“ہم گھر” سے “ہم سنگر”
تحریر: دوستین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
صبح صادق قدرت حسبِ معمول اپنی روانی برقرار رکھتے ہوئے سرد ہوا کی لہروں کو زمین میں اتار رہی تھی، ابھی تک برف کی سفید و دلکش چادر مادر وطن کے سینے پہ زیبِ تن تھا۔۔۔جب غور کیا تو ایسے معلوم ہورہا تھا آج کچھ تو خاص ہے مگر ہے سناٹا۔۔۔گہری خاموشی مگر یہ خاموشی محض خاموشی نہیں تھی، ابھی سورج کے طلوع ہونے میں تقریباً دو گھنٹے باقی تھے، آسمان پر ہلکی بادل کی قطاریں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے، بام آں پہنچا تھا، جس طرح بام نازک اُسی طرح اس پہر ہر چیز اپنی نازُکی کا اظہار کر رہا تھا، آج کی ہوا کی لہریں معمول کی رفتار سے زرا ہٹ کر تھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ناز و اندام کے ساتھ محو رقص تھے، یوں محسوس ہورہا تھا قدرت کو بشارت ملی ہے، جیسے وہ کسی کے انتظار میں آج خود کو سجھا بیٹھی ہے، اسی جستجو کو لئیے اس پہلیی کو بجھانے کے لئے جب زہن میں اس منظر کو ترتیب دے رہا تھا، خیال کبھی ایک سمت تو کبھی دوسری سمت مگر کچھ سمجھنے سے قاصر۔۔۔۔
اسی ہست و نیست و الجھن کے بیچ پتا نہیں نیند کو کیا سوجھا جو اس نے آنکھیں موند لیں اور مجھے اپنے ہمراہ لئیے سپنوں کی جھان میں لے گیا جہان ایک زمین اسی منظر کیساتھ میرے سامنے عیاں ہوا، “کوش” رقصاں ہو کر “بولان ءِ نگھبان پہ بولان فدا اَنت” کا گیت گن گُنا رہا تھا، قافلہ در قافلہ اپنی مبارق قدمیں لئیے زمین کو دروت پیش کر رہے تھے، بادلوں نے بانہیں کھول لی تھیں، بارش کے ہلکی قطرے گر رہے تھے، آفتاب طلوع ہونے کو تھا ہلکی روشنی محبت کی پہلے بوسے کی طرح زمین کو چوم رہا تھا، قدم پڑ رہے تھے، ہلکی روشنی کیساتھ بہادر وجودوں کی قدم بھی بوسے برسا رہا تھے اور زمین ہر بوسے کی جواب میں “وش آتکے منی پاسباناں” کا ورد کر رہی تھی۔
آنکھیں دفتعاً کھلی، موبائل اٹھایا اور پھر۔۔۔۔ دھنگ ہی دھنگ رہ گیا میرے قریب ہر چیز جم گیا، میں، میرا ذہن، میرے خیال اور وجود سب جم کر رہ گئے۔ یہ خبر صرف ایک خبر نہیں بلکیں جستجؤں کا جواب تھا قدرت کی رعنائیوں و بام کی نازکیوں کے بشارتوں کا جواب تھا۔ وطنِ مادر کے عظیم پاسبانوں کے آنے کا نوید تھا، جزبوں و حوصلوں کا سطحِ اعلیٰ تھا، وہ کہہ رہا تھا کہ سرزمین کے وارث، اس وطن کے رکھوالے آج “ھیروفی حوصلے” لیے میدانِ جنگ میں اترے ہیں، یہ لشکر اس سرزمین و اس کے باسیوں کی امانت ہے، اب یہ سب ھیروفی سرپروش تمہارے حوالے ہیں۔ اور ہونا بھی کیا تھا، ہر سو ہر کہین جانباز سرمچاروں کی قطاریں تھیں، ہر ایک کے زبان پہ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس وقت وہ سب “ مرگ پہ مڑاھے کئیت چہ دریں دیارے ءَ تو پہ تُرس چیر ئے ءُ من زراں پہ وش آتکے” کا ورد کرتے ہوئے ہمیں للکار رہے تھے مگر ہم سے زیادہ وہ موت کے معنویت کو چیلنج کر رہے تھے، بے دھڑک بلند و برز حوصلے اور ہر ایک شہید کے ارمانوں کا بار اپنے مزاحمتی کندوں پر لئیے جانبِ شہادت و عشق وطن پر فدا ہونے کے لئے ایسے اتر رہے تھے جیسے وہ الہامی لشکر ہو جو دور کے تمام فرعونوں کو انکا مقام دکھانے اور اپنے مادرِ وطن کا زمہ لینے اترے ہوں۔
ھیروف اپنی اصلی و لغوی معنی کے ساتھ آج عملی طور پر ان وطن نثاروں کے جزبوں میں جھلک رہی تھی۔ لمحے بیتے گئے، یکے بعد ھیروف اپنا دوسرا چہرہ دکھا رہا تھا، ھیروف آج اپنی معنی و مفعوم کے ساتھ انصاف کرنے اترا تھا وہ دژمن کے لئے تو پہلے سے ہی ھیروف تھا مگر آج وہ بلوچ سماج کے بوسیدہ روایات، خود رُو رسم و رواج خوف جنسی لسانی اور عمری تعصبات پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ھیروفی ضرب لگانے آیا تھا۔ وہ اپنے ساتھ آصفہ، حوا، ھتم ناز، ناکو فضل، یاسمہ اور وسیم کو ساتھ لائی تھی، اس بار یہ محض نام نہیں تھے بلکہ ایک نئے شروعات و ماضی سے جداگانہ حیثیت کے حامل ایسے کردار تھے، جنہوں نے اس جنگی تاریخ کو نئے ابواب بخشے۔
ابھی جنگ جاری تھا،موجودہ تاریخ میں پہلی دفع ایک شیرزال میدانِ جنگ میں بطورِ فلیڈ فائٹر عیان ہوا، وہ ہنس ہنس کر اپنے اپنے بلند و بالا حوصلوں کی اعلان کر رہی تھی وہ دشمن کو للکار رہی تھی اور دشمن سمیت ان تمام تنگ نظر روایاتوں کو ضرب لگا رہی تھی وہ تمام بندوشوں کو للکار رہی تھی اسکے حوصلے چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ اب بلوچ زالبول صنفِ نازک و چادریواری کی عصمت سے آگے نکل چکی ہے اب بلوچ زالبول محض معاشرے کی جنسی شرح نہیں بلکہ وہ اس قوم و معاشرے کا زمہ دار حصہ ہے اور وہ بھی اپنے وطن کی رکھوالی میں اپنی جان دینے اور دشمن کو موت و شکست سے دوچار کرنے کی بھی فن رکھتی ہے۔
“اے جنگ کردگار کنت” اور آج ایسا ہی ہو رہا تھا، یہ جنگ واقعی انوکھا سے انوکھے ابواب کا ابتداء کر رہا تھا جو انسان کی وہم و گمان اور اندازے سے کوسوں دور کی چیزوں کو حقیقت کی کینوس پر پرو رہا تھا، ہم نے سُنا تھا کہ قومی تحریکیں سماجی و معاشرتی ڈھانچوں کی تشکیلِ نو کرتی ہیں، وہ ایک قوم کو قومیت کے حقیقی مفہوم و معنوں میں میں ڈھال لیتی ہے، اور آج یہ سب باتیں محض کتابوں کی اوراق اور بیرونی کہانیوں کی شکل میں نہیں تھے بلکہ آج یہ سب عملی صورت ہمارے آنکھوں کے سامنے عیاں تھے، آج تاریخ خود کو سنوار رہی تھی، آج پھر حمل نیلبومیں تیاب کے دامن میں اسی طرح کمر بستہ دو بدو دشمن کے نسلوں تک کو سبق سکھانے کا عظم لئیے کھڑا تھا، آج بانڈی پھر لوٹ آئی تھی چاکر کے ساتھ میداں میں جنگ میں کمان لئیے، وہی تاریخی شعر ساتھ دشمن کو اسکے مظالم کا جواب دے کر کہہ تھی کہ؛
جن ھما اَنت کہ میتگاں نند اَنت
پن ءُ موزواک ءُ مھپراں رند اَنت
گون وتی مرداں دز گلائش اَنت
تاریخ خود کو دہرا رہی تھی، نہ صرف دوہرا رہی تھی بلکہ مزید نت نئے اور دلیر کردار خود میں جذب کر رہی تھی، انہی کرداروں میں جندندر یاسمہ عرف زرینہ انکے شریکِ حیات جندندر وسیم عرف زربار تھے، یہ ایک کہانی نہیں ایک افسانہ نہیں ایک واضع اور عیان حقیقت تھی، اس کہانی کی شروعات اُس پاک مہر اور تا ابد تاریخ کے پیشانی پہ درخشان رہنے والے بوسے سے شروع ہوئی تھی جس کے بوسہ گیر کا تصویر زرینہ کے شرٹ پر چسپان تھی، وہ بوسہ گیر کوئی اور نہیں بلکہ اس عہد کا سرمایہ اور عنواں استاد اسلم ہیں، یہ وہ بوسہ تھا جس نے بلوچ تحریک میں مایوسیت، خانہ جنگی، گروپ بندی، سست رو جنگی حکمت عملیوں کو مات دے کر تحریک کے روانی میں روح پھونکی تھی، یہ وہ بوسہ تھا جس نے ماضی کی تمام سوالوں کا جواب ایک لمحے میں دے کر سب بے بنیاد اور منجمد اور ابہام خیالات کو رد ثابت کر دیا، یہان سے ایک اور سفر کا آغاز ہوا جس نے بلوچ قومی آزادی کے منزل کے رستے کی ڈاٹس کو کنکٹ کیا۔ اسی باب میں جہان ایک والد اپنے جوان اور اکلوتے بیٹھے کو رخصتی بوسہ دے رہا تھا وہیں اسکا عظیم ماں اپنے بیٹھے کو بلوچستان کے سئے رنگی بیرک کے حرمت اور پاسبانی کا زمہ سونپ کر اسے فدا ہونے پر روانہ کر رہی تھی، بظاہر یہ تمام مناظر جس قدر قابلِ دید تھے اس سے زیادہ حیران کُن اور ناقابلِ یقین تھے، مگر اس بوسہ رسیداں اور بوسہ گیر نے اس فیصلے سے بلوچ قومی تحریک کے مسلح محاذ کے منظر نامے کو یکسر تبدیل کردیا۔ آج یہی پُرمہر اور ارمانوں سے سرشار بوسہ بلوچستان کی سنگلاخ پہاڑوں کے سینوں میں دکھڑ رہا ہے، بلوچ زمین کے ہر کونے میں بلوچ وطن کا درد رکھنے والے پیر جوان مرد و زن کے یاداشت میں نقش ہے، یہ بلوچستان کی معطر ہواؤں کے ساتھ آج بھی اپنی تاثیر میں تر و تازہ گردش کر رہی ہے۔ یہ وہ بوسہ تھی جس نے ایک سفر کا آغاز کیا جس نے راھیں استوار کی جو قربانی کا نیا تقاضہ بن گیا، اور اس بوسہ گیر نے قربانی ایک فلسفے کی بنیاد رکھی اسی اسلمی فلسفے کے کوکھ سے ھیروفی حوصلوں نے جنم لیا، اور انہی حوصلوں نے زرینہ اور زربار کو “ہم گھر “ ، “ہم خیال”، اور “ہمدم” سے ایک ہی محاذ کا “ہم سنگر” بنا دیا۔
یہ اپنی نوعیت کا یکسر جدا اور حیران کردینے والا قدم تھا، بھلا ایسے کیسے ممکن ہو سکتا ہے مگر یہاں اس وقت یہ سب سوالات زرینہ کی دلیری کے سامنے اپنی تاثیر کھو چکے تھے، جب وہ نشخندہ ہو کر جنگجاہ کی احوال دے رہی تھی اور عیں سامنے زربار اپنی پوزیشن جمائے دشمن پر گولیاں برسا رہا تھا، وہ دونوں نہایت ہی اطمیناں کے ساتھ جنگجاہ میں بیٹھے قہہ قہہ لگا رہے تھے، اور اپنے حصے کا جنگ لڑ رہے تھے کیونکہ وہ دونوں ایک ہی مقصد کے لیے جینے والے تھے اور آج ایک ساتھ تا ابد فناء ہونے والے تھے، زرینہ کی آنکھوں میں رتی بھر بھی خوف نہیں تھا، انکی آواز میں ایک محض حوصلے اور دشمن کے ناپاک وجود کے لئے خطرے کی آثار تھے، انکے ہاتھ کانپ نہیں رہے تھے اس لئے نہیں کہ وہ جنگ کے عادی تھے بلکہ اس لئیے کہ وہ اپنے اس عظیم فیصلے پر مطمئن تھے، وہ اپنے انتخاب پہ نازاں تھے انہوں نے اس جنگ کو اپنی انگ انگ میں بسا رکھا تھا اور اسے لڑنے کی ٹھان لی تھی۔ وہ لڑ رہے تھے۔
لمحہ بہ لمحہ وہ اپنی شہادت کو قریب آتے دیکھ رہے تھے مگر ہچکچاہٹ و خوف کا اپنی وجود کھو بیٹھے تھے محض جزبے اور ملالِ عشقِ وطن کے بادل انکے دلوں میں چھائے تھے اور وہ اپنے جزبوں کا اظہار دشمن پر قہر اور اپنوں پر بے بہا مہر و مسکان کی صورت میں نچاور کر رہے تھے، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ “او خوش ءِ بے کچ صفا گلان ءِ کہنگ کے کاہک” وہ آج عملاً اس مصرعے کی مشق کر رہے تھے۔ بلوچ جنگ کی خوبصورتیوں میں ایک یہ بھی ہے اس نے موت و زندگی کے لغوی معنوں پر اپنا قابو پایا لیا ہے اور ان کو اپنی سیاق و سباق میں مفہوم دے بیٹھا ہے، یہاں زندگی نے سانس لینے کی عمل سے آگے نکل کر مقصد کے لئے جینے کا جنون اپنے اندر جذب کیا ہے، یہان موت اب محض انجامِ زندگی نہیں ہے بلکہ تا ابد امر ہونے کا نام ہے۔ زرینہ اور زربار سمیت ہر بلوچ سرمچار و فدائی دشمن سے پہلے زندگی اور موت کے رائج معنوں سے نبردآزما ہو کر انہیں نئے معنوں میں پرو کر اور اپنے کردار میں انہیں جذب کر کے انکے ساتھ انقلابی رختِ سفر باندھ کر جب نکلتے ہیں تو واپسی کا ملال روزگارِ زندگی، خواہشات سب دھواں دھواں ہوکر راکھ بن جاتے ہیں پیچھے فقط محبت کی ان مٹ داستان ہی بچ پاتی ہے یہ یہی محبت ہے کہ جس کے کردار رومانیت کے معنوں کو دھول چھٹا کر اسے “گُڑی تیر” یا شہادت کے کسی بھی فلسفے پر استوار کرتے ہیں۔ اب محبت جسدی وجود سے نکل کر عشقِ خاک میں گل جاتی ہے۔ یہان سے الفاظ اس جزبے کی بیان میں اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔
وہ ہم سے کہہ رہے تھے کہ “اگر ہم کل نہ ہوں، تو کہانی ادھوری نہ کہنا” کیونکہ “کہانیاں انجام سے نہیں، نیت سے مکمل ہوتی ہیں۔” اسی نیت کو اپنے جزباتوں کو ڈھانپ کر وہ میدانِ جنگ سجھانے آ گئے تھے۔
جنگ کی صبح تھی، نہ نعرے تھے، نہ شور، صرف دو قدم، ایک نظریہ، ایک مقصد، ایک سمت، ایک فیصلہ، اور پاکیٹ میں رکھی “گُڑی تیر” کہ جس کے انتظار میں وقت ساکت تھا، گھڑیاں تھم رہی تھیں، جنگ جاری تھا، جیسے ہی شہادت کی گھڑی آں پہنچی انہوں نے اپنے موت کے قدرتی معنویت کو یکسر نظر انداز کرکے اس پر قابو پالیا اور ایک دوسرے کو اطمیناں بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے آخری مسکراہٹ لبوں پر طاری تھی، بندوق کی نوک شہرگ پر اور ایک دوسرے کو پُرکند لہجے میں کہہ رہے تھے، “ما ساہ داتگ وتن نہ داتگ” اگرچہ یہ انتخاب و اختیار ان کا اپنا تھا وہ اس پر قائم تھے مگر ”گُڑی تیر” بھی اپنی تقدیر پر نازاں تھا، ٹیگر دبھے پسنی کی ریتلی میدانوں نے فخر کی دم بھری نیلبومیں تیاب کے لہر ایک دوسرے پر اچھل رہے تھے، آواز تھم گئی، لہریں پُرسکون ہوئیں اور جب دھول بیٹھی، تو ایک جان، ایمان، نظریے اور مکسد کے دو جسم زمین پر تھے، جنکا نام وقت کے ماتھے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کندہ ہو گئے،
وہ ساتھ جیئے
ساتھ لڑے
اور تاریخ کے اوراق میں
ساتھ امر ہو گئے
اب زمان کو ہوش آیا کہ کچھ فیصلے زندگی سے بڑے ہوتے ہیں
پہاڑ خاموش تھے،
ریت نے قدموں کی آواز نگل لی تھی،
اور ان دونوں کے درمیان لفظوں کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی،
مگر انکی خاموش جسموں کا روح بعد از مرگ بھی محو گفتگو تھے کہ
ہم اپنا فرض نبھایا
“اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو”!
وہ کہہ رہتے تھے کہ دیکھو “ہم ڈرے نہیں؟”
ہم نے ہر گھڑی اجتماعی موت کے خوف کو ایک آزاد وطن کی خاطر ایک آگ میں بدلا اور اسے ظالم کے دل میں جلا دیا، ڈرنا تو انہیں چائیں جو مزاحمت کے اصولوں سے ناواقف ہیں، ڈریں تو وہ جنہیں اپنے زندگی اور موت پر دسترس نہیں جو چند لمحہ اضافی سانسوں کے عوض اپنی حالات سے باغی ہیں، ڈریں وہ جو ہر ظلم پر اس اُمید سے خاموش ہیں کہ یہ شاید وقت پلٹے اور تقدیر بدل جائے سب سے زیادہ ڈرنا تو انہیں چائیے جو غلامی کی بوجھ لئیے محض سانس لینے کو زندگی سمجھ بیٹھے ہیں،
“ڈر تب ہوتا ہے جب انتخاب مجبوری ہو”
یہ انتخاب مجبوری نہیں بلکہ نظریاتی ہے، اس انتخاب میں نسلوں کی بقا ہے جسے
“ہم نے تو خود چنا ہے”۔
یہ وہ محبت کی کہانی تھی جو کسی وعدے کی محتاج نہیں تھی، نہ اپنے مستقبل کے خوابوں کی بلکہ اس محبت نے نسلوں کے مستقبل سنوارنے کا عہد لے کر آج تا ابد ہونے کی خاطر بے جان جسم ہو پڑے تھے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































