نوشکی: بابو عطا محمد، بارہ سالہ شہزاد احمد اور تین سالہ دیدگ بلوچ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ۔ بی وائی سی

24

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے کہا ہے کہ نوشکی میں 60 سالہ بابو عطا محمد بادینی کو پاکستانی فوج کی جانب سے براہِ راست فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ کسی انسان کو اس بے رحمی سے قتل کرنا انسانیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بلوچستان میں ریاستی جبر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہاں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ روزانہ درد اور المیے کی نئی داستان جنم لے رہی ہے۔ کبھی لوگوں کو سالوں تک عقوبت خانوں میں تشدد کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے اور کبھی انہیں ان کے گھروں میں دن دہاڑے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نہ پہلا واقعہ ہے اور نہ آخری، بلکہ یہ وہ ریاستی پالیسی ہے جو بلوچستان میں برسوں سے نافذ ہے۔ ریاستی ادارے جسے چاہیں، جب چاہیں، بغیر کسی خوف اور جوابدہی کے نشانہ بناتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل جان بوجھ کر اپنایا گیا ہے۔

مزید کہا گیا کہ شہزاد احمد، والد ظفر احمد، صرف بارہ سال کا طالب علم تھا، جس کی دنیا کتابوں اور اسکول کے گرد گھومتی تھی۔ کل اس کی زندگی ریاستی تشدد کا شکار ہو کر ختم کر دی گئی۔

ریاستی فورسز نے ایک گنجان شہری علاقے میں اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں شہزاد مارا گیا۔ وہ کوئی خطرہ نہیں تھا، بلکہ ایک بچہ تھا جو اپنے گھر اور ماحول میں موجود تھا — ایسی جگہ جو تحفظ کی علامت ہونی چاہیے تھی، موت کی نہیں۔

یہ فائرنگ کسی سکیورٹی ضرورت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ عام شہریوں کے خلاف مہلک طاقت کے بے دریغ استعمال کی واضح مثال ہے۔ بارہ سالہ طالب علم کا قتل بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر ایک خوفناک سوالیہ نشان ہے، جہاں اب بچے بھی محفوظ نہیں رہے۔

شہزاد کی ہلاکت کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ عام شہریوں، خصوصاً بچوں، کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے ایک خطرناک سلسلے کا حصہ ہے، جہاں جوابدہی کا مکمل فقدان ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ دیدگ بلوچ صرف تین سال کا معصوم بچہ تھا، ایک ایسی عمر میں جہاں بچے دنیا کو پہچاننا شروع کرتے ہیں، لیکن وہ نوشکی میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں جاں بحق ہوا۔

آخر میں کہا گیا کہ ہم عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور پوری دنیا سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کریں۔ آپ کی خاموشی ریاستی تشدد کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ بلوچستان میں انسانیت دم توڑتی جا رہی ہے۔ انسانیت کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں۔