جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے حکومتی دعوے بے بنیاد ہیں۔ نصراللہ بلوچ

14

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6072 دن مکمل ہو گئے ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کابینہ کے 22ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے انتہائی پُراعتماد انداز میں دعویٰ کیا کہ یکم فروری کے بعد بلوچستان سے مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جس کسی شخص کو ملکی ادارے حراست میں لیں گے، انہیں جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا بلکہ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بنائے گئے ایکٹ 2025 کے تحت حراستی مراکز میں رکھا جائے گا، اور ان کے لواحقین کو ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا یہ بیان حقائق کے برعکس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2 فروری کو بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد محمد بخش ساجدی، چچا نعیم ساجدی اور ماموں رفیق بلوچ کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے اسکائی بلیو، حب چوکی میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ابھی تک نہ تو انہیں منظرِ عام پر لایا گیا ہے اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت سے متعلق کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح بلوچستان کے مختلف علاقوں سمیت کراچی سے بھی مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، لیکن انہیں نہ کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خاندانوں کو ان کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔

نصراللہ بلوچ نے وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے دیے گئے حالیہ عوامی بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جن میں یہ عندیہ دیا گیا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے اہلِ خانہ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات اجتماعی سزا کے سنگین خدشات کو جنم دیتے ہیں، جو کہ جبری گمشدگیوں کی طرح ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی قوانین میں واضح طور پر درج ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کے خاندان کے کسی فرد کے عمل کی بنیاد پر سزا دینا ماورائے قانون اقدام تصور کیا جائے گا۔ لہٰذا حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ماورائے قانون اقدامات اور اجتماعی سزا کی بنیاد پر شہریوں کے خلاف کارروائیاں بلوچستان کے حالات بہتر نہیں کر سکتیں۔
بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ انہی اقدامات کے باعث حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ اسی لیے ہم ایک بار پھر حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اجتماعی سزا کی بنیاد پر کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کی حوصلہ افزائی نہ کریں،لاپتہ افراد کے بارے میں فوری طور پر ان کے لواحقین کو معلومات فراہم کی جائیں،ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے،جبری طور پر لاپتہ افراد کو قانونی مشیروں تک رسائی دی جائے،بے گناہ افراد کو فوری رہا کیا جائے،اور ملکی اداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ہر اقدام آئین و قانون کے تحت کریں اور ماورائے قانون کارروائیوں سے گریز کریں،
تاکہ بلوچستان کے حالات میں بہتری آئے اور اہلِ بلوچستان میں پھیلی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔