مقتول نوجوان حمدان ولد محمد علی بلوچ کے اہل خانہ نے آج ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو پہلے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور بعد ازاں ایک مبینہ جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا، جبکہ اب اس کی میت کو لواحقین کے حوالے کرنے سے بھی انکار کیا جا رہا ہے۔
لواحقین کے مطابق حمدان بلوچ، جو گولیمار کا رہائشی اور ایک طالب علم تھا، کو 29 دسمبر 2025 کو دھوبی گھاٹ پل کے قریب سے بغیر کسی وارنٹ کے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک واضح جبری گمشدگی کا واقعہ تھا۔
6 جنوری 2026 کو سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا گیا کہ حمدان بلوچ کو رئیس گوٹھ سے ایک مسلح تنظیم سے تعلق اور سہولت کاری کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اہل خانہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حمدان کو رئیس گوٹھ سے نہیں بلکہ دھوبی گھاٹ سے تحویل میں لیا گیا تھا اور ان پر لگائے گئے دہشت گردی کے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔
اہل خانہ کے مطابق انہوں نے ان الزامات کا قانونی راستے سے سامنا کیا اور کیس کی متعدد سماعتیں ہوئیں۔ آج حمدان بلوچ کی آخری پیشی تھی، جس کے بعد اسے جیل منتقل کیا جانا تھا۔ تاہم 6 جنوری کی صبح سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ حمدان بلوچ ایک مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس اعلامیے کے بعد لاش کی شناخت کر چکے ہیں، مگر میت کو حوالگی کے لیے مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ایدھی حکام کے مطابق سی ٹی ڈی کی اجازت کے بغیر میت حوالہ نہیں کی جا سکتی، جبکہ سی ٹی ڈی حکام مختلف حیلوں بہانوں سے تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ مزید برآں، اہل خانہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایک فارم پر دستخط کریں جس میں حمدان بلوچ کو دہشت گرد تسلیم کیا جائے، جسے وہ یکسر مسترد کرتے ہیں۔
لواحقین نے اس عمل کو قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی کے بعد ماورائے عدالت قتل اور پھر میت کی حوالگی کو مشروط کرنا ایک افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی افسران اور اہلکاروں کے خلاف فوری مقدمہ درج کیا جائے۔حمدان بلوچ کی میت کا شفاف اور غیر جانبدارانہ پوسٹ مارٹم کیا جائے۔حمدان بلوچ کے خلاف زیر سماعت کیس کو قانونی تقاضوں کے مطابق جاری رکھا جائے تاکہ حقائق منظر عام پر آ سکیں۔
لواحقین نے سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا برادری اور تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر آواز بلند کریں تاکہ مستقبل میں کسی اور نوجوان کو اس قسم کے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
















































