25 جنوری کو “بلوچ نسل کشی یادگاری دن” کے موقع پر بلوچستان سمیت دنیا بھر میں پروگرام منعقد کیے جائے گے۔ بی وائی سی

7

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہاہےکہ نسل کشی صرف براہِ راست قتلِ عام تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک منظم اور خاموش عمل بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے کسی قوم کی شناخت، وجود اور اجتماعی زندگی کو آہستہ آہستہ تباہ کیا جاتا ہے۔ جب کسی قوم کو اس کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے تو وہ صرف ٹارگیٹ کلنگ یا ماروائے عدالت قتل سے ہی نہیں بلکہ حادثات، بیماریوں اور غیر محفوظ حالات کے ذریعے بھی مٹائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ قوم کی شناخت کی بنیاد پر نسل کشی کا آغاز روزِ اوّل سے ہو چکا ہے، اور یہ نسل کشی براہِ راست ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیوں اور ڈرون حملوں کے علاوہ محدود صحت کی سہولیات، معاشی استحصال، کینسر کے پھیلاؤ اور نفسیاتی اذیت کے ذریعے بھی کی جا رہی ہے۔

جنوری 2024 میں سریاب شاہوانی اسٹیڈیم میں منعقدہ اجتماع میں 25 جنوری کو بلوچ نسل کشی یادگاری دن کے طور پر منتخب کیا گیا تاکہ اس دن بلوچ قوم کی نسل کشی کے حوالے سے قوم اور دنیا کو آگاہ کیا جا سکے اور بلوچ قوم کی بقا کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت کو اجاگر کیا جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ یہ دن 25 جنوری 2014ء کے المناک واقعے کی یاد دلاتا ہے، جب بلوچستان کے علاقے توتک میں پاکستانی خفیہ اداروں کے ذیلی ملیشیا (ڈیتھ اسکواڈ) کے خالی کردہ “بلوچ کش کیمپ” سے جبری گمشدگی کا شکار بلوچ فرزندوں کی 100 سے زائد مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ بلوچ قوم کی قومی یادداشت میں ایک گہرا زخم بن چکا ہے، جو آج بھی ہر بلوچ خاندان، ماں، بہن، بھائی، والد اور معصوم بچوں کو اذیت میں مبتلا رکھے ہوئے ہے۔ توتک کی اجتماعی قبریں اس المیے کی علامت بن چکی ہیں اور ان کے متاثرہ خاندان آج تک اپنے پیاروں کی شناخت اور انصاف کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں اس وقت کئی اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں اور کئی لاشیں مادرِ وطن کے سپرد کی جا چکی ہیں۔ دوسری جانب ہزاروں جبری گمشدہ بلوچوں کے لواحقین آج بھی عشروں سے اس امید میں بیٹھے ہیں کہ کسی نہ کسی دن وہ واپس لوٹ آئیں گے۔ یہ نامعلوم لاشیں اور انتظار کا کرب بلوچ شناخت کا حصہ بن چکے ہیں۔

مزید کہاکہ اسی لیے 25 جنوری کا دن ان تمام نسل کشی کے واقعات کو علامتی طور پر ظاہر کرتا ہے۔ ایک اجتماعی قبر سے دریافت ہونے والی لاشوں کی صرف ایک ہی شناخت سامنے آتی ہے: وہ بلوچ ہیں، اور یہی لاشیں سینکڑوں خاندانوں کے لیے ہر سال طویل انتظار کا سبب بنتی ہیں۔

اس فیصلے کے بعد گزشتہ سال بلوچ قوم نے اپنے وسائل سے مالا مال سرزمین کے علاقے دالبندین میں ایک عظیم الشان اجتماع کا انعقاد کر کے دنیا بھر کو پیغام دیا کہ ان وسائل کے استحصال کے لیے بلوچ قوم کی نسل کشی کی جا رہی ہے، مگر اس نسل کشی کے خلاف بطورِ قوم ہم یکجا ہیں۔

بیان میں کہاکہ پچھلے سال 25 جنوری کو دالبندین میں ہونے والے بلوچ قومی اجتماع کو روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ شرکاء کو ہراساں کیا گیا، نیٹ ورک جام کر دیے گئے، من گھڑت بیانات گھڑے گئے، اور اجتماع کے بعد ایف آئی آرز اور گرفتاریوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اجتماع کے تین دن بعد تک مسلسل نیٹ ورک بند رکھ کر شرکاء کو واپسی سے روکا گیا۔ کسی کو کنٹینر دینے کے الزام میں قید کیا گیا، کسی کو اسپیکر دینے کے جرم میں، اور لوگوں کا ذاتی سامان ضبط کر لیا گیا۔ یہ جبر اس لیے کیا گیا کیونکہ بلوچ مزید اس نسل کشی پر خاموش رہنے سے انکاری ہیں اور وہ یہ عہد کر چکے ہیں کہ جب تک بلوچ سرزمین پر بلوچ نسل کشی جاری رہے گی، بلوچ متحد ہو کر اس کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے اور اسے دنیا کے سامنے اجاگر کرتے رہیں گے۔

آج ریاست بدترین فسطائیت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ریاست ہر بلوچ کو مکمل خاموش کرنے کے لیے ہر حد پار کر رہی ہے۔ عوامی رہنماؤں کو قید کیا جا چکا ہے، بلوچ سرزمین پر بلوچ قوم کو کسی بھی پرامن اجتماع کا حق نہیں دیا جا رہا، اور دوسری جانب بلوچ نسل کشی میں بدترین تیزی آ چکی ہے۔ خاص طور پر گزشتہ سال خواتین اور بچوں کو جس طرح نشانہ بنایا گیا، وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ محض ایک معمولی جنگ نہیں بلکہ سیدھی بلوچ قوم کی نسل کشی ہے۔ ڈرون حملوں میں نشانہ بننے والی خواتین اور بچے، جبری گمشدہ ہونے والی خواتین اور بچے، اور فوجی بربریت کا نشانہ بننے والی خواتین اور بچے ریاستی عزائم کو عیاں کر رہے ہیں۔ اس نسل کشی کے خلاف ہماری آواز اٹھانا انتہائی ضروری ہے اور دنیا کو اس سے آگاہ کرنا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا ہےکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان سمیت دنیا بھر میں مقیم بلوچ عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ 25 جنوری کے یادگاری دن کے لیے تیاریوں کا آغاز کریں۔ دنیا بھر میں بلوچ جہاں بھی موجود ہوں، اس احتجاج کا حصہ بنیں۔ مظاہرے ریکارڈ کروائیں، سیمینار منعقد کریں، کتابی اسٹال لگائیں، ویڈیو پیغامات جاری کریں، پریس بریفنگ کا اہتمام کریں، پینل ڈسکشن، ٹی وی شو، پوڈکاسٹ یا ویبینار منعقد کریں، میوزیکل یا ثقافتی شو ترتیب دے کر نسل کشی اور مزاحمت کے پیغامات دنیا تک پہنچائیں۔ اپنے ملک میں سفارت کاروں، انفلونسرز اور ایکٹوسٹس سے اس معاملے پر آگاہی پھیلانے کی درخواست کریں اور فن کے ذریعے اپنی مزاحمت کا اعلان کریں۔ یاد رکھیں کہ ہر فرد کا عمل اجتماعی مقاصد کے لیے اہم ہے اور ہم اسے دنیا کے کسی بھی کونے سے کامیاب بنا سکتے ہیں۔

آگاہی سے متعلق پمفلٹس، بروشرز اور بکلیٹس آپ کو بی وائی سی کے چینل پر مہیا کیے جائیں گے، جنہیں آپ اپنے شہر یا علاقے میں پھیلا سکتے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام زونز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ 25 جنوری کے مناسبت سے بلوچستان کے ہر شہر اور گاؤں میں عوامی موبلائزیشن مہم چلائیں، بلوچ نسل کشی کا ڈیٹا جمع کریں اور متاثرینِ نسل کشی اور ان کے خاندانوں سے روابط کا سلسلہ شروع کریں۔

آخر میں کہاکہ یہ دن نہ صرف بلوچ قوم کی جدوجہد کے عزم کی تجدید ہے بلکہ دنیا بھر کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا موقع بھی ہے تاکہ بلوچ نسل کشی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا سکے اور اس کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جا سکیں۔