آپریشن ہیروف: طاقت کا مظاہرہ
ٹی بی پی اداریہ
بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان کے کلیدی شہروں میں بلوچ قومی مسلح جدوجہد کی تاریخ کے سب سے بڑے، منظم اور وسیع پیمانے پر حملے کیے، جو آپریشن ہیروف کے دوسرے فیز کا حصہ تھے۔ ان حملوں میں بلوچ لبریشن آرمی کے فدائی ونگ، مجید بریگیڈ، کے پچاس فدائیوں نے حصہ لیا، جو جنگی تاریخ کا ایک متاثرکن حملہ تھا، جس میں چھ دنوں تک بلوچستان میں ریاست کی عمل داری کو عملی طور پر ختم کر دیا گیا۔ چھ دنوں پر محیط آپریشن ہیروف کے دوسرے فیز سے واضح ہوا کہ بلوچ لبریشن آرمی بلوچستان میں ریاستی رٹ کو ختم کر کے کنٹرول قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بلوچستان کے تزویراتی اور معاشی حوالے سے اہم بارہ شہروں میں پاکستان فوج کے عسکری کیمپوں، پولیس اسٹیشنز، انٹیلی جنس دفاتر اور معاشی مراکز پر مربوط جنگی حملے کر کے بلوچ لبریشن آرمی نے بڑے پیمانے پر اپنی جنگی صلاحیتوں کا عملی اظہار کیا اور بلوچستان میں پاکستان فوج کی برتری کے تصور کو ختم کر دیا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی نے ان مربوط جنگی حملوں کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ بلوچستان میں فیصلہ ساز قوت بلوچ قومی ادارے ہیں اور ان کی منشا کے بغیر نہ بلوچستان میں سرمایہ کاری ممکن ہے اور نہ ہی بلوچ قوم پر فیصلے مسلط کیے جا سکتے ہیں۔
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سمیت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مرکز گوادر، اور کان کنی کے عالمی منصوبوں ریکوڈک اور سیندک سے منسلک شہروں نوشکی اور چاغی میں ہزاروں مزاحمت کاروں کی بیک وقت مربوط جنگی کارروائیاں اس حقیقت کا مظہر ہیں کہ بلوچ لبریشن آرمی کو افرادی قوت کی کمی نہیں ہے، اور مستقبل کے حملے مزید منظم، اس سے بھی زیادہ وسیع، اور بڑے پیمانے پر ہوں گے۔
کینیڈا کی عالمی مائننگ کمپنی بیرک گولڈ کا بلوچستان کی بدلتی جنگی صورتحال اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے باعث ریکوڈک منصوبے کے تمام پہلوؤں پر نظرِ ثانی کا فیصلہ بلوچستان کے زمینی حقائق اور بلوچ قومی طاقت کے اعتراف کے مترادف ہے۔
بلوچستان بھر میں چھ دنوں پر محیط متاثرکن مربوط جنگی کارروائیوں سے واضح ہے کہ مستقبل میں پاکستان فوج اور بلوچ مزاحمت کاروں کے درمیان شدید اور فیصلہ کن جنگیں ہوں گی، اور بلوچستان کے سیاسی و جنگی منظرنامے کو بدلنے میں بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ہیروف کا کلیدی کردار ہوگا۔













































