بلوچستان میں ڈرونز کے استعمال پر دفعہ 144 کے تحت فوری پابندی نافذ

1

محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے بلوچستان بھر میں ڈرونز، یو اے ویز، کواڈ کاپٹرز، کیم کاپٹرز اور دیگر ریموٹ کنٹرول فضائی آلات کے استعمال، قبضے اور آپریشن پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نگرانی، جاسوسی، ممنوعہ اشیا اور دھماکہ خیز مواد کی ترسیل، خوف و ہراس پھیلانے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عوامی تحفظ، حساس اور اہم تنصیبات، عوامی اجتماعات اور اہم شخصیات و قافلوں کی نقل و حرکت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے بلوچستان بھر میں ڈرونز کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور تاحکم ثانی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعلامیہ کے مطابق پولیس اور فرنٹیئر کور کو پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو روزانہ کی بنیاد پر عمل درآمد کی رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

خیال رہے یہ اعلامیہ ایسے وقت جاری گیا ہے جب گذشتہ روز افغانستان نے “جوابی کاروائیوں” کے تحت ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

رواں مہینے بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے فضائی یونٹ “قہر” کا اعلان کیا تھا۔ ترجمان جیئند بلوچ نے ایک بیان میں کہ تنظیم کا جدید فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر” (QAHR – Qazi Aero Hive Rangers) باقاعدہ طور پر آپریشنل ہوچکا ہے، اور آپریشن ہیروف دوم کے دوران اپنے ابتدائی آپریشنز انتہائی کامیابی سے مکمل کرچکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ قہر کی پہلی عملی کارروائیاں آپریشن ہیروف دوم کے دوران انجام پائیں۔ ان کارروائیوں میں سب سے نمایاں گوادر پورٹ پر کیئے گئے منظم اور مربوط ڈرون حملے تھے۔ ان حملوں میں دشمن کے عسکری انفراسٹرکچر، بندرگاہی تنصیبات، اور مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔