بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنہیں آپ دہشت گرد سمجھتے ہیں، بلوچستان کے لوگ انہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب وہاں فوج آتی ہے تو لوگ گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں اور مائیں خوف کے عالم میں دعا کرتی ہیں کہ اللہ ہمیں ان سے بچائے۔
لیکن جب سرمچار شہروں میں آتے ہیں تو لوگ ان کے ساتھ سیلفیاں لیتے ہیں، خواتین گھروں سے کھانا لے کر آتی ہیں۔ آپ انہیں جو بھی نام دیں، مگر عوام انہیں اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیں۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ لاہور سے یہ سب چیزیں آپ کو نظر نہیں آتیں، لیکن ہم یہ سب کچھ بلوچستان میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اس ملک کے قیام کی تاریخِ پیدائش تک کو تبدیل کر دیا گیا۔ 15 اگست کے بجائے 14 اگست رکھا گیا، بالکل فارم 47 کی طرح تاریخ بھی بدل دی گئی۔
انہوں نے خان آف قلات اور قائداعظم محمد علی جناح کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کاپی لہراتے ہوئے کہا کہ سات ماہ بعد خان آف قلات اور جناح کے درمیان یہ معاہدہ ہوا تھا کہ بلوچستان خودمختار ہوگا، لیکن اس پر کبھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ ایک ٹویٹ پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سترہ، سترہ سال کی سزا دی گئی، مگر ملک کو توڑنے اور لوٹنے والوں کو ایک دن کی سزا بھی نہیں ہوئی۔ مہرنگ بلوچ اسلام آباد آئیں، مگر اس سردی میں ان کی میزبانی ٹھنڈا پانی پھینک کر کی گئی۔ بلوچستان میں ہونے والی زیادتیوں پر کسی کو احتجاج کا حق تک حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر اختر مینگل مسلح لوگوں کی ذمہ داری لے لیں تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ اس پر سردار اختر مینگل نے کہا، کیا میں بی ایل اے کا نمائندہ ہوں؟ ہمارے لوگوں نے پہلے بھی ذمہ داری لی—آغا عبدالکریم کی ذمہ داری لی گئی، نواب نوروز خان کی ذمہ داری لی گئی—ان کے ساتھ کیا ہوا؟
انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر سمیت کچھ لوگوں نے نواب اکبر بگٹی سے جا کر بات کی، اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ سزائے موت اور عمر قید۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ میں کسی کرنل یا جنرل کا محتاج نہیں ہوں۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ مسلح جدوجہد کرنے والوں کو کچھ لوگ دہشت گرد کہتے ہیں، لیکن جب وہ عوام کے درمیان آتے ہیں تو لوگ ان کے ساتھ سیلفیاں لیتے ہیں اور انہیں اپنا محافظ سمجھتے ہیں۔














































