پاکستانی فوج کو مشورہ دیتا ہوں کہ بلوچستان سے جتنی جلدی ممکن ہو نکل جائے اس میں اسی کی بھلائی ہے بلوچ قوم انہیں محفوظ راستہ دینے کو تیار ہے – خان آف قلات
خان آف قلات سلیمان داﺅد احمد زئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طویل جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے پاکستان کو اب سمجھنا چاہیے کہ وہ بلوچستان کو مزید اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا اب پوری بلوچ قوم مصلح جد وجہد کا حصہ بن چکے ہے یہ جنگ بلوچ قوم اپنے دفاع کے لیے جتنی طویل ہو لڑنے کے لیے تیار ہے مگر پاکستان اس ہاری ہوئی جنگ کو جتنا مزید لڑے گا اتنی ہی تباہی کی طرف بڑے گا
انہوں نے کہا کہ بھلائی اسی میں ہے وہ اپنی فوج بلوچستان سے انخلاء کرے تاکہ اپنے معیشت کو سنبھالنے کے قابل بنے اور اپنی بچی ہو ہی ریاست سے ہاتھ دھونا نہ پڑے،
خان قلات نے کہا کہ پاکستان کو برطانیہ اور امریکا سے سبق سیکھنی چاہیے کہ کس طرح انہیں گوریلا جنگوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔ بلوچ عوام امن چاہتی ہے وہ اس وقت اپنی دفاع کر رہے اور ہمیشہ کرتے آہے ہے بلوچ قوم اب پوائنٹ آف نو رٹن پہ پہنچ چکا ہے لہذا اپنی معیشت پہ اور اپنے ملک پہ رحم کرے یہ لا حاصل جنگ میں پاکستان کے نصیب میں صرف بربادی لکھا ہے۔












































