‏وی بی ایم پی کے احتجاج آج 6050 واں روز، آواران کے علاقے بریت سے برآمد لاشوں پر اظہار تشویش

61

بلوچستان میں ‏جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ 6050ویں روز کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری رہا۔

مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی، انہوں نے گمشدگیوں، لاپتہ افراد کے ماورائے قانون قتل کا خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے بریت سے ملنے والے لاشوں کے لواحقین نے تنظیم سے شکایت کی، کہ جنہیں فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔

لواحقین کے مطابق ایاز بلوچ ولد دوست محمد کا تعلق کولواہ کے علاقے گیشکور کے گاؤں سنڈم سے تھا۔ انہیں 16 اکتوبر 2025 کو امداد بلوچ نامی نوجوان کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔ اسی طرح ظریف احمد ولد مستری فقیر محمد، جو کولواہ کے علاقے مالار سیاہ کل کے رہائشی تھے، 28 ستمبر 2025 کو اپنے گھر سے حراست میں لیے گئے تھے۔ بعد ازاں ان کے ساتھ گرفتار کیے گئے ایک شخص کو رہا کر دیا گیا، مگر ظریف احمد کے بارے میں کوئی اطلاع نہ مل سکی، یہاں تک کہ اب ان کی لاش برآمد ہوئی۔

نصراللہ بلوچ نے جبری لاپتہ ظریف اور ایاز بلوچ کی مسخ لاشوں کی برآمدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی قوانین اور اسلام اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ دوران حراست کسی قیدی کو ماورائے قانون قتل کرکے اس کی لاش ویرانوں میں پھنک دیا جائے

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجںھتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات حب الوطنی ہے، اور ان ماورائے قانون عمل سے بلوچستان کے حالات بہتر ہونگے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی غلط فہمی ہے، بلوچستان میں ملکی سلامتی کے نام دو دہائیوں سے ظلم و جبر جاری ہے، لیکن بلوچستان کے حالات بہتر ہونے کے بجائے دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ملک کی بقاء اسی میں ہے کہ ریاست اور ریاستی اداروں کے سربراہ ان حالات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، کہ وہ بلوچستان میں ماورائے قانون اقدامات مکمل سدباب کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں، اہل بلوچستان کے ساتھ ملکی قوانین کے تحت رویہ اختیار کیا جائے، اور لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے کے حوالے سے اپنی آئینی کردار ادا کرے۔