اکتیس جنوری کی سرد صبح بلوچستان کے لیے معمول کی صبح ثابت نہ ہوسکی۔ اسی دن بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے مسلح حملوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ تنظیم نے ان کارروائیوں کو “آپریشن ہیروف 2“ کا نام دیا اور وقفے وقفے سے میڈیا کو اس حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی رہیں۔
بی ایل اے کی جانب سے جاری بیانات کے مطابق ان حملوں میں مختلف عمر کے افراد نے حصہ لیا، جن میں نوجوان لڑکے، لڑکیاں اور عمر رسیدہ افراد بھی شامل تھے۔ تنظیم نے خاص طور پر ان سرمچاروں کی تفصیلات جاری کیں جو مجید برگیڈ سے وابستہ تھے۔ مجید برگیڈ، بی ایل اے کا فدائی یونٹ ہے جو خودکش حملوں میں حصہ لینے والے افراد پر مشتمل ہے۔
ان واقعات کے دوران گوادر محاذ سے بی ایل اے کے آفیشل میڈیا چینل “ہکل“ پر ایک ویڈیو جاری کی گئی، جس میں ایک نوجوان خاتون کو مسلح حالت میں مرد جنگجوؤں کے ساتھ لڑتے ہوئے دکھایا گیا۔ ابتدائی ویڈیو میں اس خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور چہرے کو دھندلا رکھا گیا تھا۔ تاہم دو روز بعد تنظیم نے نہ صرف اس خاتون کی شناخت ظاہر کی بلکہ اس کی تصاویر اور مزید ویڈیوز بھی جاری کیں۔
حوا بلوچ کون تھیں؟
بی ایل اے کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق اس نوجوان خاتون کی شناخت “حوا بلوچ“ کے نام سے کی گئی۔ وہ نبی بخش بلوچ کی بیٹی تھیں اور ضلع کیچ کے علاقے تمپ کوہاڈ سے تعلق رکھتی تھیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق حوا بلوچ ایک قوم پرست گھرانے میں پلی بڑھیں۔ ان کے والد بھی بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ رہے اور اسی جدوجہد کے دوران مارے گئے تھے۔
حوا بلوچ کا خاندان سیاسی طور پر متحرک اور قوم پرستانہ سوچ کا حامل بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کے خاندان کے کئی افراد اس تحریک کا حصہ ہیں۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھیں اور ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کوہاڈ سے حاصل کی تھی۔
ایک قلم کار اور مطالعے کی شوقین
حوا بلوچ کی شخصیت صرف ایک مسلح جدوجہد تک محدود نہیں تھی۔ قریبی لوگوں کے مطابق وہ ایک حساس ذہن کی مالک تھیں اور لکھنے پڑھنے سے خاص لگاؤ رکھتی تھیں۔ وہ بلوچی زبان میں مضامین، افسانے اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی رہتی تھیں۔ ان کے دوستوں کے مطابق کتابیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی تھیں اور مطالعہ ان کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ تھا۔
حوا بلوچ کی زندگی بیک وقت کئی پہلوؤں پر مشتمل تھی ایک طالبہ، ایک لکھاری، ایک سیاسی سوچ رکھنے والی نوجوان خاتون اور بالآخر ایک ایسی شخصیت جو مسلح محاذ کا حصہ بنی۔
حوا بلوچ کی کہانی دراصل آج کے بلوچ نوجوان کی اجتماعی کہانی ہے، جو مسلح جدوجہد کو ہی واحد راستہ سمجھنے ہیں۔ حوا بلوچ کا قلم سے بندوق تک کا سفر اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
















































