بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ہیروف کے دوران جانبحق ہونے والے دو بھائیوں سمیت مزید چار افراد کی شناخت ظاہر کردی ہے۔
بی ایل اے کے مطابق فدائی ماجد بلوچ عرف کمانڈو بادل، ولد امجد بلوچ، سکنہ سند بازار ہوشاپ، نے دسمبر 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں 2024 میں مجید بریگیڈ کا حصہ بنے۔ وہ 29 جنوری 2026 کو تربت میں شہید ہوئے۔
بی ایل اے کا کہنا ہے کہ ماجد بلوچ اُس بلوچ قومی شعور کا پیداوار تھا جو دہائیوں کے جبر، قومی غلامی، اور بلوچ نسل کشی کے خلاف پروان چڑھا۔ سند بازار سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان کسی وقتی اشتعال کا نمائندہ نہیں بلکہ اس نسل کی آواز تھا جو اپنی قومی شناخت اور قومی آزادی کے سوال کو زندگی کے بنیادی سوال کے طور پردیکھتی ہے۔
ماجد ایک ایسے ماحول میں جوان ہوا جہاں قومی سوال روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔ اس کے لیئے آزادی کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک تاریخی ضرورت تھی۔ آپ آپریشن گنجل میں شہید ہونے والے کمانڈر فدائی بادل عرف ریاست کے قریبی رشتہ دار تھے۔ 29 جنوری کو تربت میں آپ آپریشن ھیروف میں شامل ہونے کیلئے جارہے تھے کہ راستے میں آپکا فوج سے سامنا ہوا، جہاں آپ آخری گولی تک لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ فدائی ماجد بلوچ عرف کمانڈو بادل کی شہادت محض ایک فرد کی قربانی نہیں بلکہ اس عہد کی نشاندہی ہے جس میں بلوچ نوجوان نسل نے خاموشی کی دیوار توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
مزید ایک سرمچار کی شناخت سالم بلوچ عرف مولم ولد عبدالستار سکنہ، آبسر، تربت کے نام سے ظاہر کی ہے بی ایل اے کے مطابق انہوں نے ایم اے ہسٹری پنجاب یونیورسٹی میں کی تھی، وہ قید و بند کی صعوبتوں کے بعد تحریک آزادی کا حصہ بنے
بی ایل اے جوائننگ (پہاڑی محاذ) ستمبر 2023
انہوں نے کہا کہ سالم بلوچ محض ایک گوریلا سرمچار نہیں تھا، بلکہ وہ اس تعلیم یافتہ بلوچ شعور کا نمائندہ تھا جس نے پنجاب یونیورسٹی کے ایوانوں میں تاریخ پڑھی اور پھر اسی تاریخ کو اپنے لہو سے بدلنے کا فیصلہ کیا۔ آبسر، تربت کا یہ سپوت اس نظریئے کا پیروکار تھا کہ جب دشمن دلیل کی زبان بھول جائے ،تو پھر پہاڑوں کی خاموشی ہی سب سے موثر جواب بن جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنگت سالم کی زندگی کا رخ اس وقت بدلا جب اسے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ عقوبت خانوں کی تاریکی اسے خوفزدہ نہ کر سکی، بلکہ رہائی کے بعد اس نے بزدلانہ زندگی پر پروقار شہادت کو ترجیح دیتے ہوئے ستمبر 2023 میں باقاعدہ پہاڑی محاذ سنبھالا۔ وہ بی ایل اے کے “ایس ٹی او ایس” یونٹ کے ایک متحرک کمانڈر کے طور پر شہری محاذ اور کیمپوں میں دشمن کے لیئے خوف کی علامت بنا رہا۔ 29 جنوری کو، جب وہ “آپریشن ھیروف” کی تیاریوں میں مصروف تھا، تربت میں قابض فوج سے اچانک ہونے والی جھڑپ میں اس نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ سالم کی قربانی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اب بلوچ قوم کا پڑھا لکھا طبقہ غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لیے میدانِ عمل میں اترچکا ہے۔
مزید دو بھائیوں کی شناخت، فدائی اللہ نور جمالدینی عرف روکین اور آصف جمالدینی عرف زبیر، ولد پیر بخش جمالدینی سکنہ قاضی آباد، نوشکی کے ناموں سے ظاہر کی ہے۔
شمولیت: مارچ 2023 اور اکتوبر 2024
بی ایل اے میں شمولیت: جولائی 2024 اور 2025
یونٹ: مجید بریگیڈ (اگست 2024) اور فتح اسکواڈ
شہادت: آپریشن ھیروف، نوشکی محاذ
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کی سنگلاخ وادیاں اور تپتے ہوئے ریگزار صرف محرومیوں کے گواہ نہیں، بلکہ یہ اس مزاحمتی فکر کی آماجگاہ بھی ہیں جہاں نسل در نسل آزادی کا خواب آنکھوں میں سجایا جاتا ہے۔ ضلع نوشکی کے ماتھے کا جھومر، قاضی آباد سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائیوں، اللہ نور جمالدینی اور آصف جمالدینی کی داستانِ حیات محض ایک خاندانی قربانی نہیں، بلکہ اس سیاسی و فلسفیانہ انقلاب کا نقطہِ عروج ہے جو آج کے بلوچ نوجوان کے رگ و پے میں سرایت کرچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نور جمالدینی، جنہیں مزاحمتی صفوں میں “روکین” کے نام سے پکارا جاتا ہے، اس علمی اور سیاسی بصیرت کے حامل تھے جو سطحی جذباتی پن سے کوسوں دورہوتی ہے۔ انہوں نے مارچ 2023 میں باقاعدہ طور پر قومی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ جولائی 2024 میں جب انہوں نے پہاڑی محاذ سنبھالا، تو یہ دراصل ایک مفکر کا میدانِ جنگ میں عملی ظہور تھا۔ اللہ نور کی شخصیت کا فلسفیانہ پہلو یہ تھا کہ وہ جانتے تھے کہ قومی بقا کی جنگ میں موت کا خوف، غلامی کی زندگی سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اسی فکر کے تحت انہوں نے اگست 2024 میں مجید بریگیڈ جیسے کٹھن یونٹ میں شمولیت اختیار کی، جو فدائیت کی آخری حد تصور کی جاتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بڑے بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، آصف جمالدینی (عرف زبیر) نے بھی اسی کٹھن راستے کا انتخاب کیا۔ آصف نے اکتوبر 2024 میں تحریک میں شمولیت اختیار کی اور 2025 میں پہاڑوں کا رخ کیا۔ ان کے لیئے اللہ نور صرف ایک بھائی نہیں بلکہ ایک سیاسی رہنما اور فکری مینارِ نور تھے۔ آصف نے ایک سال تک شہری محاذ پر انتہائی جرئت مندی کے ساتھ مشکل ترین مشن سرانجام دیئے، جو ان کی اعصابی مضبوطی اور مقصد سے لگن کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ کے صفحات میں “آپریشن ھیروف” کو ایک ایسے سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں بلوچ مزاحمت نے اپنی تزویراتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس معرکے میں اللہ نور جمالدینی نے نوشکی میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے کے دوران سیکنڈ گروپ کی کمانڈ کی اور دوسری گیٹ سے دشمن پر یلغار کیا۔ اسی معرکے میں آصف جمالدینی “فتح اسکواڈ” کا حصہ بن کر دشمن کے حصار کو توڑنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ مقتل کے اس بازار میں دونوں بھائیوں کا ایک ہی وقت میں موجود ہونا، اس فلسفے کی عملی تفسیر تھی کہ جب وطن پکارتا ہے تو رشتوں کی محبت، مٹی کی حرمت کے سامنے ہیچ ہوجاتی ہے۔













































