آپریشن ھیروف کے اثرات – ٹی بی پی اداریہ

1

آپریشن ھیروف کے اثرات

ٹی بی پی اداریہ

اکتیس جنوری دو ہزار چھبیس کو آپریشن ھیروف کے مہلک اور وسیع عسکری مہم کے بعد بلوچستان کے حالات بدل چکے ہیں اور اس عسکری مہم کے بلوچ سماج پر دیرپا معاشی اور سیاسی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ریاستی ادارے باقاعدہ اعلانیہ اجتماعی سزا کے پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کا اظہار کررہے ہیں اور وہیں دوسری جانب بلوچ قوم پرست پارلیمانی جماعتیں ریاستی پالیسیوں کو بلوچستان اور پاکستان کے جبری رشتے کے خاتمے کی جانب پیش قدمی قرار دے رہے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے بدلتی حکمت عملیوں اور جنگی صلاحیت نے جہاں بلوچ سماج کو متاثر کیا ہے، وہیں اس کے اثرات سے واضح ہورہا ہے کہ بلوچستان میں عالمی کان کنی کے منصوبے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے اقتصادی منصوبوں کے جاری رہنے کے آثار بھی کم ہورہے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور چاغی میں کان کنی کے منصوبے پہلے ہی بلوچ مسلح اداروں کے حملوں کے زد پر ہیں اور اب آپریشن ھیروف کے بعد امریکہ، سعودی عرب اور دوسرے ممالک بھی بلوچستان میں سرمایہ کاری سے کترا رہے ہیں۔

بلوچستان کے اسمبلی میں مسلط کردہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا جذباتی اور مایوس کن اظہاریئے سے واضح ہے کہ وہ ریاستی رٹ کے جس بیانیہ کی سالوں سے ترویج کررہے تھے، بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ھیروف نے اس بیانیہ کی حقیقت کو دنیا کے سامنے ظاہر کرکے بلوچستان میں ریاستی رٹ برقرار ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ پاکستان کے ریاستی اداروں کی جانب سے بلوچ رہنماؤں کے گھروں کو دھماکے سے تباہ کرنے، جلانے اور ان کے والدین کو جبری گمشدہ کرنے جیسے اقدامات سے ریاستی اداروں کا اپنے رٹ کو طاقت کے زور پر بحال کرنے کی مضطرب کوشش ہے۔

پاکستان کے ریاستی اداروں نے ایک بیانیہ تشکیل دیا تھا کہ بلوچستان کے کچھ جذباتی نوجوان ہیں جنہیں ریڈیکلائزیڈ کیا گیا ہے۔ تاہم آپریشن ھیروف میں شامل فدائین اور مزاحمتکاروں میں بلوچ سماج کے مختلف پرتوں سے ہر عمر کے افراد کے شامل ہونے اور صنفی مساوات نے ریاستی بیانیہ کو زائل کردیا ہے اور دنیا کو پیغام دیا ہے کہ اس جدوجہد کے دوران لئے گئے فیصلے ریاستی پالیسیوں کا ردعمل نہیں ہیں بلکہ قومی آزادی کی حصول کے لئے شعوری فیصلے ہیں۔

آپریشن ھیروف کا عسکری مہم ایک کثیر الجہتی واقعہ ہے، اس کے دیرپا اثرات ہونگے اور بلوچ سماج کے ہر پرت پر اس کے سیاسی، معاشی اور ادبی اثرات مرتب ہونگے۔ یہ عسکری مہم بلوچ جنگی تاریخ میں ایک اہم معرکے کے طور پر تادیر یاد رکھا جائے گا اور ایسے جنگی مہم بلوچستان کے مستقبل کے فیصلوں میں فیصلہ کن ہونگے۔ آپریشن ھیروف جیسے عسکری مہم نہ صرف موجودہ جنگی حکمت عملیوں میں بدلاؤ کا سبب بنیں گے بلکہ بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کے مستقبل کے جنگی منظر نامے کو بدلنے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔