آزاد بلوچستان عالمی توازن میں اسٹریٹیجک کڑی۔ جی ایم بلوچ

83

آزاد بلوچستان عالمی توازن میں اسٹریٹیجک کڑی

تحریر: جی ایم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع بلوچستان آج محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی جیوپولیٹیکل بساط پر ایک ایسا فیصلہ کن محور بن چکا ہے جو کسی بھی بڑے علاقائی تصادم میں کنگ میکر کے کردار کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قابض اور نوآبادی ریاست پاکستان نے بلوچ زمین، وسائل اور سیاسی خودمختاری پر مسلسل قبضہ جمایا ہوا ہے، جبکہ قبضہ گیر ایران مشرقی بلوچستان میں اپنے عسکری اور سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے خطے کے قدرتی توازن کو محدود کرتا رہا ہے۔ بلوچ قومی مفادات، زمین، سمندر اور معدنیات کی حفاظت کے لیے طویل جدوجہد نے ہمیشہ یہ اصول قائم رکھا ہے کہ بلوچ سرزمین کا ہر حصہ مستقبل میں ایک خودمختار اور مستحکم ریاست کے قیام کے لیے بنیادی اثاثہ ہے۔

عالمی معیشت کی شہ رگ، آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی تجارت اور توانائی کی ترسیل گزرتی ہے، امریکہ اور ایران کے بڑھتے ہوئے تضاد کی صورت میں کسی بھی جنگ یا عسکری تصادم کی وجہ سے فوری طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر یہ کشیدگی جنگ کی شکل اختیار کرتی ہے، تو نوآبادی ریاست پاکستان سمیت خطے کے کئی ملکوں کو شدید معاشی بحران، توانائی کی قلت، کرنسی کی غیر استحکام، اور سپلائی چین کی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال سے داخلی انتشار، سیاسی عدم استحکام اور معاشرتی بےچینی جنم لے سکتی ہے، جو کمزور ریاستوں کے ڈھانچے کو بکھیرنے کے لیے کافی ہے۔

بلوچستان کی اہمیت صرف اس کے جغرافیائی محل وقوع تک محدود نہیں۔ بلوچستان کے معدنی وسائل، جیسے تانبا، لیتھیم، نایاب دھاتیں، سونا اور تیل کے ممکنہ ذخائر، عالمی اقتصادی منظرنامے میں ایک نئے محور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کو ملانے والی تجارتی راہداری کے طور پر بلوچستان کو عالمی تجارت میں ایک ناقابلِ متبادل مقام دیتی ہے۔ یہ خطہ نہ صرف تجارتی اور توانائی کی رسد کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاری، نقل و حمل اور اقتصادی شراکت داری کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

بلوچستان کے عالمی اہمیت کے تجزیے میں اس کے معدنی وسائل، بندرگاہوں اور جغرافیائی محل وقوع کے ساتھ ساتھ بلوچ پالیسیز اور قومی مفادات کا بھی خاص دھیان رکھا جانا چاہیے۔ بلوچ جدوجہد کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ بلوچ قوم نے ہمیشہ اپنے مفادات، ثقافت اور زمین کی حفاظت کے لیے مستقل مزاحمت اور سیاسی شعور کو ترجیح دی ہے۔ بلوچ پالیسیز اور قومی مفادات کی روشنی میں، بلوچ ریاست کے قیام اور استحکام کے لیے ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا ہے تاکہ یہ ریاست خطے کے تمام بڑے کھلاڑیوں کے لیے ایک شفاف اور قابل اعتماد مرکز کے طور پر ابھرے۔

عالمی طاقتوں کے نقطہ نظر سے بلوچستان کی اہمیت نہ صرف اس کے اسٹریٹیجک محل وقوع میں ہے بلکہ اس کے وسائل، سیاسی آزادی اور مستحکم پالیسیز میں بھی ہے۔ امریکہ کے لیے بلوچستان ایک ایسا مقام ہے جو توانائی کی رسد کو محفوظ بنانے، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے، اور بحرِ ہند میں اسٹریٹیجک توازن قائم رکھنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسرائیل کے نقطہ نظر میں بلوچستان ایران کے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے اور مشرق میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نیوٹرل اور مستحکم ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ یورپی یونین بلوچستان کو توانائی کے محفوظ اور متنوع ذرائع، معدنی وسائل تک رسائی، اور خطے میں تجارتی استحکام کے لیے ایک کلیدی مقام کے طور پر دیکھتی ہے، جبکہ روس خطے میں چین کے اثرات اور عالمی طاقتوں کے توازن کے تناظر میں اس کی صورتحال پر محتاط نگرانی رکھتا ہے۔ چین کے لیے بلوچستان کی آزادی ایک چیلنج ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ گوادر کی بندرگاہ اور بحرِ ہند میں چین کے تجارتی راستوں کی رسائی کو متاثر کر سکتی ہے، مگر اسی وقت بلوچستان عالمی شراکت داروں کے لیے ایک محفوظ اور قابل اعتماد تجارتی اور اقتصادی مرکز کے طور پر ابھرتا ہے۔

بلوچستان کی قومی پالیسیز، جس میں وسائل کا تحفظ، زمین کی خودمختاری، اور اقتصادی آزادی بنیادی اصول ہیں، اس خطے کو عالمی طاقتوں کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ بلوچ جدوجہد کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ بلوچ قوم نے ہمیشہ اپنے مفادات، ثقافت اور زمین کی حفاظت کے لیے مستقل مزاحمت اور سیاسی شعور کو ترجیح دی ہے۔ یہ جدوجہد بلوچ ریاست کے قیام اور استحکام کے لیے ایک نظریاتی اور عملی بنیاد فراہم کرتی ہے، جو مستقبل میں خطے کے تمام بڑے اور چھوٹے کھلاڑیوں کے لیے قابل اعتماد اور شفاف مرکز بن سکتی ہے۔

بلوچستان کے معدنی وسائل، بندرگاہیں، اور جغرافیائی محل وقوع اسے عالمی تجارت، توانائی کی رسد اور معدنی وسائل کے شعبے میں ایک مرکزی کڑی بناتے ہیں۔ یہ خطہ نہ صرف خطے میں استحکام قائم رکھنے میں کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک محفوظ، شفاف اور متبادل راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ آزاد بلوچستان عالمی سطح پر تسلیم شدہ ریاست کے طور پر ابھر کر تجارتی، توانائی اور معدنی وسائل میں نیا توازن قائم کر سکتا ہے اور خطے میں دیرپا استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جب امریکہ، اسرائیل، یورپی یونین اور دیگر عالمی کھلاڑی بلوچستان کے ریاستی وجود کو تسلیم کر کے نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھ سکتے ہیں بلکہ عالمی تجارت اور معیشت میں بھی مستحکم اور محفوظ راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔ آزاد بلوچستان نہ صرف ایک خودمختار ریاست کی حیثیت سے اپنے لوگوں کے حقوق اور وسائل کا تحفظ کرے گا بلکہ خطے کی جیوپولیٹیکل پیچیدگیوں میں ایک متوازن اور شفاف محور کے طور پر ابھرے گا۔ بلوچ پالیسیز اور قومی مفادات کی روشنی میں یہ ریاست اپنے معدنی وسائل، بندرگاہوں اور جغرافیائی محل وقوع کے ذریعے عالمی طاقتوں کے مفادات کو بھی مثبت سمت میں جوڑ سکتی ہے۔

بلوچستان کی آزادی، اس کے معدنی وسائل، بندرگاہوں اور جغرافیائی محل وقوع کے ساتھ، ایک تاریخی موقع فراہم کرتی ہے کہ یہ خطہ عالمی طاقتوں کے مفادات اور خطے کے استحکام کے لیے ایک ایسا مرکز بن جائے جو سب کے لیے فائدہ مند ہو، نہ کہ صرف تنازع یا قبضے کا میدان۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے لیے بلوچستان کا تسلیم شدہ ریاستی وجود نہ صرف سیاسی ضرورت بلکہ اقتصادی اور اسٹریٹیجک تقاضہ بھی بن چکا ہے، اور ایک خودمختار بلوچ ریاست خطے میں امن، استحکام اور عالمی تجارت کے لیے ایک قابل اعتماد ستون ثابت ہو سکتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔