بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کے حالیہ بیان ’’ہم ہزار سال لڑیں گے‘‘ پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور شکست خوردہ سوچ کی عکاسی قرار دیتے ہوئے حکومت سے سنجیدگی کا مطالبہ کیا ہے۔
اصغر خان اچکزئی نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ اگر حکومتی سطح پر واقعی ’’ہزار سال تک لڑنے‘‘ جیسی باتیں کی جا رہی ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ معاملات حکمرانوں کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ طرزِ گفتگو مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے حکومتی بیانیے میں آنے والی تبدیلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل حکمران جماعت کے ایک اہم رہنما نے موجودہ بحران کو ’’ایک ایس ایچ او کی مار‘‘ قرار دیا تھا، لیکن آج وہی مسئلہ ایک ایس ایچ او کی سطح سے بڑھ کر ’’ہزار سالہ جنگ‘‘ کی باتوں تک پہنچ گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تضاد سے حکومت کی غیر سنجیدہ حکمتِ عملی ظاہر ہوتی ہے۔
اے این پی رہنما نے سوال اٹھایا کہ اگر موجودہ کشیدہ حالات کے دوران مچ جیسے حساس علاقے میں ملازمین کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جاتا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی؟
ان کے مطابق اس قسم کے بیانات جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں اور حکومت کو اپنی زبان اور پالیسی دونوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ حقیقی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور معاملات کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
اصغر خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’’آج بھی حالات مکمل طور پر ہاتھ سے نہیں نکلے، مگر اس کے لیے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔‘
اے این پی بلوچستان کے صدر نے اعلان کیا کہ 8 تاریخ کو بلوچستان سمیت ملک بھر میں مختلف سیاسی جماعتوں اور اتحادی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ احتجاج باقاعدہ ریکارڈ پر لایا جائے گا تاکہ عوامی مطالبات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔
















































