بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ آپریشن ھیروف فیز ٹو تیسرے روز میں داخل ہو چکا ہے اور ۵۸ گھنٹے گزرنے کے باوجود بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری ہے۔ متعدد مقامات پر سرمچار مضبوط پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔ نوشکی شہر اور پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کے ایک بڑے حصے پر بلوچ لبریشن آرمی کا کنٹرول بدستور قائم ہے، جہاں قابض فورسز کو شدید دباؤ اور پسپائی کا سامنا ہے۔ گزشتہ تین دنوں سے بلوچ سرمچار جرئت اور بہادری سے لڑتے ہوئے دشمن فوج کو مسلسل ناکوں چنے چبوا رہے ہیں اور کئی علاقوں میں قابض فوج کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ ابتدائی اور محتاط اندازوں کے مطابق اب تک قابض پاکستانی فوج، پولیس، سی ٹی ڈی اور فوج کے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد ۲۲۰ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں اور زمینی صورتحال کے مطابق دشمن کو پہنچنے والے نقصانات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ دشمن کے جانی و مالی نقصانات کی مکمل اور حتمی تفصیلات جمع کرنے کے بعد جلد میڈیا میں جاری کی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ آپریشن کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے شہید سرمچاروں کی تعداد ابتک ۲۷ ہو چکی ہے، جن میں ۱۴ مجید بریگیڈ کے فدائین، ۸ فتح اسکواڈ اور ۵ ایس ٹی او ایس یونٹ کے سرمچار شامل ہیں۔ شہدا کی تفصیلات اور حتمی معلومات بعد میں باقاعدہ طور پر شائع کی جائیں گی۔
مزید کہا ہے کہ نوشکی تاحال بلوچ لبریشن آرمی کے کنٹرول میں ہے اور متعدد دیگر مقامات پر سرمچار اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جن علاقوں میں آپریشن کی تکمیل کا اعلان نہیں کیا گیا، وہاں صورتحال بدستور متحرک ہے اور کارروائیاں جاری ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی ایک بار پھر بلوچ عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ محتاط رہیں، دشمن سے محفوظ فاصلہ قائم رکھیں، اور جس طرح گزشتہ تین دنوں سے سرمچاروں کی مدد اور تعاون کیا جاتا رہا ہے، اسی طرح یکجہتی اور ذمہ داری کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔ آپریشن ھیروف تاحال جاری ہے اور آئندہ پیش رفت سے متعلق معلومات مناسب وقت پر فراہم کی جائیں گی۔
















































