25 جنوری، بلوچ نسل کشی یادگاری دن: ریاستی مظالم کیخلاف مؤثر آواز اٹھائیں – ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے بلوچ قوم سمیت دیگر سے اپیل کی ہے کہ وہ 25 جنوری کو بلوچ نسل کشی یادگاری دن کے طور پر منائیں اور بلوچستان میں بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی مظالم کے خلاف مؤثر آواز بلند کریں۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ آج بلوچ عوام کی زندگی اس مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں جینا ایک مسلسل جدوجہد بن گیا ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں پر نظر ڈالیں تو ہر جگہ ریاستی جبر، انسانی المیے اور بنیادی حقوق کی پامالی نمایاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوہِ سلیمان کے علاقوں میں کینسر جیسی مہلک بیماری روزانہ قیمتی جانیں لے رہی ہے، جبکہ خاندان ایک فرد کی جان بچانے کے لیے بھی بے بس ہیں۔ بولان اور جیکب آباد، جو کبھی زرعی گرین بیلٹ کہلاتے تھے، آج بھوک اور افلاس کی تصویر بن چکے ہیں۔ غذائی قلت عام ہے اور مائیں زچگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مکران میں ایک طرف سمندر اور دوسری طرف سرحد ہونے کے باوجود ریاست نے بلوچ عوام سے دونوں روزگار کے ذرائع چھین لیے ہیں۔ لوگوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے اور مزاحمت کرنے والوں کو قتل یا جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ لسبیلہ میں بلوچ ثقافت اور اقدار کو منظم انداز میں مٹایا جا رہا ہے اور عوام کو غیر محسوس غلامی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے مطابق جھالاوان اور سراوان کے علاقوں میں ڈیتھ اسکواڈز آزادانہ طور پر سرگرم ہیں۔ خواتین اور بچوں کو بھی جبری گمشدگی اور ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں منشیات خوراک سے زیادہ آسانی سے دستیاب ہیں اور چیک پوسٹس اس تباہی میں براہِ راست شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر بلوچستان کو ایک “موت کا کنواں” بنا دیا گیا ہے، جہاں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، کینسر، حادثات، اور صحت و تعلیم کا مکمل انہدام جاری ہے۔ ریاست ان مظالم کو “سیکیورٹی” کا نام دیتی ہے، مگر اپنی ہی قوم کو تباہ کرنا سیکیورٹی نہیں بلکہ کھلی نسل کشی ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے توتک کی اجتماعی قبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہاں دفن لاشیں کن کی تھیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ بلوچ تھے اور ان کی مائیں آج بھی سڑکوں پر اپنے پیاروں کی تلاش میں بیٹھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بلوچ نسل کشی کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی گئی، مگر آج حالات پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ ریاست ہر اس آواز کو دبانے کے لیے قتل، قید اور جبری گمشدگی کا سہارا لے رہی ہے، مگر خاموشی اب ممکن نہیں۔

آخر میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے دنیا بھر میں موجود بلوچ عوام اور انسانی حقوق کے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچ نسل کشی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور مندرجہ ذیل اقدامات کریں:

1۔ سفارت خانوں کو خطوط لکھیں
2۔ صحافیوں اور میڈیا نمائندوں سے ملاقات کر کے حقائق سامنے لائیں
3۔ پمفلٹس اور آگاہی مواد تقسیم کریں
4۔ خاموش واکس اور احتجاجی مظاہرے منظم کریں
5۔ ویڈیوز اور ڈیجیٹل مواد کے ذریعے عالمی برادری کو آگاہ کریں۔