تقسیم کرو، کمزور کرو- نئی پالیسی، نیا باب
تحریر: جعفر قمبرانی
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچستان کی موجودہ صورتحال کی پیش نظر جہاں ہر طرف گہما گہمی اور پانچ دنوں سے پندرہ سے زائد شہر حکومت کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں، پورے بلوچستان میں تعلیمی اداروں سے لیکر بینک، کاروباری مراکز اور گراؤنڈ سیاست حالات کی نزر ہوچکے ہیں، اچکزئی صاحب کا ایک نیا بحث چھیڑنا مزحکہ خیز ھے۔
یہی وہ وقت ہے کہ بلوچستان میں بلوچ پشتوں ہزاراں اور دیگر کو یکجاہ ہوکر ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونا چاہئیے کہ ہائے روز تنخواہوں، مراعات، ڈی آر اے، لاپتہ افراد اور قومی شناخت کیلے رونے سے بہتر ہے کہ ایک ہی فیصلے سے تمام مسائل کو حل کرکے سکون کا سانس لیا جائے مگر حکومتی وہی پرانی پالیسی جو ازل سے نوآبادیاتی نظام کا شیوہ رہا ہے کہ “تقسیم کرو حکومت کرو” ایک نئی صورت میں سامنے آئی ہے۔ چونکہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہر مظلوم طبقے کا حکومت سے دل برداشتہ ہونے کا ٹھوس امکانات موجود ہے اسی لئے حکومت نے سیاسی و عوامی سطح پر بلوچستان میں بسنے والے دو بڑے طبقوں (بلوچ پشتوں) کو آپس میں بےسود بحث میں دھکیل دیا ہے جس کیلئے پارلیمنٹ میں بیٹھے بلوچ پشتوں نام و نہاد قوم پرستوں کا استعمال ہونا ایک ضروری امر ھے۔
محمود خان اچکزئی ہو یا کوئی بلوچ پارلیمان، بلوچستان کے باسیوں کا انکے کسی بات پر دل شکستہ ہوکر شور برپا کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اسمبلی میں بیٹھے بلوچ و پشتوں ارکین کا ہمارے لئے ہونے اور نا ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔
یہ وہی بولتے ہیں جو انہیں بتایا جاتا ہے۔ وہی کرتے ہیں جن کے لئے انکی تجوریاں بھر دی جاتی ہے۔ یہ کسی فیصلہ سازی میں حصہ لیکر بھی بےسروسامان اور ہٹکے رہتے ہیں کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بلوچستان کے سیٹوں کی حساب ایسی نہیں کہ اکثریت سے کوئی فیصلہ اپنے حق میں کروائی جائے۔ وہاں اکثریت ہی اغیار کی ہے جن کی نظر صرف اور صرف بلوچستان کے معدنی وسائل پر ہٹکی ہوئی ہے۔
بلوچستان کا کوئی بھی فیصلہ قوم پرستوں، ججوں اور بیوروکریٹس کے اختیار میں نہیں۔
اس بات کا واحد اور ٹھوس ثبوت کوئٹہ ہائی کورٹ کی وہ جج ہے جس کو بلوچستان کے ہر دلعزیز رہنما ڈاکٹر ماہرنگ نے سامنے سے یہ کہہ کر چھپ کرایا کہ “آپ وہی فیصلہ سنائیں گے جو آپ کو لکھ کر دیا جاچکا ہے، لحاظہ میری بات سنیں اور لکھے کو پڑھ کر سنائیں۔”
یاد رہے اسمبلی، عدالت اور دفاتر میں بیٹھے بلوچ، پشتوں و دیگر مہرے ہے جن کو کسی بیانے کو توڑنے یا جوڑنے کیلے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور چانکہ بیانیے کو پھیلانے والے آلات بھی حکومت کے زیر کنٹرول ھے تو ہونا وہی ہے جو ہمارے حق میں ہرگز اچھا نہیں۔ نہ بلوچ اور نا پشتونوں کے حق میں!
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا آج کے دور کا سب سے بڑا اور اہم پلیٹ فارم ھے جہاں کسی سیاسی و سماجی بیانیہ کو لیکر عوامی توجہ کسی اہم چیز سے غیر اہم کی طرف مبزول کرائی جاسکتی ہے۔
بلوچ اور پشتوں عوام کو چاہئیے کہ اپنے اصل مسائل پر توجہ دیں، اچکزئی، مینگل و دیگر کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ پر مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ انکے الفاظ ہی نہیں۔
البتہ یہ ایک الگ بحث ہے کہ شال کس کا ہے اور کون اس کا اصل ‘خواجہ’ ھے۔ موجودہ صورتحال میں بلوچ اور پختونوں کو متفق و متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اپنی قومی شناخت کی حفاظت کرنے اور اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے ایک دلیرانہ راستے کا انتخاب کر سکیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































