پہلی بلوچ فضائی یونٹ “قہر” باضابطہ طور پر آپریشنل ہوچکا ہے – بی ایل اے

211

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ تنظیم اعلان کرتی ہے کہ تنظیم کا جدید فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر” (QAHR – Qazi Aero Hive Rangers) باقاعدہ طور پر آپریشنل ہوچکا ہے، اور آپریشن ہیروف دوم کے دوران اپنے ابتدائی آپریشنز انتہائی کامیابی سے مکمل کرچکا ہے۔

ترجمان نے کہاکہ قہر بی ایل اے کی عسکری ترقی کا وہ مرحلہ ہے جس کا مقصد بلوچ مزاحمت کو جدید ترین جنگی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ یہ یونٹ تنظیم کے اس فکری وژن کا تسلسل ہے جو مزاحمت کو محض ردعمل نہیں بلکہ منصوبہ بند، سائنسی، اور پائیدار حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھانے پر یقین رکھتا ہے۔ قہر یونٹ کو تنظیم نے اپنے سینئر کمانڈر عبدالباسط زہری عرف قاضی کی فکری و تنظیمی میراث سے منسوب کیا ہے، جنہوں نے مزاحمتی صفوں میں ٹیکنالوجی، تحقیق، اور ادارتی تعمیرکو بنیادی حیثیت دی اور “ْقہر” کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہاکہ قہر کی پہلی عملی کارروائیاں آپریشن ہیروف دوم کے دوران انجام پائیں۔ ان کارروائیوں میں سب سے نمایاں گوادر پورٹ پر کیئے گئے منظم اور مربوط ڈرون حملے تھے۔ ان حملوں میں دشمن کے عسکری انفراسٹرکچر، بندرگاہی تنصیبات، اور مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جن کے نتیجے میں دشمن کو شدید جانی اور مادی نقصان پہنچا گیا۔ یہ حملے نہ صرف عسکری لحاظ سے فیصلہ کن ثابت ہوئے، بلکہ انہوں نے بلوچ قومی تحریک آزادی کی صورتحال میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔

مزید کہاکہ ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال نے تنظیم کو نہ صرف دور مار حملے کی صلاحیت دی ہے بلکہ دشمن کے حساس علاقوں تک پہنچنے، ان کی نگرانی کرنے اور انہیں غیر متوقع لمحوں میں نشانہ بنانے کی وہ طاقت دی ہے جو زمینی جنگی دائرے سے باہر کی دنیا میں استحکام پیدا کرتی ہے۔ بی ایل اے سمجھتی ہے کہ جدید جنگ کا میدان صرف زمین پر نہیں، فضا اور سائبر اسپیس میں بھی وسعت اختیار کرچکا ہے، اور قہر انہی دائروں میں تنظیمی موجودگی کا ابتدائی مگر بھرپور اظہار ہے۔

آپریشن ہیروف دوم کے مختلف محاذوں پر کیئے گئے ڈرون حملوں نے دشمن کے لیئے جنگی توازن بگاڑنے کا وہ دباؤ پیدا کیا جس کے اثرات دشمن کے زمینی فورسز کے حوصلے، نقل و حرکت، اور ردعمل کی رفتار پر واضح طور پر دیکھے گئے۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی اعلان کرتی ہے کہ قہر یونٹ مستقبل میں بھی تنظیم کی حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو رہے گا، اور اس کے ذریعے تنظیم کی جنگی صلاحیتوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔ یہ یونٹ نہ صرف دشمن کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہوگا، بلکہ وہ تمام شعبے جیسے انٹیلیجنس، مواصلاتی نیٹ ورک، اور زمینی یونٹس کی مدد و ہم آہنگی، اب اس فضائی یونٹ کے دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔

آضر میں کہاکہ بی ایل اے اس حقیقت پر یقین رکھتی ہے کہ قومی مزاحمت صرف اس وقت پائیدار رہ سکتی ہے جب وہ فکری، سائنسی، اور تکنیکی میدانوں میں دشمن کے مقابل کھڑی ہو۔ قہر اس طویل مزاحمتی سفر میں وہ نکتہ آغاز ہے جو آزادی کی جدوجہد کو نئے دور میں داخل کرتا ہے، ایک ایسا دور جہاں فضائی برتری، معلوماتی تسلط، اور تکنیکی صلاحیت ہی وہ عناصر ہیں جو سیاسی نظریات کو عمل میں تبدیل کرتے ہیں۔