بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا تسلسل: دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مذمت

36

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ تنظیم ضلع کیچ میں دو نوجوانوں کی لاشوں کی برآمدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ یہ واقعات جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے تسلسل کی ایک اور ہولناک مثال ہیں، جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں۔

17 سالہ طالب علم منظور بلوچ ولد نبی بخش کو 8 جولائی 2025 کو رات گئے ان کے گھر کولواہی بازار، آبسر سے زبردستی لاپتہ کیا گیا تھا۔ نو ماہ تک ان کے اہل خانہ انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، مگر نہ کوئی مقدمہ سامنے لایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا۔ 26 فروری 2026 کو ان کی لاش کیچ کور، تربت سے برآمد ہوئی۔

مزید کہاکہ اسی طرح عمران تاج بلوچ ولد محمد تاج، عمر 26 سال، جو یونیورسٹی آف تربت کے طالب علم تھے، کو 27 جون 2025 کو دن دیہاڑے راستے سے حراست میں لیا گیا۔ 27 فروری 2026 کو ان کی لاش بھی کیچ کور سے ملی، جس پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ یہ اقدامات آئین، بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دونوں واقعات کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔

آخر میں کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور مؤثر اقدامات کریں۔