بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جاری بیان میں کہاہے کہ جاسم ولد محمد آدم ، پیشے کے لحاظ سے مزدور، پنجگور کے رہائشی، جنہیں اس سے قبل جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، کو ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ ان کی مسخ شدہ لاش پنجگور کے علاقے وشبود سے برآمد ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ جبری گمشدگی کے بعد کئی دنوں تک جاسم کے بارے میں کوئی اطلاع دستیاب نہیں تھی، جس کے باعث ان کے اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت اور کرب کا شکار رہے۔ بعد ازاں ان کی گولیوں سے چھلنی اور تشدد زدہ لاش وشبود سے برآمد ہوئی، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ انہیں حراست کے دوران قتل کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ یہ قتل واضح طور پر پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈز کی نشاندہی کرتا ہے، جو بلوچستان بھر میں مکمل استثنیٰ کے ساتھ مسلسل سرگرم ہیں۔
جاسم جان کا تعلق ایک محنت کش طبقے کے خاندان سے تھا اور وہ یومیہ مزدوری کر کے اپنا اور اپنے خاندان کا گزارا کرتے تھے۔ ان کا قتل جبری گمشدگیوں کے بعد ماورائے عدالت قتل کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں خاص طور پر بلوچ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں مزدور، طلبہ، اساتذہ اور پیشہ ور افراد شامل ہیں۔
مزید کہا کہ اس قتل نے بلوچ عوام میں خوف، عدم تحفظ اور اجتماعی صدمے کو مزید شدید کر دیا ہے۔ ریاستی حمایت یافتہ تشدد کی جاری مہم معاشرے کو عدم استحکام سے دوچار کر رہی ہے اور بلوچستان میں ریاستی فورسز کو حاصل جڑ پکڑے ہوئے استثنیٰ کے کلچر کو بے نقاب کرتی ہے



















































