نوشکی: آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کے اطراف بلڈنگ مسمار، گھروں کو خالی کرنے کا حکم

84

بلوچستان کے شہر نوشکی میں پاکستانی فوج نے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کے اطراف میں عمارتوں کو مسمار کردیا، مزید گھروں کو خالی کرنے کا حکم نامہ جاری

نوشکی شہر میں قاضی آباد کے مقام پر قائم پاکستانی خفیہ اداروں انٹر سروسز انٹلیجنس (آئی ایس آئی) ہیڈکوارٹرز کے قریب واقع عمارتوں کو پاکستانی فوج نے مسمار کردیا۔ آفس کے قریب دیگر گھروں کو نوٹس جاری کرکے گھر خالی کرنے کی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد مذکورہ گھروں کو بھی مسمار کرنے کا کہا گیا ہے۔

نوشکی شہر اور نواحی علاقوں میں اس سے قبل چار گھروں کو پاکستانی فوج نے بارودی مواد اور بھاری مشینری استعمال کرکے تباہ کردیا گیا۔ مذکورہ گھروں میں بلوچ لبریشن آرمی سربراہ بشیر زیب بلوچ کے آبائی گھر سمیت سیاسی شخصیات کے گھر شامل تھیں۔ اسی طرح گوادر اور کیچ میں بھی گھروں کو نذر آتش کردیا گیا۔

نوشکی شہر میں شام چھ بجے سے کرفیو بدستور جاری ہے۔ شہریوں کے مطابق پاکستانی فورسز حکام نے شہریوں کو تنبیہ کی ہے کہ جب تک وہ ریاست کے حق میں ریلی کا اہتمام نہیں کرتے اور اپنے مکانوں و دکانوں پر پاکستانی جھنڈا نہیں لگاتے، کرفیو نہیں ہٹایا جائے گا۔

واضح رہے کہ 31 جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن “ھیروف” کے تحت بلوچستان کے چودہ شہروں میں مربوط حملے کرکے کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران نوشکی شہر پر بھی بلوچ لبریشن آرمی نے کنٹرول حاصل کیا جو چھ روز تک جاری رہا۔

بی ایل اے نے اس دوران نوشکی میں پاکستانی فوج کے دو مرکزی ہیڈکوارٹرز اور آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کو خودکش اور دیگر حملوں میں نشانہ بنایا تھا، جن میں بڑی تعداد میں اہلکار ہلاک ہوئے تھیں۔