بی ایل اے نے نوشکی میں فدائی حملہ کرنے والی 60 سالہ خاتون فدائی ہتم ناز کی تفصیلات جاری کر دی

535

تنظیم نے اپنے ایک اور فدائین کی تصویر و تفصیلات اپنے آفیشل چینل ہکل پر شائع کیا ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی نے نوشکی میں آپریشن ھیروف میں حصہ لینے اپنے ایک اور بزرگ خاتون فدائی کی تفصیلات جاری کر دیئے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی نے خاتون حملہ آور کی شناخت 60 سالہ فدائی ہتم ناز سمالانی ولد نور محمد سمالانی سکنہ غربوک بولان کی رہائشی کے نام سے کی ہے۔

تنظیم کے مطابق انہوں نے 2015 بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور 2016 میں جنرل اسلم بلوچ کے خلاف ایک فوجی آپریشن میں زخمی ہوئیں ۔

جس کے بعد پاکستانی فوج نے انہیں اغوا کیا اور وہ چار ماہ تک جبری طور پر لاپتہ رہیں۔ جنوری 2023 میں انہوں نے فدائی فیصلہ کیا۔

تنظیم نے کہا ہے کہ اس عمر میں، جب زندگی سے کنارہ کشی اور خاموشی کی توقع کی جاتی ہے، ان کا راستہ اس کے برعکس رہا۔ ان کی داستان زخم، گمشدگی اور بقا سے عبارت ہے، جو دہائیوں کے دکھ اور مزاحمت کا بوجھ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ عزم کسی وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کے تجربے اور ثابت قدمی سے تراشا گیا ہے۔

اس سے قبل بی ایل اے نے گوادر، پسنی اور نوشکی میں حملوں میں حصہ لینے والے ‘فدائین’ حوا بلوچ اور بزرگ رکن ناکو میران اور آصفہ مینگل کی تصاوری اور تفصیلات جاری کیئے تھیں۔

یاد رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ھیروف کے تحت کوئٹہ نوشکی سمیت درجن بھر شہروں کو منظم اور مربوط حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ نوشکی اور گوادر میں تاحال بی ایل اے کے رکن اور پاکستانی فورسز کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق بی ایل اے کے ارکان تاحال شہر کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ پاکستانی فورسز کے کیمپس پر حملے کررہے ہیں۔

بی ایل اے کے مطابق جھڑپوں کا سلسلہ 40 گھنٹے گزر جانے کے باوجود جاری ہیں، جبکہ تنظیم نے ابتک اپنے دو خواتین اور ایک بزرگ فدائین کے تفصیلات شائع کئے ہیں، جن میں خاتون فدائی حوا بلوچ عرف دروشم اور فضل بلوچ عرف ناکو میران شامل ہیں۔