بلوچ لبریشن آرمی حملے، حکومتی دعوے اور زمینی حقائق

212

31 جنوری کو بلوچستان کے ساحلی شہروں کوئٹہ، گوادر، پسنی، دالبندین، خاران اور نوشکی سمیت بلوچستان کے بارہ مختلف شہروں میں بیک وقت حکومتی اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا آغاز کیا گیا۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کا حصہ قرار دیا۔

حملوں کے دوران نشانہ بننے والے علاقوں کے مکینوں کے مطابق شدید دھماکوں اور فائرنگ کے باعث لوگ خوف زدہ ہو گئے تھے، تاہم بعد ازاں جب یہ معلوم ہوا کہ علاقے میں بی ایل اے کے جنگجو داخل ہو چکے ہیں تو مقامی افراد معمول کے مطابق گھروں سے باہر نکل آئیں۔ کوئٹہ اور نوشکی سمیت بعض شہروں میں خواتین، بچوں اور نوجوانوں نے جنگجوؤں کو پانی اور کھانا فراہم کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اسلحہ بردار افراد کے گرد جمع ہو کر تصاویر اور ویڈیوز بنا رہے ہیں۔

کوئٹہ کے ایک رہائشی نے دی بلوچستان پوسٹ کو بتایا کہ عام دنوں میں گھر سے نکلتے وقت سب سے پہلے شناختی کارڈ کی فکر ہوتی ہے کہ کہیں کسی گلی، محلے یا چیک پوسٹ پر سکیورٹی فورسز شناخت کے نام پر نہ روک لیں یا شک کی بنیاد پر لاپتہ نہ کر دیں، لیکن اس دن گلی محلوں میں فوج کے بجائے مقامی اور شناسا چہرے پہرے دے رہے تھے، جس کے باعث پہلی بار گھر سے نکلتے ہوئے خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کے جنگجوؤں کا رویہ عام شہریوں کے ساتھ احترام پر مبنی تھا اور کسی بھی موقع پر نہتے افراد کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

بی ایل اے کے آفیشل میڈیا چینل ہکل پر دورانِ جنگ گوادر سے خاتون جنگجو کی کمان کے حوالے سے ایک آڈیو پیغام بھی نشر کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے لوگوں کو گھروں سے باہر نکالا گیا، تاہم اس دوران پاکستانی فوج کی جانب سے راکٹ داغے گئے۔ مقامی افراد کے مطابق ان حملوں میں بارہ مزدور اور خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس دوران بی ایل اے کی جانب سے جنگی صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ تفصیلات اپنے آفیشل چینل کے ذریعے نشر کی جاتی رہیں، جبکہ عسکری اور سرکاری حکام کی جانب سے طویل وقت تک کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

آج پانچویں روز بھی ان علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی نظام معطل ہیں، جبکہ نوشکی میں تاحال بازار نہیں کھل سکے۔

دوسری جانب پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں حالیہ آپریشنز کے دوران 216 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 29 جنوری 2026 کو ضلع پنجگور اور ہرنائی کے نواحی علاقوں میں کارروائیاں اس وقت شروع کی گئیں جب شدت پسند عناصر مقامی آبادی کے لیے فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔ ان کارروائیوں کے دوران مبینہ طور پر 41 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بعد ازاں مختلف علاقوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے مجموعی طور پر 216 شدت پسند مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں میں 36 عام شہری، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ 22 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

ادھر بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ آپریشن ہیروف فیز ٹو پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلسل جاری ہے۔ ان کے مطابق متعدد محاذوں پر بی ایل اے کے جنگجو مضبوط پوزیشنوں پر موجود ہیں اور کئی علاقوں میں کنٹرول برقرار ہے۔

بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی اور محتاط اندازوں کے مطابق اب تک پاکستانی فوج، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے زیرِ سرپرستی قائم مبینہ ڈیتھ اسکواڈز کے کم از کم 310 اہلکار اور کارندے ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ زمینی صورتحال کے پیش نظر ان نقصانات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ اگر آزاد میڈیا ان دعوؤں کی تصدیق اور زمینی حقائق کا آزادانہ جائزہ لینا چاہتا ہے تو نوشکی، دالبندین، کوئٹہ، خاران، مستونگ، گوادر، پسنی، تمپ اور تربت سمیت کسی بھی فوجی کیمپ کا دورہ کر سکتا ہے۔

بی ایل اے کے مطابق آپریشن کے دوران اب تک تنظیم کے 46 جنگجو مارے جا چکے ہیں، جن میں 29 مجید بریگیڈ کے فدائین، 10 فتح اسکواڈ اور 7 ایس ٹی او ایس یونٹ کے ارکان شامل ہیں۔

کوئٹہ کے ایک رہائشی نے بتایا کہ پانچویں روز بھی ریڈ زون کے علاقے سیل ہیں اور حملوں کے بعد تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ تاحال سڑکوں پر بکھرا ہوا ہے۔ مقامی صحافیوں نے بھی شکایت کی ہے کہ انہیں بروقت رپورٹنگ سے روکا گیا۔

کوئٹہ میں گزشتہ روز منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت پر شدید تنقید کی گئی، جہاں مقررین کا کہنا تھا کہ ایک طرف حالات کو پرامن قرار دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بڑی تعداد میں مسلح افراد مارے گئے، حالانکہ حملہ آور خود ریاستی مراکز تک پہنچے۔

حکومتی اور عسکری دعوؤں کے برعکس، پانچویں روز بھی بلوچستان میں حالات معمول پر نہیں آ سکے، جبکہ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی نظام کی بندش نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔