قائدین کی ضمانت مؤخر اور آزادی سلب کرنا عدلیہ کی آزادی پر سوالیہ نشان ہے، بی وائی سی

39

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کی قیادت، جن میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، گلزادی بلوچ اور بیبو بلوچ شامل ہیں، تقریباً ایک سال سے جیل میں قید ہے۔

کمیٹی کے مطابق یہ گرفتاری ایک منظم قانونی اور طریقہ کار کی حکمتِ عملی کے تحت کی گئی ہے تاکہ رہنماؤں کو مسلسل حراست میں رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر انہیں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (3-MPO) کے تحت تین ماہ تک بغیر مقدمہ چلائے قید رکھا گیا۔ اس مدت کے بعد رہائی کے بجائے ریاست نے متعدد سیاسی نوعیت کے مقدمات درج کیے۔ اگرچہ ان میں سے کئی مقدمات قابلِ ضمانت تھے، لیکن بار بار جسمانی ریمانڈ، تفتیشی رپورٹس میں تاخیر اور طریقہ کار کی پیچیدگیوں کے ذریعے رہنماؤں کی آزادی روکی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ کئی مقدمات کی تفتیش مکمل ہوچکی اور چالان عدالتوں میں جمع کرائے جاچکے ہیں، لیکن ضمانت یا تو مسترد کی گئی یا مسلسل مؤخر کی جاتی رہی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے واضح کیا کہ رہنماؤں پر لگائے گئے الزامات پرتشدد کارروائیوں سے متعلق نہیں بلکہ سیاسی مزاحمت اور پرامن جدوجہد سے جڑے ہیں، جو جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔

کمیٹی نے بتایا کہ 17 دسمبر 2025 کو ہائی کورٹ نے مختلف مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں سن کر فیصلہ محفوظ کیا، لیکن تقریباً تین ماہ تک کوئی فیصلہ نہیں سنایا گیا۔ بالآخر 23 فروری 2026 کو عدالت نے ضمانت کی درخواستیں نمٹا دیں اور مقدمات کو ٹرائل کے لیے آگے بڑھانے کا حکم دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ضمانت کے معاملات میں تاخیر کا مطلب مزید ایام قید ہے، جس سے عدالتی آزادی اور شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

کمیٹی نے زور دیا کہ یہ معاملہ صرف ایک ضمانت کا نہیں بلکہ آئینی آزادی، انصاف کے عمل کی ساکھ اور عوامی اعتماد کا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرائل کو شفاف اور فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ ضمانت کے اصولوں کو مساوی طور پر لاگو کیا جائے۔ عدالتی فیصلے بروقت، مدلل اور بیرونی دباؤ سے آزاد ہوں۔

بیان کے آخر میں کہا گیا کہ “انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔