کراچی میں سندھ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی ہائی الرٹ نافذ کیے جانے کے بعد مختلف علاقوں میں پولیس، رینجرز اور سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گھروں میں سرچ آپریشنز خصوصاً بلوچ آبادیوں میں کیے جا رہے ہیں، جن میں لیاری، ملیر اور دیگر علاقے شامل ہیں۔
متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے مطابق گھروں پر چھاپوں کے دوران بدسلوکی، خواتین سے نامناسب رویہ، نازیبا الفاظ کے استعمال اور گھریلو سامان کی تلاشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ چھاپوں کے دوران شہریوں کی ذاتی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور بعض نوجوانوں کو جبری طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ شہریوں کے مطابق ان سے ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جن کا کسی جرم سے تعلق نہیں ہوتا، جبکہ بعض افراد پر ایسے مقدمات قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے جن میں وہ ملوث نہیں ہوتے۔
حالیہ دنوں میں ایک نیا عمل بھی سامنے آیا ہے جس کے تحت نوجوانوں کا سڑکوں پر بائیو میٹرک کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی فرد کے خلاف ماضی میں کوئی ایف آئی آر درج ہو تو اسے دہشت گردی کے شبہ میں تھانے منتقل کر دیا جاتا ہے، حالانکہ بعض افراد کے مقدمات عدالت میں زیرِ سماعت ہیں یا پہلے ہی خارج ہو چکے ہیں۔
شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کو یہ اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہے کہ وہ پرانی ایف آئی آر کی بنیاد پر افراد کو دوبارہ گرفتار کریں اور مختلف دفعات کے تحت نئے مقدمات قائم کریں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے شہریوں میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا ہو رہی ہے اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چھاپوں اور گرفتاریوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔
تاحال پولیس، رینجرز اور سی ٹی ڈی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔



















































