بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ آپریشن ھیروف فیز ٹو پانچویں روز میں داخل ہے اور اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلسل جاری ہے۔ متعدد محاذوں پر بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچار مضبوط پوزیشنوں پر موجود ہیں اور کئی مقامات پر کنٹرول بدستور برقرار ہے۔ گزشتہ دنوں کی طرح قابض فورسز کو مختلف محاذوں پر شدید دباؤ، پسپائی اور انتشار کا سامنا ہے، جبکہ بلوچ سرمچار مسلسل مزاحمت کے ذریعے دشمن کی عسکری پیش قدمی کو ناکام بنا رہے ہیں۔
ترجمان نے کہاکہ ابتدائی اور محتاط اندازوں کے مطابق اب تک قابض پاکستانی فوج، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے زیرِ سرپرستی قائم ڈیتھ اسکواڈ کے کم از کم تین سو دس اہلکار اور کارندے ہلاک کیئے جاچکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں اور زمینی حالات کے پیش نظر دشمن کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔ دشمن اپنی عسکری شکست اور ہلاک اہلکاروں کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کررہا ہے، تاہم اگر آزاد میڈیا ان دعوؤں کی تصدیق چاہتا ہے اور زمینی حقائق کا آزادانہ جائزہ لینا چاہتا ہے تو نوشکی، دالبندین، کوئٹہ، خاران، مستونگ، گوادر، پسنی اور تمپ و تربت سمیت کسی بھی آرمی کیمپ کا دورہ کرکے دشمن کی شکست فاش ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آپریشن ھیروف کے دوران اب تک بلوچ لبریشن آرمی کے چھیالیس جانباز سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوچکے ہیں۔ ان میں انتیس مجید بریگیڈ کے فدائین، دس فتح اسکواڈ اور سات ایس ٹی او ایس یونٹ کے سرمچار شامل ہیں۔ شہداء سے متعلق تفصیلی اور حتمی معلومات بعد میں باقاعدہ طور پر جاری کی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ واضح رہے کہ یہ تمام اعداد و شمار ابتدائی اور غیر حتمی ہیں اور ان میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ دشمن کو پہنچنے والے نقصانات اور آپریشن سے متعلق مکمل تفصیلات مناسب وقت پر میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔















































