آپریشن ہیروف اور نوشکی کی جیو اسٹریٹجک اہمیت
نوشکی بلوچستان کا ایک قدیم، تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہم شہر ہے، جو رخشان ریجن کا مرکزی اور سب سے بڑا شہری مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ یہ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں واقع ہے اور کوئٹہ سے اس کا فاصلہ تقریباً 150 کلومیٹر ہے۔
نوشکی کے اطراف وسیع و عریض ریگستانی علاقے پھیلے ہوئے ہیں، جو شمال اور جنوب کی سمت ہلمند دریا کے قرب و جوار تک پھیلاؤ رکھتے ہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے نوشکی ایک سرحدی علاقہ بھی ہے، جس کے مغربی سرحدات افغانستان کے صوبہ قندھار سے ملتے ہیں، چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایران کی سرحد بھی واقع ہے۔
نوشکی محض جغرافیائی اہمیت ہی نہیں رکھتا بلکہ یہ شہر بلوچستان کی سیاسی، مزاحمتی اور ادبی تاریخ میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں سے متعدد معروف سیاسی کارکن، مزاحمتی شخصیات اور ادیب سامنے آئے ہیں۔ یہ شہر بلوچی اور براہوئی زبان و ادب کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں مزاحمتی فکر اور ادبی اظہار نے طویل عرصے سے جنم لیا ہے۔
آپریشن ہیروف: ایک ہمہ گیر کارروائیاں
31 جنوری کی علی الصبح، تقریباً پانچ بجے، بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے آپریشن ہیروف (فیز دوم) کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران بیک وقت بلوچستان کے متعدد شہروں اور علاقوں میں حملے کیے گئے، جن میں کوئٹہ، نوشکی، مستونگ، دالبندین، قلات، خاران، پنجگور، گوادر، پسنی، تربت، تمپ، منگوچر، لسبیلہ، کیچ اور دیگر علاقے شامل تھے۔ اس ہمہ گیر کارروائی کو تنظیم کی جانب سے ایک منظم اور مربوط عسکری حکمت عملی کے طور پر پیش کیا گیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران سب سے شدید جھڑپیں نوشکی میں دیکھنے میں آئیں، جہاں کارروائی کے آغاز کے بعد آج چوتھے روز بھی حالات کشیدہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق نوشکی میں مختلف سرکاری و نیم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فرنٹیئر کور ہیڈ کوارٹرز، سیکیورٹی کیمپس، سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹر، سینٹرل جیل، ڈپٹی کمشنر آفس اور دیگر ادارے شامل ہیں، جن کا کنڑول حاصل کرنے اور شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق نوشکی کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں دیکھنے میں آئیں، جو بلوچ لبریشن آرمی کے مختلف یونٹس کی جانب سے قائم کیے گئے ہیں۔ جس کے باعث شہر کی مجموعی صورتحال غیر معمولی رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوشکی میں پاکستانی فورسز اپنے کیمپس تک محصور نظر آئیں۔ مختلف حلقوں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ شہر میں طاقت کا توازن غیر معمولی طور پر متاثر ہوا۔
بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری بیانات میں کہا گیا کہ آپریشن میں اس کے مختلف ذیلی یونٹس، جن میں مجید برگیڈ، فتح اسکواڈ، اسپیشل ٹیکٹیکل اسکواڈ اور انٹلی جنس ونگ زراب شامل ہیں، حصہ لے رہے ہیں۔ ان بیانات میں کارروائی کو ایک منظم عسکری مرحلے کا حصہ قرار دیا گیا۔
حالیہ وقت میں بی ایل اے کی عسکری طاقت کی اہم پہلو اس کے پاس فدائی (خود کش) جنگجوؤں کی قابلِ ذکر تعداد موجود ہے، جسے اس کی عسکری حکمتِ عملی میں ایک مؤثر عنصر تصور کیا جاتا ہے۔ آپریشن ہیروف میں اب تک 18 فدائی سرمچاروں کی شمولیت سے متعلق اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جو آنے والے وقت میں ایک شدید اور خونریز تصادم کی نشاندہی کرتا ہے۔
نوشکی کی جغرافیائی اہمیت
نوشکی کی جغرافیائی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اسی ریجن میں سیندک اور ریکوڈک جیسے بڑے معدنی منصوبے واقع ہیں، جو عالمی سطح پر سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ سیندک منصوبے پر اس وقت چینی کمپنی جبکہ ریکوڈک میں کینیڈین کمپنی سرگرم عمل ہے، جس کے باعث یہ خطہ بین الاقوامی معاشی توجہ کا مرکز بھی بن چکا ہے۔
سیاسی و عسکری تجزیہ نگاروں کے مطابق آپریشن ہیروف کے دوران نوشکی کو مرکزی ہدف بنانا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک واضح جیو اسٹریٹجک حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رخشان ریجن کے سب سے بڑے اور اہم شہر میں اثر و رسوخ قائم کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ حالیہ وقتوں میں بی ایل اے کے عسکری طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث وہ نوشکی جیسے بڑے شہر کا جزوی کنڑول حاصل کرنا، اور شدید نوعیت کا جنگ اس بات کی غماز ہے کہ مستقبل میں اس ریجن کے دیگر علاقوں پر بی ایل اے کا کنڑول حاصل کرنا زیادہ آسان ہوگا۔ یہ صورتحال بین الاقوامی معدنی منصوبوں اور ان سے وابستہ کمپنیوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام سمجھی جا رہی ہے۔
تجزیہ نگار اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کارروائی کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ تنظیم روایتی چھاپہ مار کارروائیوں سے آگے بڑھ کر ایک منظم عسکری ڈھانچے کے ساتھ سامنے آئی ہے، جس میں افرادی قوت، عسکری تنظیم، اور حکمت عملی کا عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
مستقبل کے ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق نوشکی جیسے بڑے اور حساس شہر میں طویل دورانیے کی شدید جھڑپیں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ بلوچستان میں مسلح جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف بلوچستان اور خطے کی سیکیورٹی، سیاست اور معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے علاقائی اور بین الاقوامی مضمرات مزید واضح ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔


















































