جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6067ویں روز جاری

60

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وی بی ایم پی کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6067ویں روز میں داخل ہوگیا۔

اس دوران مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حکومت جبری گمشدگیوں کے حوالے ایک ایکٹ منظور کیا، جس میں حکومت نے دعوی کیا کہ اب جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل ہوگیا، کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے، جس شخص کو ملکی ادارے حراست میں لینگے، اس کو چوبیس گھنٹوں کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اور بلوچستان میں دو حراستی مرکز بنائے گئے ہیں، گرفتار افراد کو ان حراست مرکز میں رکھا جائے گا، اور ان کی خاندان کا ان سے ملاقات بھی کرایا جائے گا

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ اس ایکٹ کے منظور ہونے کے بعد سینکڑوں کے تعداد میں بلوچستان سے بلوچوں کو حراست میں لیاگیا ہے، لیکن انہیں اب تک کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیاگیا ہے، اور نہ ہی ان کے لواحقین کو ان کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جارہا ہے

انہوں نے کہا کہ تنظیمی سطح پر اس قانون پر خدشات کا اظہار کیا تھا، کہ اس ایکٹ میں جو وعدے کیے گئے ہیں، ان پر عمل درآمد نہیں ہوگا، بلکہ اس ملکی اداروں کی ماورائے قانون اقدامات کو قانونی تحفظ ملے گا، ہمارے خدشات سچ ثابت ہورہے ہیں، ملکی ادارے ملکی سلامتی کے نام پر جبری گمشدگیوں میں تیزی لائی ہے، اور جبری لاپتہ افراد کو کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا ہے، اور نہ ہی ان کے لواحقین کو معلومات فراہم کیا جارہا ہے

نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے منظور ہونے والے ایکٹ میں جو وعدے کیے گئے ہیں، ان پر فوری طور پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، اور جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر مبظر عام پر لاکر عدالتوں میں پیش کیا جائے، اور ان کے لواحقین کی ان سے ملاقات کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر وی بی ایم پی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہے۔