانا ان کی کامیاب حکمتِ عملی کا نتیجہ تھا۔
ان تمام حملوں میں سب سے بہادرانہ فیصلہ بی ایل اے کے سرمچاروں کا کوئٹہ اور نوشکی کے شہروں میں داخل ہونا تھا۔ کوئٹہ شہر کے اندر سینکڑوں سرمچاروں کا داخل ہونا اور ریڈ زون تک رسائی جہاں حکومت کا تمام ڈھانچہ موجود ہے، نے دشمن کے تمام اہلکاروں، وزرا اور نمائندوں کو کینٹ تک محدود کردیا۔ ایسے مناظر اس سے قبل ہمیں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے دوران دیکھنے کو ملے تھے، جب کسی مسلح تنظیم نے ریاست کے اہم شہروں میں داخل ہو کر وسیع سطح کے حملے کیے تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ تھا جب بنگلادیش کی آزادی کے بعد کسی مسلح تنظیم نے اس قدر قوت اور منظم طاقت کا مظاہرہ کیا تھا، اتنے بڑے شہروں میں داخل ہو کر دشمن کے کیمپوں، کینٹوں اور پولیس چوکیوں پر حملے کیے تھے۔
بلوچ خواتین کی ان حملوں میں شمولیت نے دشمن کو ذہنی طور پر مفلوج کردیا اور عوام کو یہ پیغام دیا کہ بلوچ قومی تحریک میں تمام جنس برابر ہیں۔ خواتین کمانڈوز کا فرنٹ لائن پر دشمن کے ساتھ دو بدو لڑائی میں حصہ لینا بلوچ خواتین کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوا — کہ وہ بھی اس جنگ کا فعال حصہ بن سکتی ہیں۔ پسنی کے مقام پر بزرگ فدائی ناکو فضل کا کردار بھی نہایت اہم تھا، جنہوں نے 70 سال کی عمر میں فدائی حملہ سرانجام دیا۔ اسی طرح ہتم ناز بی بی نے بھی بلوچ جنگی تاریخ میں ایک الگ مقام حاصل کیا، جب انہوں نے 60 سال کی عمر میں فدائی کارروائی میں حصہ لیا۔
یہ حملے صرف فدائی حملے یا محدود آپریشن نہیں تھے جہاں چند ساتھی دشمن کو انگیج کرکے شہادت تک لڑتے رہیں، بلکہ یہ ہزاروں سرمچاروں پر مشتمل ایک وسیع آپریشن تھا، جنہوں نے شہروں میں داخل ہوکر دشمن کے انتظامی ڈھانچے کو مکمل طور پر مفلوج کیا اور پھر بحفاظت اپنے محفوظ مقامات تک پہنچ گئے۔ اس لحاظ سے یہ اپنی نوعیت کا ایک جامع، طاقتور اور منظم مظاہرہ تھا۔ آپریشن ہیروف کو ایک زاویے سے نہیں سمجھا جاسکتا، بلکہ یہ کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ اس آپریشن نے جہاں جنگی محاذ پر بہادری، دلیری اور ناقابلِ شکست جذبے کا اظہار کیا، وہیں بلوچ جنگ کے معیار، طریقہ کار، حکمتِ عملی، تنظیم اور مستقبل کے حوالے سے بھی نئے نکات کو جنم دیا۔
آپریشن ہیروف فیز ٹو میں طاقت کا مظاہرہ
بلوچ جنگ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے، لیکن یہ زیادہ تر گوریلا طرز پر اور محدود سطح پر لڑی گئی ہے۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں کسی چوکی پر حملہ یا شہروں کے اندر کبھی کبھار گرنیڈ حملے، یہی اس جنگ کی عام نوعیت رہی ہے۔ 2018 میں ریحان جان کے فدائی حملے کے بعد فدائی مشنوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جن میں مخصوص فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 2019 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر بی ایل اے کے حملے نے پہلی مرتبہ بلوچ جنگ کو کسی حد تک عالمی میڈیا میں جگہ دی۔ تاہم میڈیا میں موجودگی اور طاقت کے مظاہرے میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ بی ایل اے اور دیگر بلوچ آزادی پسند تنظیموں کے چین مخالف حملوں نے بلوچ تحریک کو دنیا کے سامنے ضرور نمایاں کیا، لیکن خطے کی پاور پالیٹکس کے تناظر میں بلوچ قومی تحریک کو اب تک کسی مؤثر قوت کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔
جب بھی بلوچ تنظیموں کی جانب سے ایسی مسلح کارروائیاں کی گئیں، انہیں Low-Level Insurgency کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس حد تک ایک سوچ موجود رہی کہ یہاں ایک انسرجنسی موجود ہے، لیکن یہ حملے بلوچ انسرجنسی یا جنگ کو دنیا میں ثابت پیش کرنے کا سبب بنتے رہے ہیں، البتہ اس کی طاقت کا عملی مظاہرہ اور طاقت کے تناظر میں پہلے کبھی بلوچ جنگ کو دیکھا نہیں گیا۔ آپریشن ہیروف فیز ٹو نے پہلی مرتبہ دنیا کو بلوچ قومی طاقت سے آشنا کر دیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بلوچ جنگ کو پاور پالیٹکس کے تناظر میں زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے، اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دنیا ہمیں طاقت کے تناظر میں دیکھ رہی ہے، جو یقیناً ہیروف فیز ٹو کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
کسی جنگ کے حوالے سے آگاہی، علم اور بنیادی تعلیم ایک الگ بات ہے۔ دنیا میں اکثر ایسی انسرجنسیوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ جنگیں اپنی نوعیت میں موجود تو ہوتی ہیں مگر طاقت کے تناظر میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، اور ریاستیں ایسی جنگوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسی کئی مسلح تنظیمیں اور شورشیں جنم لیتی ہیں اور ریاستیں پھر انہیں کسی نہ کسی طرح کنٹرول کرکے ختم کر دیتی ہیں۔ اس طرح کی انسرجنسی بھارت سمیت ترقی پذیر ممالک میں وسیع پیمانے پر موجود رہی ہیں، اور وقتاً فوقتاً ان کا جنم ہوتا آ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی ایسی تنظیمیں آتی جاتی رہیں گی، لیکن طاقت کے تناظر میں انہیں بڑی قوتیں نہیں سمجھتیں۔
ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، جیسے ہندوستان میں کشمیر اور مدھیہ پردیش، یا اسپین کی باسک تحریک، جو کئی دہائیوں سے موجود ہے، لیکن اسپین کی سیاسی اور طاقت کی ساخت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اسی طرح فرانس میں FLNC یا دیگر ایسے گروپس ہوں، فلپائن میں New People’s Army جیسی مسلح تنظیمیں ہوں، یا ایران کے کردش ریجن میں موجود مسلح تنظیمیں ہوں — ایسے چھوٹے پیمانے پر مسلح گروہ دنیا بھر کی بڑی ریاستوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ممالک میں ایسے چھوٹے گروپس موجود ہوتے ہیں، یا جب کسی علاقے میں جنگ ہوتی ہے تو ایسے مسلح گروہوں کا ظہور پذیر ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی، لیکن یہ طاقتور نہیں ہوتے اور کسی بڑے بدلی یا انقلاب کا سبب نہیں بنتے۔ یہ علاقائی طور پر ابھرتے ہیں، چند علاقوں کو انسرجنسی سے متاثر کرتے ہیں، ریاست ان سے آگاہ ہوتی ہے — کہیں ان کے چند مطالبات قبول کرکے انہیں پسپا کیا جاتا ہے، تو کہیں طاقت کا استعمال کرکے ریاست ایسی مسلح تنظیموں اور تحریکوں کو ختم کرتی ہے۔ چاہے وہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، چند افراد پر مشتمل ایسی تنظیمیں چھوٹی موٹی گوریلا کارروائیوں کے ذریعے یا تو اپنی بات دنیا کے سامنے رکھتی ہیں، یا اپنی ہی قوم یا ریاست کے لوگوں کو اپنے مسائل کی حقیقت سے آگاہ کرتی ہیں، لیکن یہ تنظیمیں طاقت کے زمرے میں نہیں آتیں۔
جس طرح ہر ریاست طاقتور ریاست نہیں ہوتی، اور پاور پالیٹکس میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، اسی طرح ہر مسلح تنظیم یا تحریک کو بھی طاقت یا پاور کے زمرے میں نہیں دیکھا جاتا۔ موجودگی کا مطلب طاقت نہیں ہوتا، بلکہ طاقت اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا نام ہے۔ آج امریکہ ایک طاقتور ریاست ہے، لیکن یہ محض الفاظ یا باتوں کی حد تک نہیں، بلکہ عملی صورت میں ہے۔ آج دنیا میں جتنے بھی بڑے معاملات ہیں، یا جہاں کہیں بھی کوئی ایشو ہو، امریکہ اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کر سکتا ہے۔ لازمی نہیں کہ یہ طاقت صرف فوجی ہو، بلکہ وہ اپنی سیاسی، سفارتی، میڈیا یا کسی بھی نوعیت کی طاقت استعمال کرتے ہوئے کسی بھی معاملے میں اثرانداز ہو سکتا ہے۔
آج اگر ہم اسرائیل کو پاور پالیٹکس کے تناظر میں دیکھیں، یا روس اور چین کو پاور پالیٹکس کے تناظر میں ڈسکس کریں، یا ایران کو اس دائرے میں شامل کریں، تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ ممالک عالمی سیاست میں صرف موجود ایکٹر نہیں ہیں، بلکہ وہ عملی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اپنے اردگرد، خطے یا عالمی نظام پر اثرانداز ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ فوجی طاقت کا مظاہرہ ہو یا سیاسی اثر و رسوخ، معاشی طاقت یا ترقی — یہ ہر مقام پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جب امریکہ تائیوان کے معاملے میں چین کو وارن کرتا ہے کہ “اگر آپ نے طاقت کا استعمال کیا تو ہم تائیوان کے ساتھ لڑیں گے”، تو اسی خوف کے باعث اب تک چین تائیوان کو چین میں ضم کرنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال سے گریز کرتا آ رہا ہے۔ اسی طرح اگر آج اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر دھمکی دیتا ہے تو وہ عملی طور پر ایسا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اسرائیل ایران کو حملوں میں نشانہ بنانے اور اس کے کسی بھی ایسے پروگرام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسرائیل نے اب تک شام، ایران سمیت کسی بھی ایسے ملک کو، جو اسرائیل کی سالمیت کے خلاف سمجھا جاتا ہے، جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے رکھا ہے، اور اس مقصد کے لیے اس نے براہِ راست ایران، شمالی کوریا سمیت کسی بھی ایسے ملک پر حملے کیے ہیں جنہیں وہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے۔
اسی طرح آج اگر ایران کو خطے میں ایک طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ بھی اس کا عملی مظاہرہ ہے جو اس نے خطے میں کر کے دکھایا ہے۔ طاقت ایسی چیز نہیں کہ جس کے بارے میں آپ خود بات کریں یا کسی ملک، ریاست یا ادارے کی بیساکھیوں پر چلتے ہوئے انہی کے سہارے زندہ رہیں۔ طاقت کا فلسفہ یہ بھی نہیں کہ آپ نے محض کوئی کارروائی سرانجام دی، یعنی کسی مقام یا جگہ پر حملہ کر دیا۔ بلکہ طاقت کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ ہر پیراڈائم پر پورا اترتے ہیں اور دنیا آپ کی طاقت کو تسلیم کرنا شروع کر دیتی ہے۔ طاقت قبولیت سے جنم لیتی ہے۔ جب کوئی ریاست، خطہ یا لوگ آپ کی طاقت کو قبول کر لیں، آپ کے اثر کو تسلیم کریں، آپ کی موجودگی کو مانیں، تب ہی آپ کو ایک طاقتور کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
آج اگر حزب اللہ اپنے خطے میں ایک طاقت کے طور پر موجود ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نے مختلف مواقع پر اپنی طاقت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ کئی علاقوں میں اس نے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے اور دکھایا ہے کہ وہ کس حد تک طاقتور ہے۔ آج حزب اللہ کے ساتھ امریکہ سمیت اسرائیل بھی مختلف اوقات میں مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہے، اور حزب اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدوں اور کمٹمنٹس پر عمل درآمد بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کی طاقت کا مرکزی محور یہی ہے کہ انہوں نے فوجی معاملات سے لے کر گورننس تک، تنظیمی و آپریشنل صلاحیتوں سے لے کر کمانڈ اینڈ چین تک ایک مضبوط اور طاقتور تنظیم کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ یہی نوعیت ہمیں حماس کے معاملے میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے کہ مختلف اوقات میں امریکہ جیسی بڑی طاقتیں بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرتی ہیں، کیونکہ حماس نے بھی عملی طور پر اپنی حیثیت ثابت کی ہے۔
حزب اللہ ہو یا حماس، دونوں نے اسرائیل جیسی ریاست کے خلاف لڑ کر، اس کے مقابل کھڑے ہو کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ محض ایک گروہ نہیں بلکہ ایک منظم قوت ہیں۔ لبنان میں خانہ جنگی کے دوران حزب اللہ نے صرف فوجی طاقت ہی نہیں دکھائی بلکہ یہ صلاحیت بھی ثابت کی کہ وہ مذاکرات کر سکتی ہے، الیکشن لڑ سکتی ہے اور پارلیمنٹ میں بیٹھ کر سیاست کر سکتی ہے۔ اسی طرح حماس نے غزہ میں الفتح کو شکست دے کر الیکشن جیتے اور اپنی حکومت قائم کی۔ یعنی یہ مسلح تنظیمیں صرف فوجی کارروائی کی حد تک نہیں بلکہ طاقت کے ہر ڈھانچے میں اترنے کی صلاحیت اور مہارت رکھتی ہیں۔
طاقت صرف فوجی کارروائی کا نام نہیں ہوتی بلکہ تنظیمی ڈھانچہ، قیادت، جنگجوؤں کا رویہ، گورننس کے حوالے سے شعور، تعلیم اور ایک ذمہ دار تنظیم کی حیثیت سے برتاؤ — یہ سب مل کر ہی طاقت بنتے ہیں۔ آپریشن ہیروف میں بی ایل اے نے انہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عملی طور پر ایک طاقتور قوت کے طور پر خود کو منوانے کا عملی نمونہ پیش کیا۔ ایک طاقتور قوت کے پاس یہ تمام صلاحیتیں اور مہارتیں موجود ہوتی ہیں۔ وہ جہاں فوجی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہیں مذاکرات کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔ وہ عوام کو اپنے ساتھ رکھنے، ان کی حمایت سے جدوجہد، رائے سازی، بیانیے کی تشکیل، فوجی طاقت کے مظاہرے، گورننس کی صلاحیت اور مؤثر قیادت — یہ سب مل کر ایک طاقت کی بنیاد رکھتے ہیں جو دنیا کے انٹیلی جنشیا، ریاستوں، عالمی آرڈر، خطے کی ریاستوں اور عوام کے لیے قابل قبول ہوتی ہے۔ جب کوئی تنظیم یا ریاست ان تمام پہلوؤں میں اپنی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرتی ہے، تب ہی اسے ایک طاقتور قوت کے طور پر سمجھا اور جانا جاتا ہے۔
کہنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ پاور پالیٹکس کی باتیں کرنا اور اس کا عملی مظاہرہ کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ بی ایل اے نے آپریشن ہیروف میں طاقت کا محض اظہار نہیں کیا، اور نہ ہی یہ صرف بلوچ جنگ کے حوالے سے دنیا کو آگاہی دینے کی کوشش تھی۔ ماضی میں چینی قونصل خانے پر حملہ، گوادر پی سی ہوٹل پر حملہ، یا حتیٰ کہ گنجل آپریشن بھی، طاقت کے عملی مظاہرے کے بجائے طاقت کے اظہار اور اپنی بات ریاست، اپنے عوام اور دنیا تک پہنچانے کی حد تک تھے۔ تاہم آپریشن ہیروف فیز ٹو پہلی مرتبہ بلوچ طاقت کے عملی مظاہرے کا سبب بنا ہے۔ بلوچ قومی تحریک میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ بلوچوں نے اپنی طاقت، یعنی اپنے اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا واضح اور عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ بی ایل اے کا یہ آپریشن محض مزاحمت کی علامت، اپنے عوام کو بلوچ جنگ کے حوالے سے آگاہ کرنے کی کوشش یا پاکستان یا کسی اور ملک کو یہ باور کرانے کی کوشش نہیں تھی کہ وہ بلوچ مسلح تنظیم یا بلوچ جنگ کو سنجیدگی سے لیں، بلکہ یہ دنیا کو اپنی طاقت کا عملی مظاہرہ تھا اور دشمن اور اپنے عوام کو یہ ثابت کرایا کہ بلوچ جنگ ایک طاقت ہے اور اس میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ کل کو یہ پورے بلوچستان پر قبضہ کر پائے۔
یہ مظاہرہ عملی طور پر علاقوں پر قبضہ کرنے، انہیں سنبھالنے اور ان کے انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کی ایک طاقتور کوشش کی صورت میں سامنے آیا۔ اس دوران دشمن کو بھرپور حملوں میں نشانہ بنایا گیا، سرمچاروں کے درمیان نظم و ضبط کا بہترین مظاہرہ کیا گیا، میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال کیا گیا، قیادت کی عملی سطح پر اپنے ساتھیوں کے درمیان موجودگی نظر آئی، عوام کو اپنے ساتھ رکھا گیا اور جنگ کے دوران انہیں کسی بھی نقصان سے دور رکھنے اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کی صلاحیت کا اظہار کیا گیا۔ ان تمام عوامل نے یہ ثابت کیا کہ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ طاقت کا عملی مظاہرہ تھا۔ دنیا نے اب اس حقیقت کو دیکھ لیا ہے کہ بلوچ جنگ کوئی محض مزاحمت کی علامت، اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے آواز، یا دشمن کے جبر کے ردِعمل تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک سنجیدہ اور طاقتور قوت ہے جو اپنے ریجن، اپنی زمین اور اس خطے میں ایک مؤثر طاقت کے طور پر موجود رہ سکتی ہے اور معاملات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
جس طرح ویتنام کی جنگ میں، جب مزاحمت اپنی انتہا کو پہنچی، تو دشمن پر سنگین حملوں کی صورت میں طاقت کا عملی مظاہرہ کیا گیا، جب طالبان طاقتور ہوئے تو انہوں نے ان علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا جنہیں بعدازاں وہ سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی رویہ ہمیں حزب اللہ کی طرف بھی دیکھنے کو ملا کہ انہوں نے لبنان کے مغربی علاقوں میں اپنا کنٹرول قائم کیا اور وہاں اپنا نظام قائم کر دیا۔ اسی طرح جب کوئی قوت محض مزاحمت کی علامت کے بجائے سنجیدہ اور عملی کوششوں کے ذریعے دشمن پر اثرانداز ہونے یا اس کی طاقت کو عملی طور پر ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے ایک سنجیدہ پلیئر کے طور پر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں ہمیں آج مشرقِ وسطیٰ میں شام میں YPG، لبنان میں حزب اللہ، اور اسرائیل کے تناظر میں حماس اور دیگر مسلح تنظیموں کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ حزب اللہ کی بنیاد 1982 میں اسرائیلی قبضے کے دوران پڑی، اور اس نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی، لیکن 2006 کی اسرائیل-لبنان جنگ کے دوران حزب اللہ نے خطے میں ایک طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کی اور ایک سنجیدہ پلیئر کے طور پر سامنے آیا۔ بعدازاں انہوں نے لبنان کے اندرونی معاملات میں پوری طرح مؤثر کردار ادا کیا۔ آج لبنان میں لبنانی حکومت اور فوج سے زیادہ حزب اللہ کو طاقتور سمجھا جاتا ہے، اور دنیا کی بڑی سے بڑی ریاستیں مختلف معاملات میں حزب اللہ کے ساتھ ڈیل کرتی ہیں۔ اسرائیلی ریجن میں آج کسی بھی معاملے میں حزب اللہ کی طاقت اور پوزیشن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح کچھ تنظیمیں اس حد تک طاقتور ہو چکی ہیں کہ انہوں نے اپنے ممالک میں اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے۔
حالیہ ہیروف فیز ٹو کے بعد بی ایل اے بلوچستان کے اندر ایک ایسی عسکری و سیاسی قوت اور طاقت بن چکی ہے جس کے سامنے کوئی رکاوٹ یا اس سے بڑی کوئی طاقت و قوت موجود نہیں۔ بلوچ جنگی سطح پر موجود قوت براس کی صورت میں بی ایل اے کے ساتھ پہلے سے ہی اتحادی کے طور پر موجود ہے، جبکہ گراؤنڈ کی سطح پر اس وقت کوئی ایسی سیاسی، سماجی گروہ یا طبقہ نہیں جو اس قیادت، ان کے جنگجوؤں اور سرمچاروں کی موجودگی سے ناخوش یا ان کے خلاف ہو۔ صلاحیت اور مہارت کے لحاظ سے بھی دیکھیں تو ہیروف فیز ٹو کے دوران صرف جنگی نہیں بلکہ تنظیمی، سیاسی، میڈیا اور انتظامی ہر مقام پر بی ایل اے کے سرمچاروں نے اپنی بہترین مہارت کا مظاہرہ کیا، جو یقیناً اسے سب سے طاقتور قوت کے طور پر ثابت کرتا ہے۔ آپریشن ہیروف نے بلوچ قوم، ریجن، دشمن اور دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ بی ایل اے اور بالعموم بلوچ جنگ پاکستان اور خطے میں کوئی محض مزاحمتی تنظیم یا بلوچ عوام کے مسائل اجاگر کرنے والی تحریک نہیں، بلکہ وہ ایک ریاست بنانے کے لیے عملی طاقت، تنظیم، حکمتِ عملی، قوت، عوامی حمایت، قیادت، افرادی قوت، تربیت یافتہ جنگجو اور سینکڑوں فدائی حملوں کے لیے تیار صلاحیت رکھتی ہے۔ آپریشن ہیروف فیز ٹو صرف مزاحمت کی علامت نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے، اور اپنے ریجن اور پاکستان کے معاملات میں ایک سنجیدہ قوت کے طور پر موجود ہے۔
آپریشن ہیروف نے اپنی جنگی طاقت اور قوت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ بلوچ جنگ کو پاور پالیٹکس کے تناظر میں ایک طاقت کے طور پر خطے میں ایک پلیئر کی حیثیت سے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ہیروف میں طاقت کے عملی مظاہرے کی انتہا کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب جنگ جاری تھی تو دشمن اسے قبضے کے آخری معرکے کے طور پر دیکھ رہا تھا اور کسی مؤثر جوابی ردِعمل کے بجائے مکمل طور پر دفاعی پوزیشن اختیار کر چکا تھا۔ دشمن کے تمام وزرا اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بلوچ جنگ کے خلاف کھل کر بولنے سے خوف زدہ نظر آ رہے تھے۔ خطے میں مختلف ممالک کے لوگ، سیاسی رہنما اور انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ افراد بلوچ جنگ کے حوالے سے اپنی اپنی وابستگیاں ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اور بیشتر حلقے اس طاقت کو سامنے رکھتے ہوئے بلوچ سرحدوں کی نئی لکیریں کھینچنے اور ایک آزاد بلوچ ریاست کے عملی امکانات پر غور کر رہے تھے کہ ایسی ریاست کس طرح وجود میں آ سکتی ہے۔
قابض پاکستان کی قومی اسمبلی میں بلوچ جنگ کے حوالے سے وزیرِ دفاع سے لے کر دیگر اہم عہدیداروں تک نے بے بسی کا اظہار کیا۔ خطے کی مختلف مسلح تنظیموں سے لے کر حتیٰ کہ کئی ممالک کے سرکاری حلقے بھی بی ایل اے کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔ طاقت کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ مختلف فریق آپ کو اپنا سمجھنے لگتے ہیں، آپ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور آپ سے اپنی وابستگیوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ہیروف اب محض ایک خبر نہیں رہا بلکہ ایک بحث بن چکا ہے۔ خطے کے اداروں، ٹاک شوز، سوشل میڈیا اور تقریباً ہر پلیٹ فارم پر ہیروف کے تناظر میں بلوچ طاقت اور قوت پر گفتگو ہو رہی ہے۔ کوئی بلوچ جنگجوؤں کی تعداد پر بات کر رہا ہے، کوئی قیادت پر، اور کوئی ایک آزاد بلوچ ریاست کے خطے پر ممکنہ اثرات پر بحث کر رہا ہے۔ کسی نہ کسی صورت یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بلوچ جنگ بلوچستان سے نکل کر پورے خطے میں ایک بحث بن چکی ہے، اور بلوچستان کے تناظر میں بی ایل اے اب محض ایک موضوعِ بحث نہیں بلکہ ایک طاقتور قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہی ہیروف کی کامیابی اور اس کی انتہا کی علامت ہے۔
آپریشن ہیروف کے عالمی اثرات
آپریشن ہیروف نے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی پہلی مرتبہ بلوچ طاقت اور جنگ کو پہچان اور نشانی دی ہے کہ بلوچ قوم اپنی ریاست کے معاملے میں کس حد تک سنجیدہ اور مخلص ہے۔ وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور نہ صرف اس کی خواہش رکھتے ہیں بلکہ ان کے پاس قیادت، تنظیم، عوام، صلاحیت اور مہارت موجود ہے تاکہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اگر بلوچ جنگ نے کسی عملی مدد کے بغیر ہیروف کے ذریعے اپنی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کیا ہے، تو اگر بی ایل اے کو عالمی سطح پر سپورٹ اور مدد مل جاتی ہے، اور انہیں وہی شناخت دی جاتی ہے جو بلوچ جنگ کو ملنی چاہیے، تو اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ بی ایل اے کو لے کر پہلے ہر ریاست اس سے خود کو الگ کرنا چاہتی تھی، لیکن یہ پہلی مرتبہ تھا کہ ریاستیں بی ایل اے سے الگ ہونے کے بجائے اس کے ساتھ اپنی وابستگیوں کا اظہار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے اس کے طاقتور ہونے کی نشانی واضح ہوتی ہے۔ جو میڈیا پہلے بلوچ جنگ کو ایک low-level insurgency کے طور پر دنیا میں پیش کرتا تھا، اب اپنے الفاظ بدل چکا ہے۔ بی بی سی ورلڈ سے لے کر رائٹرز تک سب بلوچ جنگ کو ایک الگ نوعیت میں کوریج دے رہے ہیں، اس پر تجزیہ کر رہے ہیں، اور پہلی مرتبہ بلوچ جنگ کی آزادی، یعنی ریاست بنانے کے مطالبے کو زیرِ بحث لا رہے ہیں۔
پاکستان کی ناخوشی کے باوجود، قطر کی اسٹیٹ ایجنسی الجزیرہ بلوچ جنگجوؤں کو دہشت گرد یا مسلح تنظیموں کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں علیحدگی پسند کے طور پر دیکھ رہی ہے اور رپورٹنگ کر رہی ہے۔ یورپی میڈیا بھی اب بلوچ جنگجوؤں کو علیحدگی پسند، یعنی اپنی ریاست بنانے کے حامی جہدکاروں کے طور پر ظاہر کر رہا ہے۔ رائٹرز نے بی ایل اے کو خطے کی سب سے مضبوط تنظیم قرار دیا تھا، یہ یقیناً عام الفاظ کا چناؤ نہیں ہے، اور یہ کوئی عام میڈیا ادارہ نہیں بلکہ دنیا کی معتبر ترین نیوز ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ یعنی اب دنیا خود خطے میں بی ایل اے کو سب سے مؤثر اور طاقتور ترین مسلح تنظیم کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ بی ایل اے نے طاقت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے خطے کے تمام ممالک، ایجنسیوں اور ریاستوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ اس خطے میں کوئی بھی سنجیدہ فیصلہ، عمل یا کردار ہمارے کردار اور موجودگی کو نظرانداز کرکے کرنا غلط فہمی ہو سکتا ہے۔ بیرک گولڈ نے جب بلوچستان میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا تو بلوچ قوم اور مسلح تنظیموں و قیادت نے بیرک گولڈ کو بلوچستان سے اپنی سرمایہ کاری نکالنے اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کرنے کا کہا تھا، لیکن بیرک گولڈ مسلسل ان دھمکیوں کو نظرانداز کرتا آیا تھا۔ تاہم، آپریشن ہیروف کے دوران، بیرک گولڈ نے اپنے ایک اجلاس میں اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی طرح ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان مسلسل اقوامِ متحدہ میں یہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر ثابت کرے، لیکن ایک وسیع مزاحمت اور طاقت کے اظہار کے باوجود دنیا پاکستان اور چین کی ان مشترکہ کوششوں کو مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان خود کو ایک طاقتور ملک اور بھارت کے مقابلے کی بات کرتا ہے، اور اقوامِ متحدہ میں مسلسل بی ایل اے کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست دے رہا ہے، لیکن یہ اس بات کا واضح اظہار ہے کہ وہ گراؤنڈ میں شکست کا سامنا کر رہا ہے اور عالمی اداروں سے چاہتا ہے کہ وہ بی ایل اے کو کنٹرول کرنے کے لیے کام کریں۔ پاکستان کی مسلسل کوششوں کے بعد، پاکستان میں موجود چند ممالک کے سفارت خانوں کی جانب سے آپریشن ہیروف کے حوالے سے مذمتی بیانات سامنے آئے۔ یہ بیانات پاکستان کے اندر موجود سفارت خانوں کے لیے ایک حد تک معمول کی سفارتی کارروائی سمجھے جا سکتے ہیں، تاہم عالمی سطح پر کسی بھی نمایاں رہنما یا ریاستی لیڈر کی جانب سے ان حملوں کے حوالے سے براہِ راست کوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا، اور نہ ہی کسی ملک کے عوام کی طرف سے ان حملوں پر پاکستان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی دیکھنے میں آیا۔ پاکستان کے اندر موجود سفارت خانوں کے رسمی مذمتی بیانات سے ہٹ کر اگر مجموعی منظرنامہ دیکھا جائے تو ان حملوں کے بعد بی ایل اے کو سوشل میڈیا پر قابلِ ذکر عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ کسی بھی خطے کے عوام کی جانب سے بلوچ قوم یا بی ایل اے کو اجتماعی طور پر نشانہ بناتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، بلکہ اس کے برعکس خلیجی عرب میڈیا اور یورپی ممالک کے میڈیا میں بلوچ جنگ کے حوالے سے نسبتاً مثبت رپورٹنگ سامنے آئی۔ اسی طرح بھارت اور افغانستان کی قومی اور عوامی سطح کی میڈیا میں بھی ان حملوں کے حوالے سے واضح حمایت دیکھنے کو ملی۔ ان تمام عوامل سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی سطح پر بیانیے کے دائرے میں پاکستان اور اس کی فوج کے مقابلے میں بلوچ جنگ کو زیادہ توجہ، ہمدردی اور قبولیت مل رہی ہے۔
آپریشن ہیروف فیز ٹو کی آرگنائزیشنل اپروچ
جب آپریشن ہیروف 2024 میں پہلی مرتبہ ہوا تھا تو اس وقت بی ایل اے نے پہلی بار دنیا کے سامنے اپنی تنظیمی قوت اور طاقت کا اظہار کیا اور یہ ثابت کیا کہ بلوچ جنگ کوئی محض شورش، دشمن کے جبر کا ردِعمل، یا غیر شعوری فیصلوں پر مبنی کارروائی نہیں، بلکہ ایک آرگنائز تحریک ہے جو جنگ کے اصول، ضوابط، طریقۂ کار، جنگی حکمتِ عملی اور منظم و مربوط حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آپریشن ہیروف بلا شبہ ایک کامیاب آپریشن تھا، اور اس نے پہلی مرتبہ دشمن کو یہ احساس دلایا کہ بلوچ جنگ ایک آرگنائز تحریک ہے، جس کی قیادت باصلاحیت، باعلم اور جنگ و جنگی طریقۂ کار سے مکمل طور پر آشنا ہے۔ ایک ہی وقت میں کئی علاقوں میں coordinated حملوں کے ذریعے تنظیمی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا گیا، مختلف علاقوں سے بیک وقت حملوں نے تنظیم کے اندر موجود مرکزی ڈھانچے کی مضبوطی کو ظاہر کیا، اور دشمن کو ایک ہی وقت میں کئی مقامات پر انگیج کر کے اس کی کسی بھی ممکنہ calculated جوابی کارروائی کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا گیا۔
آپریشن ہیروف نے بلوچ تحریک کے اندرونی سطح پر ایک اعلیٰ جنگی صلاحیت کا اظہار کیا اور دشمن کو بیک وقت حملوں کے ذریعے اپنی طاقت اور تنظیمی اہلیت کا واضح پیغام دیا۔ تاہم، اپنی کامیابیوں کے باوجود، آپریشن ہیروف اوّل عالمی اور علاقائی سطح پر بڑے پیمانے کے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت سے محروم رہا۔ یہ زیادہ تر طاقت کا اظہار تھا، اور اندرونی سطح پر دشمن کو ایک منظم اور واضح پیغام پہنچایا گیا، جس کے بعد دشمن نے اپنی جنگی حکمتِ عملی میں مختلف نوعیت کی بڑی تبدیلیاں کیں۔
آپریشن ہیروف ٹو نے صرف تنظیمی طاقت کا ہی اظہار نہیں کیا، بلکہ اس نے خطے کو اپنی طاقت کا ایک واضح پیغام دیا ہے کہ بی ایل اے اور بالعموم بلوچ جنگ اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس نے چین اور دنیا کو ایک واضح پیغام پہنچایا کہ بی ایل اے صرف اندرونی سطح پر طاقت ور نہیں بلکہ بلوچ جنگ کی مرضی اور منشا کے بغیر بلوچستان کے خطے میں کسی بھی نوعیت کی طاقت غالب نہیں رہ سکتی۔ جنگ میں بلوچ جنگجوؤں نے جس مہارت سے دشمن کی طرف پیش قدمی کی، جس طرح انہوں نے سینکڑوں سرمچاروں کو مختلف شہروں کے علاقوں میں بھیج کر بہترین coordination برقرار رکھی، اور جس طرح انہوں نے اپنے یونٹس کی تشکیل کی اور فدائی ساتھیوں کے ساتھ آگے پیش قدمی کی، یہ سب ایک مثالی تنظیمی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ انہوں نے warfare کے بنیادی اصولوں اور ضوابط کی سختی سے پابندی کی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ٹائمنگ کا بھی بہترین انتخاب کیا، یعنی ایسے وقت دشمن پر حملہ کرنا جب وہ اس کا گمان بھی نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی اسے کسی بھی طرح اندازہ تھا۔ جنگجوؤں کی آپریشنل قیادت، اپنے ذمہ داران کے ساتھ مسلسل رابطہ، انہیں حالات کے حوالے سے بروقت اپ ڈیٹ دینا، اور فرنٹ لائن پر کمانڈرز کا اپنے ساتھیوں کی قیادت کرنا، یہ سب کچھ تنظیمی طاقت اور اعلیٰ کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مظہر تھا۔ اسی دوران، عوام کا خیال رکھنے کی صلاحیت، انہیں جنگ کے دوران کسی بھی تکلیف سے بچانا، جنگجوؤں کی بہترین فارمیشن کا انتظام، اہداف کو نشانہ بنانا، عوام کے ساتھ مل کر ان کی تربیت کرنا، اور جنگ کے دوران نئے جنگجوؤں کو بھرتی کرنا، یہ سب تنظیمی مہارت کی گہرائیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، زخمی جنگجوؤں کا خیال رکھنا اور انہیں فوراً فرسٹ ایڈ کی سہولت فراہم کرنا، ان کے لیے محفوظ مقامات کی تلاش کرنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا، یہ سب ایک بہترین تنظیم کی نشانیاں ہیں۔ اتنے بڑے حملے کے باوجود، سینکڑوں جنگجوؤں کے درمیان تنظیمی فارمیشن کا خیال رکھنا اور انہیں ٹوٹنے نہ دینا، یہ بھی ایک نیا معیار تھا۔
اس نوعیت کے حملوں میں عام طور پر عوامی casualties کا سامنا ہوتا ہے، مگر جنگجوؤں کی جانب سے عوام کو کسی بھی نقصان سے بچانے کی جو مہارت اور صلاحیت ظاہر کی گئی، یہ محض اتفاق نہیں بلکہ تنظیمی طاقت اور آپریشنل مہارت کا مظہر تھا۔ یہ عمل کمانڈ اینڈ چین کے درمیان موجود بہترین understanding، آپریشنل صلاحیت اور عملی نمونہ تھا۔ جب کوئی تنظیم اندرونی طور پر طاقت ور نہیں ہوتی، اندرونی صلاحیت سے محروم رہتی ہے، تنظیمی فارمیشن میں کمزوری ہوتی ہے یا کمانڈ اینڈ چین کے درمیان رابطہ کاری اور coordination میں ناکامی ہوتی ہے تو وہ قوت کے طور پر تسلیم نہیں کی جاتی۔ اس کے برعکس، ایک مضبوط اور منظم تنظیم بہترین آپریشنل صلاحیت، جنگی مہارت اور strategic execution کی حامل ہوتی ہے، اور دنیا اس کا بغور جائزہ لیتی ہے۔ آپ ایک فوجی آپریشن سرانجام دے رہے ہوتے ہیں، لیکن اس کے دوران آپ کی تنظیمی صلاحیت اور مہارت ہی سب کچھ ظاہر کرتی ہے۔ یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ کی تنظیم کس حد تک مضبوط ہے، اس کی صلاحیتیں اور قوت کتنی شاندار ہیں۔
آپریشن ہیروف ٹو میں بی ایل اے نے صرف دشمن کو ہی نہیں، بلکہ اپنی تنظیمی طاقت اور آرگنائزیشنل صلاحیت کا بھی بھرپور عملی نمونہ پیش کیا ہے، جسے آپریشن کی کامیابی کے دوران کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے بڑے فوجی معرکوں کے باوجود کمانڈ اینڈ چین میں تمام یونٹس سے لے کر مرکزی سطح تک کسی بھی طرح کی دراڑ کی غیر موجودگی نے ایک طاقتور اور باصلاحیت قوت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی تحریکیں، خصوصاً مسلح تحریکیں، ایسی تنظیمی صلاحیت اور مہارت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں، وہی تنظیمیں ریاست کا قیام عمل میں لا سکتی ہیں کیونکہ ریاست کے قیام کے لیے ایک بہترین کمانڈ اینڈ چین پر مبنی تنظیم اور طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمزور تنظیمیں بڑی طاقتیں پیدا نہیں کر سکتیں، چاہے ان کے پاس کتنے بھی لوگ اور کتنی بھی تعداد ہو، یا چاہے ان کے پاس کتنے بھی وسائل موجود ہوں۔ لیکن مضبوط تنظیم، مضبوط آپریشن اور مضبوط ریاست کا قیام عمل میں لا سکتی ہے۔ ہیروف ٹو میں بی ایل اے نے بلوچ قوم کو ایک ایسی عسکری قوت کا عملی نمونہ پیش کیا ہے جو صرف دشمن سے لڑنے کی صلاحیت نہیں بلکہ عوام کو سنبھالنے، ان کا خیال رکھنے، انہیں بہتر گورننس اور زندگی دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کا عملی مظاہرہ دنیا نے دیکھ لیا ہے۔
حرفِ آخر
کسی بھی تحریک، بڑے آپریشن یا بڑی قوت کے مظاہرے کے بعد سب سے اہم اور ضروری چیز یہ ہوتی ہے کہ آپ اس کے تسلسل کو کیسے برقرار رکھ پاتے ہیں، دشمن کے ردِعمل کا مناسب اندازہ لگانا، اپنی تنظیمی فارمیشن اور کمانڈ اینڈ چین کو مزید مضبوط بنائے رکھنا، اور آپریشن کی کامیابی کے بنیادی اصولوں کو کس حد تک calculate کر پاتے ہیں، یہ نہایت اہم ہوتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کے درمیان تنظیمی ہم آہنگی کو کیسے مضبوط رکھتے ہیں، کسی بھی خوش فہمی سے بچنا، اور دشمن اور اپنی طاقت کے درمیان توازن پیدا کرنا۔ طاقت کو قائم رکھنے اور اسے تسلسل میں تبدیل کرنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کے یہاں تک پہنچنے کے لیے بنیادی فلسفے، خیالات، عمل، طریقۂ کار کیا تھے، اور پھر انہی کو لے کر مزید اور بہترین فارمیشن سے آگے جانے سے ہی کامیابی مل سکتی ہے۔
کسی بھی جنگ کی کامیابی کے اصول یہی ہیں، وہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے آتے ہیں۔ آج بی ایل اے کی طاقت کا اصلی مظاہرہ میڈیا، دنیا یا عوام نے نہیں کیا، بلکہ اس کا مظاہرہ تنظیم کے اندرونی سطح پر ہوا ہے۔ یہ بات ثابت ہوئی کہ اس کی کمانڈ اینڈ چین اور تنظیمی فارمیشن کس حد تک مضبوط اور طاقت ور ہے۔ اور جتنی زیادہ یہ مضبوطی ہوگی، اتنے بڑے نوعیت کے حملے اور اتنی بڑی جنگ دشمن کے خلاف کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ فارمیشن، طاقت، مہارت اور صلاحیت دشمن سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئی، تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب بلوچ قوم اپنے عوام کے ساتھ مل کر دشمن کو ایسی شکست دے گی جس کا مظاہرہ تاریخ نے پہلے نہیں دیکھا۔ اس خیال میں رہنا کہ دنیا کی کوئی طاقت آ کر ہمیں ریاست بنا کر دے گی، یہ حمقوں کی دنیا میں رہنے والی بات ہوگی۔ آج تنظیم اور طاقت موجود ہے۔ بلوچ نوجوان آ کر اس کے اندر اپنی صلاحیت، مہارت، قابلیت اور قوت کا مظاہرہ کرے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہم ایک طاقتور قوم اور ریاست کی تشکیل کر سکتے ہیں، جسے شکست دینا یا اس کے مقابل کھڑا ہونا دنیا کی کسی بھی ریاست یا طاقت کے بس کی بات نہیں ہو گی۔
آج دنیا صرف ہمارے طاقت کے مظاہرے کو دیکھ رہی ہے، اس کا اندازہ لگا رہی ہے، اس پر تبصرے کر رہی ہے اور اس کی انتہا کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمیں اس طاقت کو ایک مستقل حقیقت کے طور پر قائم رکھنا اور اس کی مزید تشکیل کرنا ہے، تاکہ دنیا صرف اس کو نہ دیکھے، اس کا مشاہدہ نہ کرے اور اس پر تبصرے نہ کرے، بلکہ عملی طور پر اس کے ساتھ engage کرے۔ اس حد تک طاقت ور ہونے کے لیے ہمیں اپنی صفوں میں مزید محنت، مزید مہارت، صلاحیت اور طاقت پر کام کرنا ہوگا، تب جا کر ہم ایک ایسی مثالی قوت قائم کر سکتے ہیں، جب دنیا خود ہمارے ساتھ مستقل تعلقات رکھنے کے لیے کوششیں کرے۔ طاقت کا اصول یہی ہے کہ آپ اس حد تک طاقت ور ہو جائیں، اس حد تک اپنی تنظیمی، تحریکی، عوامی، قومی سوچ اور اپروچ میں طاقت کا مظاہرہ کریں کہ اس سے پہلے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہ ملے۔ تب آپ ایک حقیقت بن سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی طاقت کو اس مقام تک پہنچانا چاہیے کہ دنیا نہیں بلکہ دشمن بھی یہ حقیقت تسلیم کرے کہ اگر بلوچ قومی ریاست کی تشکیل کو قبول نہ کیا گیا، یا بلوچ ریاست کو نہیں بنایا گیا، تو یہ ہماری موجودگی کو مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں۔ ایسی طاقت اور قوت ہی ہمیں دنیا اور خطے میں ایک مضبوط مقام دلوا سکتی ہے۔ صرف دشمن نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک اور دنیا اس مقام تک آ جائیں کہ اگر بلوچ کی آزاد ریاست بحال نہ کی گئی تو اس خطے میں کوئی بھی ریاست، کوئی بھی سرمایہ کاری، کوئی بھی کاروبار، کوئی بھی معاشی سرگرمی جاری رکھنا ممکن نہیں۔
بلوچ نوجوانوں، بی ایل اے کے سرمچاروں اور قوم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ بلوچ قومی تحریک کے دنیا کی سطح پر طاقت ور ہونے کا آغاز ہے، یہ اختتام یا آخری لمحہ نہیں بلکہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہم گلوبل آرڈر اور خطے میں ایک طاقت ور قوت کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ اب ہمیں اس کو ایک حقیقت میں تبدیل کرنا، اس سے بڑھ کر طاقت ور ہونا، کمانڈ اینڈ چین میں مضبوطی، ساتھیوں کے درمیان مزید محنت، قوم کی مزید کوششیں، قومی اپروچ میں مزید میچورٹی کی ضرورت ہے۔ صرف اسی طرح طاقت ہی ایک ایسی قوت کا قیام عمل میں لا سکتی ہے جو بلوچ ریاست کی تشکیل کے عمل کو مکمل طور پر انجام تک پہنچا سکے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری کوئی بھی کمزوری، کوتاہی، ناسمجھی، غلط فہمی، calculation میں کمزوری یا خوش فہمی، ہمیں پچھلے سے کہیں زیادہ نقصانات سے دوچار کر سکتی ہے، اور تاریخ کے اوراق میں ہمیں ایک ایسی شکست کا سامنا ہوگا جس کی مثال پہلے نہیں ملے گی۔ جب آپ طاقت ور ہوں گے، تو آپ کی کامیابی و ناکامی کا معیار بھی اسی انتہا تک ہوگا۔ ہمیں ایک عظیم کامیابی نصیب ہوگی یا عظیم ناکامی سے دوچار ہوں گے، اس کا فیصلہ ہمارے عمل سے جڑا ہوا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔











































