اماں ہوری کی یاد میں – گل زادی بلوچ

24

اماں ہوری کی یاد میں

تحریر: گل زادی بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‎جیجا ہوری وہ باہمت ماں تھیں جن کے بیٹے گل محمد مری کو چودہ برس قبل جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، بیٹے کی جبری گمشدگی کے بعد انہوں نے جس صبر، حوصلے کے ساتھ جدوجہد کا آغاز کیا، وہ آخری سانس تک جاری رہا۔ انہوں نے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کی، صرف اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے نہیں بلکہ تمام لاپتہ بلوچ افراد کے حق میں۔ ان کی پکار ایک ماں کی فریاد بھی تھی اور ایک قوم کی آواز بھی۔

انہوں نے جس ثابت قدمی سے مزاحمت کے شمع روشن رکھے، ریاستی جبر بھی اسی تسلسل سے انکے اور انکے خاندان کا تعاقب کرتا رہا۔ ان کی وفات بھی اسی طویل اذیت اور ریاستی جبر کے تسلسل کی ایک کڑی محسوس ہوتی ہے۔ حالیہ فوجی آپریشنز کے دوران ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ ان کے کمسن بیٹے کو ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے گھسیٹتے اور تشدد کرتے ہوئے گھر سے باہر نکالا۔ لمہ ہوری ننگے پاؤں اس کے پیچھے دوڑتی رہی ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتی رہی کہ ان کا یہ بیٹا ان سے نہ چھینا جائے کیونکہ بلوچستان کے حالیہ حالات جن میں ہر گزرتے دن کیساتھ نوجوانوں کو جبری لاپتہ اور پھر فیک انکاؤنٹرز میں شہید کرنا ریاستی فوج کا معمول بن چکا ہے، اس خیال نے ہی لمہ ہوری کو بستر مرگ تک پہنچایا کہ کہیں اسکے بیٹے کو بھی ریاستی اہلکار اسی پالیسی شکار نہ بنائیں۔ اس کربناک منظر نے ان کے دل پر ایسا گہرا صدمہ ڈالا کہ وہ بے ہوش ہو گئیں۔ انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دو روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہیں اور پھر اپنے بیٹے کی یادوں، اپنی فریادوں اور ایک طویل انتظار کو دل میں سموئے اس جہان سے رخصت ہو گئیں۔

ریاستی جبر نے انہیں زندگی بھر کرب و اذیت میں مبتلا رکھا اور عمر کے آخری حصے میں بھی انہیں سکون نصیب نہ ہونے دیا۔ جیجا ہئوری ایک دلیر ماں، ثابت قدم انقلابی کارکن اور بلوچ تحریک کی توانا آواز تھیں۔ میں نے انہیں ہر احتجاج، ہر دھرنے اور ہر عوامی اجتماع میں موجود پایا۔ اپنے پہلے سیاسی سفر، لانگ مارچ 2024، کے دوران بھی میں نے انہیں ہر روز نئے عزم اور تازہ امید کے ساتھ کیمپ میں متحرک دیکھا۔

اسلام آباد کی وہ رات آج بھی میرے دل و دماغ میں تازہ ہے جب پولیس نے تاریکی میں ہم پر حملہ آور ہو کر ہماری بزرگ ماؤں کو گھسیٹتے، مارتے پیٹتے بسوں میں دھکیل دیا۔ گویا یہ پیغام دیا جا رہا تھا کہ بلوچ کبھی شہراقتدار کا رخ کرنے کی جسارت نہ کریں۔ مگر ہماری باہمت ماؤں نے اس جبر، تشدد اور انتقامی کارروائی کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ ریاست کی جانب سےانسانی حقوق، اخلاقی اقدار اور آئینی تقاضے سب پامال کیے گئے، حتیٰ کہ بلوچ خواتین کی چادروں کی حرمت بھی اسلام آباد کی سڑکوں پر محفوظ نہ رہ سکی۔

تاہم بلوچ ماؤں نے ثابت کر دیا کہ نہ تشدد انہیں توڑ سکتا ہے اور نہ ریاستی جبر ان کی مزاحمت کو خاموش کرا سکتا ہے۔ اسلام آباد ہو یا راجی مچی، دالبندین (25 جنوری 2025)، لمہ ہئوری نے اپنی ضعیف العمری اور کمزور جسم کے باوجود ہر کٹھن سفر طے کیا۔ ان کی آنکھوں میں انتظار کی نمی تھی مگر عزم میں کوئی لغزش نہ تھی۔

25 جنوری کی وہ رات بھی یادگار ہے جب ہم 49 خاندان ایک ہی گھر میں مقیم تھے۔ بستر کم پڑ گئے تو سب پریشان ہو گئے۔ اس موقع پر لمہ ہئوری نے نہایت مہربان اور نرم لہجے میں سب سے کہاکہ: “ہمیں عارضی سہولیات کی کمی پر افسردہ ہونے کے بجائے اس مقصد کو پیش نظر رکھنا چاہیے جس کے لیے ہم اتنی دور سے آئے ہیں، یعنی یکجہتی۔ غربت اور مشکلات زندگی کا حصہ ہیں، مگر ہمیں یہ وقت خوش دلی سے اور باہم محبت کے ساتھ گزارنا چاہیے۔”

یہ کہہ کر وہ مسکرائیں اور پھر اسلام آباد کے دھرنے کے ایام اور وہاں پیش آنے والے غیر انسانی اور غیر اخلاقی واقعات کا تذکرہ کرنے لگیں۔

لمہ ہوری ان شیر دل بلوچ ماؤں میں شامل تھیں جنہوں نے اپنی ذاتی اذیت کو قومی شعور میں ڈھال دیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک بلوچ قومی تحریک کے لیے خود کو وقف کیا۔ اسلام آباد دھرنا 2025 کے دوران، شدید گرمی کے باوجود، وہ مسلسل موجود رہیں اور واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، گل زادی، شاہ جی اور بیبو کو رہا نہیں کیا جاتا، وہ دھرنا ختم نہیں کریں گی۔

بعد ازاں جب وہ ہدہ جیل میں ہم سے ملنے آئیں تو ان کے چہرے پر خوشی اور آنکھوں میں اداسی ساتھ ساتھ تھیں—خوشی ہم سے ملاقات کی اور دکھ ہمیں قید میں دیکھنے کا۔ رخصت ہوتے وقت انہوں نے پُرعزم لہجے میں کہا (ہواری ء سنگت)
لمہ جان آپ کی جدوجہد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ قوم کو نہ خاموش کرایا جا سکتا ہے اور نہ جھکایا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس بہادر، مستقل مزاج دلیر اور قربانی دینے والی مائیں موجود ہیں۔ وہ مائیں جو غربت کی چکی میں پستے ہوئے اور جبری گمشدہ بیٹوں کی جدائی سہتے ہوئے بھی زندہ رہ سکتی ہیں، مگر غلامی اور خاموشی کی زندگی کبھی قبول نہیں کرتیں۔

لمہ جان، آپ کی جدوجہد، آپ کا صبر اور آپ کی استقامت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہم آپ کی مزاحمت کی راہ کو کبھی ویران نہیں ہونے دیں گے۔ آپ کی خدمات اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔