ناکو میران: سفید ریش، سبز حوصلے
تحریر: سفرخان بلوچ(آسگال)
دی بلوچستان پوسٹ
زندگی دراصل وقت اور شعور کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ ہے۔ گھڑی کی سوئیاں آگے بڑھتی رہتی ہیں، کیلنڈر کے ورق پلٹتے رہتے ہیں، موسم بدلتے رہتے ہیں، مگر انسان کی اصل عمر نہ لمحوں کے شمار سے طے ہوتی ہے اور نہ برسوں کی گنتی سے۔ عمر ایک ریاضیاتی عدد ضرور ہے، لیکن انسان ایک زندہ فلسفہ ہے۔ عدد ٹھہر جاتا ہے، مگر انسان آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے اہلِ فکر نے مختلف زمانوں میں مختلف نام دیے کہیں اسے خودی کہا گیا، کہیں ارادہ، کہیں مقصدِ حیات اور کہیں شعورِ بقا۔
عام سماجی تصور یہ ہے کہ وقت انسان کو تھکا دیتا ہے، خوابوں کو ماند کر دیتا ہے اور جذبوں کو سرد کر دیتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک خاص عمر کے بعد انسان کی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں اور اس کا کردار سمٹ جاتا ہے۔ مگر تاریخ اس تصور کی تردید کرتی آئی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وقت صرف ان لوگوں کو بوڑھا کرتا ہے جو اپنے خواب دفن کر دیتے ہیں، جو اپنے نظریات سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور جو اپنے ضمیر کو خاموش کر لیتے ہیں۔ لیکن جن کے دلوں میں مقصد کی آگ روشن رہتی ہے، ان پر خزاں کبھی مکمل قبضہ نہیں جما پاتی۔ ایسے لوگ موسموں کی طرح نہیں بدلتے بلکہ پہاڑوں کی طرح قائم رہتے ہیں۔
ناکومیران کی شخصیت اسی فلسفے کا عملی اظہار ہے۔ وہ اس حقیقت کا روشن استعارہ ہیں کہ انسان اپنی تاریخِ پیدائش سے نہیں بلکہ اپنی فکر، اپنے کردار اور اپنے عزم سے پہچانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ بڑھاپا دراصل جسم کی کمزوری کا نام نہیں بلکہ سوچ کی تھکن کا نام ہے۔ جو شخص اپنے نظریے کے ساتھ کھڑا رہے، اس پر عمر کی دیواریں بے معنی ہو جاتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر یہ تصور رائج ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد انسان کا کام صرف آرام کرنا، گوشہ نشینی اختیار کرنا اور دنیا کے معاملات سے کنارہ کش ہو جانا ہے۔ ریٹائرمنٹ کو اکثر زندگی کے اختتام کا نام دے دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سوچ دراصل ایک ذہنی شکست ہوتی ہے۔ اصل ریٹائرمنٹ جسم کی نہیں بلکہ ضمیر کی ہوتی ہے۔ جو شخص مقصد سے رشتہ توڑ لے، وہ جوانی میں بھی بوڑھا ہو جاتا ہے، اور جو اپنے مقصد کے ساتھ جڑا رہے، وہ بڑھاپے میں بھی جوان رہتا ہے۔
ناکومیران نے اسی فرسودہ تصور کو اپنی عملی زندگی سے رد کیا ہے۔ انہوں نے وقت کے لکھے ہوئے روایتی اصولوں کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے یہ باور کرایا ہے کہ انسان کی اصل ذمہ داری سانسوں کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔ جب تک دل دھڑکتا رہے، جب تک شعور بیدار رہے، تب تک انسان اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے آزاد نہیں ہو سکتا۔
بلوچ سماج میں بزرگوں کو ہمیشہ دانائی، تجربے اور وقار کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ مگر عملی جدوجہد کے میدان میں عموماً نوجوان نسل ہی آگے دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں ایک سفید ریش بزرگ کا نوجوانوں کے قافلے میں شامل ہونا ایک غیر معمولی واقعہ بن جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کا قدم نہیں ہوتا بلکہ ایک فکری اعلان ہوتا ہے کہ قومی ذمہ داری کسی ایک عمر کی میراث نہیں۔
ناکومیران نوجوانوں کے لیے ایک خاموش درسگاہ ہے۔ وہ اپنی زبان سے کم اور اپنے کردار سے زیادہ بات کرتے ہیں۔ ان کا مسکراتا ہوا چہرہ، ان کا پُرسکون لہجہ اور ان کی ثابت قدمی نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ جدوجہد صرف جوش کا نام نہیں بلکہ استقامت، شعور اور مستقل مزاجی کا نام ہے۔ وہ یہ سبق دیتے ہیں کہ حقیقی مزاحمت نظریے سے جنم لیتی ہے۔
کسی بھی تحریک میں بزرگوں کی شمولیت اسے اخلاقی قوت عطا کرتی ہے۔ نوجوانوں کے پاس توانائی ضرور ہوتی ہے، مگر تجربہ بزرگوں کے پاس ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں قوتیں یکجا ہو جائیں تو تحریک ایک نئے درجے پر پہنچ جاتی ہے۔ ناکو میران اسی پل کا کردار ہیں جو تجربے اور جوش کو آپس میں جوڑتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ قومی جدوجہد صرف وقتی جذبات کا نام نہیں بلکہ ایک طویل نظریاتی سفر ہے۔
معاشرتی تبدیلی ہمیشہ کرداروں سے آتی ہے، محض نعروں سے نہیں۔ تقریریں وقتی اثر چھوڑتی ہیں مگر کردار دیرپا نقوش ثبت کرتے ہیں۔ ناکومیران کا کردار بھی ایک ایسی ہی زندہ مثال ہے جو خاموشی سے بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔ وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ حقیقی قیادت عمر سے نہیں بلکہ عمل سے جنم لیتی ہے۔
ریاستیں اکثر تحریکوں کو صرف طاقت کے زاویے سے دیکھتی ہیں، مگر وہ اس اخلاقی اور نظریاتی قوت کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہیں جو عوام کے دلوں میں پلتی ہے۔ ایک بزرگ کا نوجوانوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ یہ جدوجہد محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہری فکری بنیاد رکھتی ہے۔ یہ بنیاد جتنی مضبوط ہو، تحریک اتنی ہی دیرپا ہوتی ہے۔
ناکومیران نے اپنی کردار سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کی سہولتوں سے نہیں بلکہ اس کی قربانیوں سے متعین ہوتی ہے۔ جس عمر میں لوگ آرام، خاموشی اور ذاتی سکون کی طرف لوٹ جاتے ہیں، اسی عمر میں انہوں نے اجتماعی ذمہ داری کا راستہ چنا ہے۔ یہ انتخاب آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مضبوط ضمیر، زندہ دل اور غیر متزلزل یقین درکار ہوتا ہے۔
نوجوان جب ایسے کردار کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر ایک نیا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اگر ایک بزرگ اپنے تمام تجربے کے ساتھ میدان میں کھڑا رہ سکتا ہے تو میں کیوں پیچھے رہوں؟ یوں ایک فرد کا عمل پوری نسل کی سوچ بدل دیتا ہے۔ یہی وہ خاموش انقلاب ہے جو نعروں کے بغیر برپا ہوتا ہے۔
ناکومیران دراصل اس حقیقت کا عملی اعلان ہیں کہ نظریہ انسان کو زندہ رکھتا ہے۔ جسم تھک سکتا ہے، آنکھوں کی بینائی کم ہو سکتی ہے، قدم لڑکھڑا سکتے ہیں، مگر اگر مقصد واضح ہو تو انسان کبھی بے معنی نہیں ہوتا۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ زندگی کا اصل حسن آرام میں نہیں بلکہ مقصد میں ہے۔
کسی بھی قوم کی بقا صرف کرداروں سے ہوتی ہے۔ جب کردار مضبوط ہوں تو قومیں کمزور نہیں پڑتیں۔ ناکو میران جیسے افراد قوموں کی اخلاقی ڈھال ہوتے ہیں۔ وہ مایوسی کے اندھیروں میں امید کے چراغ روشن کرتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے راستے متعین کرتے ہیں۔
یہ بھی ایک سچائی ہے کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی ہمیشہ انفرادی مثالوں سے شروع ہوتی ہے۔ ایک شخص کا درست فیصلہ ہزاروں لوگوں کے دلوں میں روشنی بھر دیتا ہے۔ ناکومیران کا قدم بھی ایسا ہی فیصلہ ہے ایک ایسا فیصلہ جس نے ثابت کیا کہ عمر کا عدد انسان کے راستے کا تعین نہیں کرتا۔
آج جب دنیا بھر میں مفاد پرستی، خوف اور مایوسی کا غلبہ ہے، ایسے میں ناکومیران جیسے کردار تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل زندگی اپنے نظریے کے ساتھ جڑے رہنے کا نام ہے۔ انسان کی اصل کامیابی ذاتی سکون میں نہیں بلکہ اجتماعی بقا میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
زندگی کی اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان وقت کے ہاتھوں مجبور نہیں ہوتا، بلکہ وقت انسان کے عزم سے معنی پاتا ہے۔ گھڑیاں صرف لمحوں کو ناپتی ہیں، حوصلوں کو نہیں۔ کیلنڈر صرف دنوں کا حساب رکھتے ہیں، خوابوں کا نہیں۔ جو لوگ اپنی ذات کو کسی بڑے مقصد کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں، وہ عمر کی حدوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے برسوں کا بوجھ بے معنی ہو جاتا ہے اور ان کا وجود ایک زندہ دلیل بن جاتا ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کے ارادے میں پوشیدہ ہے۔
ناکومیران کی زندگی اسی سچائی کا عملی ثبوت ہے۔ وہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ بڑھاپا جسم کی کیفیت کا نام نہیں بلکہ سوچ کے جمود کا نام ہے۔ جب تک انسان کے اندر سوال زندہ رہیں، جب تک اس کا ضمیر بیدار رہے، اور جب تک مقصد کی روشنی بجھنے نہ پائے، تب تک اس پر زوال کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ موسموں کے بدلنے سے نہیں بدلتے بلکہ اپنے نظریے کی طرح ثابت قدم رہتے ہیں۔
ان کا کردار یہ درس دیتا ہے کہ جدوجہد کسی مخصوص نسل کی میراث نہیں۔ قومیں صرف نوجوانوں کے جوش سے نہیں بلکہ بزرگوں کی بصیرت سے بھی زندہ رہتی ہیں۔ جب تجربہ اور توانائی ایک ہی دھارے میں مل جائیں تو تاریخ کا دھارا بدل جاتا ہے۔ ناکو میران اسی امتزاج کی علامت ہیں وہ ثابت کرتے ہیں کہ قومی ذمہ داری عمر کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔
انسان کی اصل پہچان اس کے برس نہیں بلکہ اس کا شعور ہوتا ہے۔ عمر کا عدد محض ایک ظاہری پیمانہ ہے، جبکہ انسان کی قدر اس کے کردار، اس کی وابستگی اور اس کی قربانی سے طے ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اجتماعی خوابوں کے امین بن جاتے ہیں، وہ وقت کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ ناکومیران کی زندگی ہمیں یہ ابدی سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کے یقین میں ہوتی ہے۔ وقت سب کچھ چھین سکتا ہے مگر وہ ارادے کو شکست نہیں دے سکتا۔ جو شخص اپنے نظریے کے ساتھ آخری دم تک کھڑا رہے، وہ کبھی بوڑھا نہیں ہوتا وہ صرف تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔











































