بلوچ مسلح بغاوت میں خواتین کی شمولیت: بی ایل اے جنوبی ایشیاء میں سب سے منظم گروپ بن چکا ہے۔ رائٹرز

76

فوجی یونیفارم پہنے کندھوں پر بندوقیں لٹکائے یاسمہ بلوچ اور اس کے شوہر وسیم کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے ہیں ان کی یہ تصویر پاکستان کے خلاف لڑنے والے مسلح گروہ کی جانب سے اس وقت جاری کی گئی جب دونوں نے اپنا آخری مشن مکمل یعنی خودکش حملہ مکمل کیا۔

انہوں نے آخری مورچے پر کھڑے ہونے سے پہلے ایک ساتھ زندگی گزاری، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے یہ تصویر صحافیوں کو بھیجی گئی اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔

یہ تصویر ان آدھے درجن فوٹوز اور سوانح عمریوں میں شامل تھی جن کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق یہ وسائل سے مالا مال پاکستان کے زیر انتظام بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی طرف سے اپنی تحریک کی کشش دکھانے کی ایک کوشش ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام سب سے بڑے مگر غریب ترین خطہ میں گزشتہ سال مسلح حملوں نے ریکارڈ توڑ دیا، جس سے خطے میں منصوبہ بند بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بشمول چین اور امریکا کی دلچسپیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

پاکستانی وزیرِ داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد شورش پسندوں کی دہائیوں پر محیط جدوجہد جس کا مقصد زیادہ خودمختاری اور وسائل و اہم معدنیات میں زیادہ حصہ ہے میں بھرتیوں میں اضافہ کرتی ہے۔

طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خواتین کی شمولیت سے انہیں شہرت اور رسائی ملتی ہے، اور یہ اپنی برادری پر یہ تاثر چھوڑتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف جنگ اب ان کے گھروں تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ آن لائن بھرتیوں کے مسئلے کو اٹھایا ہے۔

اعلیٰ سرکاری افسر حمزہ شفاعت نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوری میں ہونے والے اس گروپ کے سب سے بڑے حملوں کی لہر میں 58 افراد مارے گئے اور صوبہ تقریباً مفلوج ہوگیا میں شامل چھ خواتین میں سے تین خودکش بمبار تھیں۔

ریکارڈ کے مطابق اس سے پہلے بی ایل اے کی جانب سے مجموعی طور پر پانچ خواتین خودکش حملہ آور رہیں، جس میں 2022 کا پہلا حملہ بھی شامل ہے، جبکہ گزشتہ چند ماہ میں مزید تین مبینہ خواتین حملہ آوروں کو کاؤنٹر ٹیررازم کارروائیوں میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اگرچہ حکام کے مطابق بی ایل اے میں شامل خواتین کی تعداد کم ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بھرتیاں بلوچ آبادی میں اس گروہ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی علامت ہیں۔

جنوبی ایشیا میں مسلح تصادم کا مقام اور واقعہ کا ڈیٹا پروجیکٹ کے رکن تجزیہ کار پرل پانڈیا کے مطابق یہ شورش اب روایتی طور پر مردوں کے غلبے والے قبائلی و سرداری ڈھانچوں سے نکل کر وسیع تر سماجی طبقات تک پھیل گئی ہے۔

’سب سے مہلک شورش پسند گروہ

خواتین کی شمولیت ایک ایسی تحریک کی گونج کو بڑھاتی ہے جس کے بارے میں پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد وہاں چھوڑے گئے اسلحے کے بڑے ذخیرے تک رسائی حاصل کرکے اپنی آتش فشانی صلاحیت کو بڑھایا ہے۔

سنگاپور کے نین یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی میں شورش پسندی و عسکریت پر تحقیق کرنے والے محقق عبدالباسط نے کہا جنوبی ایشیا میں آج بی ایل اے سب سے زیادہ منظم اور مہلک مسلح گروہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گروہ ڈرونز کا استعمال کرکے فوجی نقل و حرکت اور کمزور مقامات کی نشاندہی کرتا ہے، اور فروری 2025 میں 400 سے زائد مسافروں کے ساتھ جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنانے کے دوران سیٹلائٹ کمیونیکیشن استعمال کی گئی تھی۔

’حملوں کی تزویراتی ارتقا

تقریباً ایک ہفتے جاری رہنے والی جھڑپوں میں جن 216 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ان سے برآمد ہونے والے سامان میں گرنیڈ لانچر سے لے کر درجن بھر سے زائد ایم-16 اور ایم-4 رائفلیں شامل تھیں۔

رائٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ بی ایل اے کے حملوں میں استعمال ہونے والے جدید ہتھیار واقعی امریکی ساختہ تھے یا کسی اور ذریعے سے آئے۔

یہ تحریر عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے علاقائی و بینل اقوامی تجزیہ کاروں کے تجزیات پر انگلش میں شائع کیا ہے جسے دی بلوچستان پوسٹ اپنے کارئین کے لئے اردو میں پیش کررہا ہے۔