یورپ کا بھارت کی طرف جھکاؤ، بدلتے عالمی مفادات اور بلوچ قومی طاقت
تحریر: ہارون بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بھارت اس وقت یورپی سیاست میں ایک مرکزی کردار بنتا جا رہا ہے۔ اگلے ہفتے دہلی میں ہونے والے یورپی یونین اور بھارت کے سربراہی اجلاس میں مختلف نوعیت کے اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ، کاجّا کالاس، نے گزشتہ دنوں فرانس میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یورپی یونین آئندہ ہفتے بھارت کے ساتھ سیکیورٹی اور سفارتی شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کرنے جا رہی ہے، جو دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ یہ معاہدہ تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے اور بدلتی ہوئی عالمی جیوپولیٹکس میں نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ یورپ امریکہ سے ہٹ کر کسی دوسری بڑی عالمی قوت کے ساتھ براہِ راست سیکیورٹی اور دفاعی شراکت داری کو فروغ دے رہا ہے۔
یورپ طویل عرصے تک امریکی بلاک کا مرکزی حصہ رہا ہے، اور امریکہ کی عالمی قیادت کی ایک بنیادی وجہ بھی یورپ کے ساتھ اس کا مضبوط اتحاد سمجھا جاتا رہا ہے، جس نے امریکہ کو کئی حوالوں سے اہم اسٹریٹجک فوائد فراہم کیے۔ تاہم حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپ پر دباؤ، مختلف طریقوں سے اسے نشانہ بنانا، اور چند دن قبل پہلی مرتبہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی جیسے اہم یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیاں دینا، یورپ کیلئے باعث تشویش بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے مسلسل یورپ کی تذلیل، دباؤ ڈالنے، کمزور دکھانے اور نظرانداز کرنے کے رویے کے باعث اب یورپ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو روایتی اور مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ یورپی یونین کی معاشی اور دفاعی شراکت داری اسی نئے ادراک اور بدلتی عالمی حقیقت کا عملی اظہار ہے۔
کاجا کالاس کے مطابق یورپ اور بھارت کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت دونوں فریق سمندری سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون، سائبر دفاع اور بحری حالات حاضرہ کا گہرا جائزہ لیں گے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دونوں جانب انٹیلی جنس شیئرنگ پر بھی بات چیت جاری ہے، جو بلاشبہ بھارت کے لیے ایک نہایت اہم اور اسٹریٹجک کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں انڈیا کا انڈو پیسیفک خطے میں اثر و رسوخ مزید مضبوط ہوگا۔ یورپی یونین کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ یورپ بھارت کے ساتھ ایک طاقتور اور نئے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بھارت کو ایک بڑا تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے یورپ کی معاشی مضبوطی اور اسٹریٹجک استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
یہ اعلان براہ راست یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جن سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یورپ اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تناظر میں بھارت کو لے کر کس حد تک سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ یورپی ممالک اب کھل کر بھارت کو عالمی سطح پر زیادہ ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے لیے موقع دے رہے ہیں، اور یہ معاہدے اسی سلسلے کے سب سے بڑے اور اہم فیصلے ثابت ہو سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کے اقدامات نے یورپ کو ایک غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکہ مسلسل یورپی ممالک کو نظرانداز کرتا آ رہا ہے، انہیں دباؤ میں رکھتا ہے اور بعض اوقات کھلے عام تذلیل کا نشانہ بھی بناتا رہا ہے۔
ساتھ ہی یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ اگر آج یورپ کی سلامتی مضبوط ہے یا وہ عالمی سیاست میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے تو اس کی واحد وجہ امریکہ ہے۔ امریکی سیاست دان کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ یورپ کا وجود اور استحکام امریکہ کی مرہون منت ہے۔ حالیہ دنوں صدر ٹرمپ نے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو آج تمام یورپی ممالک جرمن زبان بول رہے ہوتے اور کچھ جاپانی زبان میں گفتگو کر رہے ہوتے۔ یہ دراصل یورپ کو دوسری عالمی جنگ کی یاد دہانی کرانے کی ایک کوشش تھی، جس کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ اگر امریکہ جرمن کو شکست نہ دیتا تو آج یورپ جرمنیت اور جاپان کے زیر اثر ہوتا۔
اگرچہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یورپ کی موجودہ طاقت، حیثیت اور بالخصوص اس کی سلامتی کے قیام میں امریکہ کا کردار مرکزی رہا ہے، تاہم یہ تعلق یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں جانب مفادات پر مبنی ایک شراکت داری اور اتحاد رہا ہے۔ اس اتحاد سے امریکہ اور یورپ دونوں نے مختلف شعبوں اور ڈومینز میں بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ امریکہ نے یورپی اتحاد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نیٹو کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے استعمال کیا، جبکہ یورپی ممالک کے ساتھ مل کر اپنی کرنسی، معیشت اور عالمی ایجنڈوں کو بھی تقویت دی۔ امریکہ کے عالمی اہداف کی تکمیل میں سب سے مضبوط اور مسلسل ساتھ دینے والا اتحاد یورپ ہی رہا ہے، جس نے کئی دہائیوں تک امریکی عالمی قیادت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
یورپ کا بھارت کے ساتھ اپنا اسٹریٹجک اتحاد قائم کرنا یقینا گلوبل ورلڈ آرڈر کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی ایک واضح علامت ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے، جس کی بنا پر اسے عالمی سیاست میں ایک فطری اور اہم مقام حاصل ہے۔ برطانوی استعمار سے آزادی کے بعد بھارت کو مسلسل اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے باعث ایک اسٹریٹجک صلاحیت رکھنے کے باوجود وہ عالمی سطح پر مؤثر مقابلہ کرنے میں طویل عرصے تک ناکام رہا۔ ایک ترقی پذیر ملک ہونا، کمزور انفراسٹرکچر، سست معاشی ترقی، ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں پسماندگی، غربت، اور معیاری تعلیم کے فقدان نے بھارت کو وہ مرکزی حیثیت حاصل کرنے سے روکے رکھا تھا۔
تاہم گزشتہ بیس برسوں کے دوران بھارت میں نمایاں اور گہری تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ اس وقت بھارت گزشتہ تین سالوں سے مسلسل دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔ ملک بھر میں انفراسٹرکچر پر وسیع پیمانے پر کام ہو رہا ہے، جدید شہر تعمیر کیے جا رہے ہیں، اور بھارتی افواج بتدریج مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔
بھارت عالمی نظام میں تیزی سے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ماؤسٹ تحریکوں سے متاثر نکسلائٹ موومنٹ، جو طویل عرصے تک بھارت کے لیے ایک سنگین اندرونی سیکیورٹی چیلنج رہی، اب تقریباً اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، اور مارچ تک بھارت کو مکمل طور پر نکسلائٹ تحریک سے فری کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی طرح کشمیر میں جاری انسرجنسی بھی بڑی حد تک غیر موثر ہو چکی ہے اور سیکورٹی فورسز کو کوئی بڑا چیلنج دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے جبکہ کشمیر ریجن میں اب بھارتی فوج کی گرفت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔ اندرونی چیلنجز کے باوجود بھارت نے مختلف انسرجنسیوں کے خلاف موثر اقدامات کیے، انفراسٹرکچر کی ترقی کو ترجیح دی، عالمی سرمایہ کاروں کو اپنی جانب راغب کیا، اور چین کے متبادل کے طور پر خود کو ایک قابل اعتماد مرکز کے طور پر پیش کیا۔
ملک کے اندر سرمایہ دار طبقے کی دولت میں وسیع اضافہ، گورننس ماڈل میں بہتری، عالمی پالیسیوں میں غیر جانبدار مگر مضبوط موقف، بیرونی دباؤ کو نظرانداز کرنے کی صلاحیت، اور اپنی پالیسیوں پر ثابت قدمی نے بھارت کو خطے میں ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھارا ہے۔ گلوبل ساؤتھ سے لے کر گلوبل نارتھ تک، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ممالک بھارت کو ایک قابل اعتماد اور موثر شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت اب صرف سیاسی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں معاشی اور سیاسی بے یقینی پائی جاتی ہے، بھارت عالمی سرمایہ کاروں کو نسبتاً مستحکم اور محفوظ معاشی مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت ایک مضبوط اسکل فورس میں تبدیل ہو چکا ہے اور سیمی کنڈکٹرز، چپس، الیکٹرانک کمپوننٹس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ریئر ارتھ منرلز اور ایک وسیع مارکیٹ مہیا کر رہا ہے۔ بھارت خود کو عالمی ایکسپورٹ کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس وقت جب دنیا کے کئی ممالک لیبر کی قلت، صلاحیت یافتہ افرادی قوت اور ٹیلنٹ کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، بھارت عالمی سرمایہ کاروں کو یہ تمام سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، وہ بھی ایک نسبتاً محفوظ اور بڑی مارکیٹ کے ساتھ۔
یوکرین اور روس کی جنگ کے بعد بہت سے سرمایہ کار، بالخصوص یورپی سرمایہ کار، چین سے ہٹ کر بھارت کو اپنی سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ گورننس کی سطح پر کی جانے والی اہم اصلاحات نے بھارت کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار اسے ایک مستقل، محفوظ اور قابل اعتماد ملک کے طور پر دیکھیں۔ چین کے حالیہ اقدامات نے گلوبل نارتھ بلخصوص یورپی اور امریکی سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا ہے اور وہ چین سے اپنی Dependency ختم کرنا چاہتے ہیں اور چین جیسی بڑی مارکیٹ دینے کی صلاحیت اس وقت صرف انڈیا کے پاس موجود ہے۔ یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار بھارت کی طرف اپنے مستقبل کو دیکھ رہے ہیں۔
یورپ اور بھارت کی نزدیکیاں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
یورپ کے لیے بھارت کا کردار اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ یورپ دنیا میں دیگر بڑی طاقتوں کو عالمی سیاست میں بلنگ قوت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ یورپ کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے۔ یورپی ممالک نے اجتماعی طور پر روس کے خلاف سخت اقدامات کیے، تاہم چند معاشی نقصانات کے باوجود وہ روس کو شکست دینے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یوکرین میں تین سال سے زائد عرصے تک جاری جنگ کے باوجود روس اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
یورپ طویل عرصے سے نیٹو کی فوجی طاقت کو اپنی سلامتی کی بنیادی ضمانت کے طور پر دیکھتا آیا ہے اور اس سوچ کے تحت زندگی گزارتا رہا ہے کہ یورپ کی سلامتی دراصل امریکہ کی سلامتی ہے، جو عالمی سطح پر سب سے طاقتور فوجی قوت کا حامل ہے۔ نیٹو کے اتحاد نے یورپ کو اس خوش فہمی میں مبتلا کر دیا تھا کہ یہ اتحاد ہمیشہ اسی طرح قائم رہے گا، وقت کے ساتھ مزید ممالک اس میں شامل ہوتے جائیں گے، اور یورپ پر حملہ کرنے کی جرات کوئی نہیں کرے گا۔ تاریخ میں یہی وہ غلط فہمی ہے جس کا شکار فرانسس فوکویاما بھی ہوئے تھے، جب انہوں نے 1990 کی دہائی میں سوویت یونین کے انحلال کے بعد “The End of History” نامی کتاب لکھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب دنیا میں کوئی جنگ نہیں ہوگی اور زیادہ تر ریاستیں لبرل ازم، جمہوریت، انسانی آزادی اور یورپی طرز حکمرانی کو قبول کر لیں گی اور دنیا میں امن قائم ہو جائے گا۔
لیکن تاریخ نے اسے بری طرح غلط ثابت کیا۔ چین کی ترقی، کمیونزم کا مضبوط ہونا، ایران میں ملا رجیم کا طاقتور ہونا اور روس کی جانب سے یوکرین پر حملے نے فوکویاما کو غلط ثابت کر دیا، جس کا بعد میں خود انہوں نے بھی اعتراف کیا۔ اگرچہ نیٹو کا اتحاد اب بھی موجود ہے، تاہم روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ، یورپی ممالک کے خلاف سخت دھمکیاں، اور اس کے بعد امریکہ کی جانب سے یورپی اتحاد کو نظرانداز کرتے ہوئے روس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو ترجیح دینا، ان طاقتوں کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑ کو واضح کر دیتا ہے۔
اس صورتحال سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں کسی بھی نوعیت کی غیر متوقع پیش رفت ممکن ہے۔ اگر سفارتی تعلقات اسی طرح خراب ہوتے رہے تو کوئی بھی تنازع سر اٹھا سکتا ہے، جو نیٹو کے اتحاد کے لیے نیک شگون نہیں۔ یورپ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ اسی خدشے کے تحت یورپی ممالک ماضی میں امریکہ کی کئی شرائط تسلیم کرتے آئے ہیں، تاہم اب امریکہ کے مطالبات بتدریج بڑھتے اور وسیع ہوتے جا رہے ہیں، جنہیں مستقبل میں یورپ کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
بالخصوص امریکہ میں ٹرمپ کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد یورپ اور امریکہ کے درمیان کئی اسٹریٹجک نوعیت کے تعلقات کو نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث یورپ شدید تذبذب کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ یورپ کا یہ بھی خیال ہے کہ یوکرین کے معاملے میں امریکہ نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ روس کے ساتھ مذاکرات کے دوران امریکہ نے یورپ کو مسلسل نظرانداز کیا اور روس کو یورپ پر ترجیح دی۔ اس طرز عمل سے امریکہ نے یورپ کو ایک طاقتور فریق کے بجائے خود کو اور روس کو ہی عالمی طاقت کا مرکز ظاہر کیا، جس کے نتیجے میں دنیا کے سامنے یورپ کی دفاعی اور سلامتی سے متعلق ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
یورپ، جو خود کو عالمی سطح پر ایک مضبوط دفاعی قوت سمجھتا ہے، گزشتہ تین برسوں سے مسلسل امریکی دباؤ اور بالادستی کا سامنا کر رہا ہے۔ یہی صورتحال یورپ کو بھارت کے قریب لانے کا ایک مرکزی محرک بنتی جا رہی ہے۔ یورپ اب اس نتیجے پر پہنچ رہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک اور سیکیورٹی تعلقات قائم کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی موثر متبادل موجود نہیں۔
ایک طرف روس ہے، جسے یورپ اپنی سیکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ گزشتہ دہائی میں یورپی کوششوں کے باوجود روس نے یوکرین پر حملہ کیا اور کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ روس یورپ کی طاقت یا دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔ دوسری جانب، امریکہ بھی اب یورپ کو ایک غیر موثر طاقت کے طور پر دیکھ رہا ہے اور مسلسل اسے اپنے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یورپ کے پاس ایک عالمی طاقت موجود ہے جس کی آبادی، جغرافیہ اور فوجی طاقت بڑھتی جا رہی ہے، اور یہ طاقت بھارت ہے، جس کے ساتھ یورپ کے نظریاتی مفادات بھی جڑے ہیں۔
سیکورٹی کے علاوہ، یورپ کے لیے بھارت ایک متبادل اور بھروسہ مند عالمی طاقت کے طور پر موجود ہے۔ بھارت کی غیرجانبدار (Non-alignment) پالیسی نے اسے عالمی سیاست میں ایک منفرد مقام دیا ہے۔ مثال کے طور پر، جب روس نے یورپ کے اتحادی یوکرین پر حملہ کیا، بھارت نے یورپی اور امریکی دباؤ کے باوجود روس کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھے اور اپنے قومی مفادات کو ترجیح دی۔ بھارت نے روس سے تیل کی درآمد میں اضافہ کیا، اور یورپ کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود روس کے ساتھ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت اور روس کے تعلقات مضبوط اور دوستانہ رہے۔
بھارت نے کبھی بھی اپنی طاقت کو بطور دباؤ استعمال نہیں کیا۔ بھارت خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دیتی ہے، لیکن طاقت اور دباؤ کی بجائے لبرل ازم اور تعاون کی بنیاد پر تعلقات کو اہمیت دیتی ہے۔ چین کے ساتھ سرحدی تنازعات کے باوجود بھارت نے اپنے معاشی تعلقات برقرار رکھے اور تعلقات کو بہتر بنایا۔ فوجی ٹکراؤ کے باوجود مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نے بھارت کو عالمی سیاست میں ایک قابل اعتماد اور موثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منوایا ہے۔
ایک اور فائدہ یہ ہے کہ بھارت نے اپنے ملک میں تمام انسرجنسیوں پر مضبوط قابو پایا ہے۔ اگر تشدد کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو بھارت امریکہ کے مقابلے میں بھی زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار بھارت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ عالمی اداروں کے لیے ایک بڑا کیپٹل مارکیٹ کے ساتھ محفوظ ماحول فراہم کرنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس طرح وہ اپنے سرمایہ کو مکمل طور پر محفوظ سمجھ سکتے ہیں۔
یورپ اور بھارت کے درمیان کیا چیزیں ہم آہنگ ہیں؟
یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کے مذاکرات گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہیں، لیکن دونوں جانب گزشتہ برسوں میں وہ پیش رفت نہیں ہوئی جو اس معاہدے کو حتمی شکل دے سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ زیادہ تر اندرون خانہ دبا ہوا تھا۔ تاہم، بھارت کی حالیہ چند سالوں میں عالمی سیاست اور خطے میں ایک طاقت کے طور پر ابھرنے کی کوشش، معاشی ترقی اور ٹیکنالوجی ایڈاپٹیشن نے یورپ سمیت عالمی طاقتوں کو واضح طور پر دکھا دیا ہے کہ بھارت اب دنیا میں اپنی تاریخی پوزیشن حاصل کرنے کی طرف گامزن ہے۔ بھارت نے ہر شعبے میں غیر معمولی ترقی دکھائی ہے۔
یورپ کے لیے بھارت اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ چین یا روس کی طرح کوئی سیکیورٹی خطرہ نہیں رکھتا۔ یورپی ممالک میں موجود بھارتی مہاجرین بھی بیشتر ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں یورپ کی مدد کر رہے ہیں۔ جبکہ یورپ اب بھی Human Capital جیسے اہم مسائل سے دوچار ہے، بھارت کے پاس انسانی وسائل کی بڑی مقدار ہے جو یورپ کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ یورپ کی بھارت کی جانب پیش قدمی کی ایک اہم وجہ موجودہ جیوپالیٹیکل حالات ہیں، جو یورپ کے لیے خاصے چیلنجنگ ہیں۔
یورپ کو عالمی اور نظریاتی چیلنجز کے ساتھ ساتھ روس سے براہ راست سیکیورٹی خطرات کا بھی سامنا ہے۔ اس دوران یورپ کا سب سے اہم اتحادی امریکہ، جسے یورپ ہمیشہ اپنی سیکیورٹی گارنٹی کے طور پر دیکھتا آیا ہے، اب یورپ کے کئی محاذوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ بھارت کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو بڑھانے اور بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔ بھارت اور یورپ کے درمیان تعلق یورپ کی مارکیٹ کے لیے بھی اہم ہے۔ بھارت ایک وسیع مارکیٹ پیش کرتا ہے جہاں ہر کمپنی اور سرمایہ کار بڑے پیمانے پر منافع کما سکتے ہیں۔
ماضی میں کچھ سیاسی اور جیوپالیٹیکل وجوہات کی وجہ سے یورپ نے بھارت کو اتنی توجہ نہیں دی، لیکن موجودہ حالات میں بھارت یورپ کے لیے اقتصادی، سیکیورٹی، نظریاتی اور رول بیسٹڈ آرڈر کے تحفظ کا ایک کلیدی اور قابل اعتماد پارٹنر بن گیا ہے۔ اسی دوران، بھارت عالمی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کے لیے بھی فعال ہے۔ افریقہ جیسا خطہ، جو ہمیشہ طاقتور ممالک کے لیے اپنے اثر و رسوخ دکھانے کا اہم مقام رہا ہے، اب بھارت کے لیے بھی اپنی موجودگی مستحکم کرنے کی جگہ بنتا جا رہا ہے۔
یورپ اور بھارت دونوں اس فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کے حوالے سے انتہائی پرامید کا اظہار کر رہے ہیں، اور اسے “Mothers of all Deals” کہا جا رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریق اس معاہدے کو کس حد تک اہمیت دے رہے ہیں۔ اگر یہ شراکت داری کامیاب ہو جاتی ہے اور دونوں ممالک نزدیکی سے کام کرنا شروع کرتے ہیں تو یہ یقیناً تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے اور عالمی سیاست میں ایک نئے طاقتور کھلاڑی کے اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔
بھارت اور عالمی طاقتوں سے تعلقات
بھارت، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ریاست ہے اور جہاں انوویشن، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، اسکلز، ٹیلنٹ اور اے آئی سمیت کئی جدید شعبے فعال ہیں، اس کے باوجود عالمی سیاست میں اسے وہ اہمیت اور حیثیت حاصل نہیں ہوئی جو اس کی صلاحیتوں کے مطابق ہو۔ اس کی بنیادی وجہ ماضی میں بھارت کی معاشی کمزوری رہی ہے، لیکن اب یہ پوزیشن بدل رہی ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک، خاص طور پر گلوبل نارتھ، جو طویل عرصے تک بھارت کو نظرانداز کرتا رہا، اب اسے عالمی سیاست میں ایک سنجیدہ اور موثر پلئیر کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اپنے تعلقات بڑھا رہے ہیں۔
بھارت نے وقت کے ساتھ اندرونی طور پر جو استحکام حاصل کیا ہے، اسی طرح عالمی سیاست میں اور بالخصوص عالمی طاقتوں کے ساتھ دوطرفہ مفادات پر مبنی تعلقات قائم کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ اسرائیل، جو مشرق وسطیٰ میں ایک طاقتور ملک اور سیکورٹی کے معاملے میں عالمی سطح پر اہم حیثیت رکھتا ہے، بھارت کو اپنا سب سے اہم اور اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے۔ دفاعی اور انسرجنسی کے معاملات میں دونوں ممالک کے درمیان ایک منظم تعلق موجود ہے۔
اسرائیل بھارت کو دفاعی ہتھیاروں، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کرتا ہے، جبکہ بھارت اسرائیل کو عالمی سیاست میں قبولیت اور اقتصادی ترقی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، تو کئی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے اس منصوبے میں بھارت کی مدد کی تھی۔ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو عوامی سطح پر فخر کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کے ایک کاروباری ادارے، آڈانی گروپ، نے اسرائیل کے ایک اہم بندرگاہ کو منظم کیا ہوا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت کی عکاسی کرتا ہے۔
روس، جو دنیا بھر میں ایک طاقتور فوجی ملک اور عالمی سیاست میں اہم کھلاڑی ہے، بھارت کو اپنا اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے۔ بھارت اپنے دفاعی ہتھیاروں کا بیشتر حصہ روس سے حاصل کرتا ہے، جبکہ روس کے لیے بھارت ایک اہم اور پائیدار اقتصادی پارٹنر ہے۔ ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات قائم ہیں اور حالیہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن دورے کے دوران مزید نزدیکی دیکھی گئی جبکہ دونوں ممالک کے صدر مودی اور پوٹن کے تعلقات نہایت گہرے سمجھے جاتے ہیں۔
روس کے ساتھ دفاعی شراکت داری بھارت کو عالمی دفاعی اور سیکورٹی میں ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر منوانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد، روس کی معیشت کو سہارا دینے میں بھارت نے اہم کردار ادا کیا۔ بھارت نے مغربی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے روس سے تیل کی خریداری میں اضافہ کیا، جس سے امریکہ ناراض ہوا اور بعد میں اس نے بھارت پر ٹیرف لگانے کا فیصلہ کیا۔ بھارت کی روس کے ساتھ مستقل تعلقات نے اسے ایک مضبوط اور قابل اعتماد عالمی پارٹنر کے طور پر پیش کیا۔
امریکہ خود بھی بھارت کو اپنا اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے، اگرچہ حالیہ دنوں پاکستان کے ساتھ نزدیکیوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان معمولی فرق رہا ہے۔ دو ماہ قبل، امریکہ نے بھارت کے ساتھ دس سالہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جو خطے میں امریکہ کے لیے چین کے خلاف بھارت کو ایک اہم اتحادی کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر بھی کام کر رہے ہیں، جو کسی بھی وقت مکمل ہو سکتا ہے۔
امریکہ بھارت کی ایک بڑی اقتصادی پارٹنر بھی ہے، اور دونوں ممالک معاشی تعلقات کو مضبوط سمجھتے ہیں۔ مزید برآں، بھارت اور امریکہ QUAD اتحاد کے رکن ہیں، جس میں جاپان اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو کنٹین کرنا ہے۔ اگر نارتھ امریکہ کی بات کی جائے تو برازیل اس وقت انڈیا کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتا ہے اور دونوں ممالک ان تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
برازیل اور انڈیا بریکس کے رکن بھی ہیں اور عالمی معاملات میں دونوں ممالک کے درمیان نزدیکی پائی جاتی ہے۔ برازیل کو نارتھ امریکہ کی سب سے اہم اور طاقتور ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور برازیل کے صدر جلد انڈیا کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ممالک پہلے ہی فعال تعاون کر رہے ہیں۔ اگر افریقہ کی بات کی جائے تو افریقہ کے سب سے اہم اور مستحکم اقتصادی و سیاسی ممالک جیسے جنوبی افریقہ اور ایتھوپیا کے بھی انڈیا کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔
جنوبی افریقہ انڈیا کے لیے ایک نہایت اہم پارٹنر بن رہا ہے۔ کھیلوں سے لے کر معاشی مارکیٹ تک، افریقہ میں اب انڈیا کا اثر بڑھ رہا ہے۔ مثال کے طور پر، جنوبی افریقہ کی کار مارکیٹ میں تقریباً 50 فیصد حصہ اب انڈیا کے پاس ہے، جبکہ انڈیا سے ایک وسیع پیمانے پر مصنوعات افریقہ کو برآمد کی جاتی ہیں۔ اسی طرح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ، جو گلوبل نارتھ کے اہم اور اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھے جاتے ہیں، بھی انڈیا کے ساتھ تعلقات بڑھا رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ نے حال ہی میں انڈیا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کیے ہیں۔
نیوزی لینڈ بھی انڈیا کو ایک مضبوط اور قابل اعتماد عالمی کھلاڑی کے طور پر دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ دنیا اب بھارت کو ایک عالمی طاقت کے طور پر دیکھ رہی ہے اور اپنے تعلقات اسی روش میں آگے بڑھا رہی ہے۔ حالیہ دنوں جرمنی کے چانسلر نے بھی انڈیا کا دورہ کیا اور انڈیا کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ جرمنی خاص طور پر اس بات پر زور دے رہا ہے کہ بھارت کے دفاعی معاملات میں اس کے روس پر انحصار کو کم کرنے کے لیے وہ آگے بڑھ کر تعاون کرے۔
یورپ اس بات سے بھی محتاط ہے کہ بھارت مستقبل میں یورپی اتحادی اور اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے بعد وہی رویہ اختیار نہ کرے جو آج روس اور چین کر رہے ہیں۔ اگرچہ عالمی سیاست میں صورتحال عموماً وقتی اور بدلتی رہتی ہے، موجودہ اور آئندہ چند دہائیوں میں انڈیا یورپ کے لیے ایک اہم اور قابل اعتماد اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔ انڈیا اب خلیجی ممالک میں بھی اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا رہا ہے۔ گزشتہ دسمبر میں انڈیا نے عمان کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کیے، اور دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات روز بروز مضبوط ہو رہے ہیں۔
خلیجی ممالک کے لیے بھارت کئی لحاظ سے اہم ہے، اور پہلی بار انہیں انڈیا بطور ایک فوجی طاقت بھی دیکھ رہی ہے۔ چند دن قبل یو اے ای کے شیخ نے انڈیا کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان ایک دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ کئی تجزیہ نگاروں کے مطابق، یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی تعاون کو چیلنج کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ لیکن یو اے ای کے ساتھ یہ دفاعی معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی پروپیگنڈے کے باوجود انڈیا مسلم دنیا میں بھی اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود، انڈیا نے یو اے ای کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو ترجیح دی، جس سے اس کی خلیج میں اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایسٹ ایشیا میں بھی بھارت کے تعلقات بہت مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ جاپان اس وقت بھارت کے ساتھ ٹیکنالوجی سے لے کر معاشی سرگرمیوں تک تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف کواڈ اتحاد کے رکن ہیں بلکہ معاشی سطح پر بھی مضبوط تعاون کر رہے ہیں۔
جاپان کی کئی اہم کمپنیاں بھارت میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں، اور بھارت کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے جاپان بلٹ ٹرین اور دیگر منصوبوں میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات قائم ہیں۔ اگر بھارت کے خطے میں اثر و رسوخ کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر پڑوسی ممالک کسی نہ کسی طور بھارت کے اثر میں ہیں۔ حالیہ دنوں بنگلہ دیش میں حکومت کے بدلنے کے بعد حالات میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن نیپال، مالدیپ، بھوٹان اور اب افغانستان میں بھی پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اور تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔
اس وقت خطے میں بھارت کے لیے سب سے بڑے چیلنجز چین کے علاوہ پاکستان اور بنگلہ دیش ہیں، جن کے ساتھ بھارت کو مستقبل میں تعلقات اور حکمت عملی کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ یہ دیکھنا آنے والے دنوں میں عالمی اور علاقائی سیاست کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا۔
بھارت کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول
بھارت کی خارجہ پالیسی بنیادی طور پر اپنے قومی مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہے، جیسا کہ دیگر ممالک کی پالیسیز بھی ہوتی ہیں۔ تاہم، بھارت کی پالیسی میں کچھ منفرد خصوصیات ہیں جو اسے دوسرے ممالک سے مختلف اور قابل بھروسہ بناتی ہیں۔ بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں مستقل مزاج رہتا ہے اور کسی بھی چھوٹے یا بڑے معاملے کی بنیاد پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرتا، جس کی وجہ سے دیگر ریاستیں اس پر اعتماد کرتی ہیں۔
مثال کے طور پر، بھارت کے روس کے ساتھ مضبوط دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ جب یورپ اور امریکہ نے روس کے خلاف سخت پابندیاں لگائیں اور بھارت پر دباؤ ڈالا کہ وہ روس سے تیل کی خریداری بند کرے، تب بھی بھارت نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ حتیٰ کہ امریکہ نے بھارت پر ٹیرف لگائے تاکہ دباؤ پیدا کیا جا سکے، لیکن بھارت نے روس کے ساتھ تعلقات خراب نہیں ہونے دیے۔ اس رویے کی وجہ سے روس نے بھارت کو ایک بھروسہ مند اور قابل اعتماد اتحادی کے طور پر دیکھا۔
بھارت کی پالیسی جذباتی یا وقتی دباؤ پر مبنی نہیں ہوتی۔ یوکرین کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رکھے گئے اور اقتصادی سرگرمیاں جاری رہیں، حالانکہ یورپ اور امریکہ نے روس پر دباؤ ڈالا تھا۔ یوکرینی صدر نے بھی کئی بار بھارت سے درخواست کی کہ وہ روس کے خلاف موقف اختیار کرے، لیکن بھارت نے اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی کیونکہ وہ تاریخی، حقیقی اور طویل مدتی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔
اسی طرح، بھارت اور اسرائیل کے تعلقات بھی انتہائی مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ اور اسٹریٹجک تعلقات رکھتے ہیں، جو دونوں کے قومی مفادات اور طویل المدتی فوائد پر مبنی ہیں۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مستقل اور طویل المدتی نقطہ نظر اختیار کرے، اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا وقتی حالات میں اپنی پوزیشن میں تبدیلی نہ کرے۔
یہی خصوصیت بھارت کو عالمی سیاست میں ایک قابل اعتماد اور مضبوط کھلاڑی بناتی ہے۔ دفاعی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعاون ہر جگہ واضح نظر آتا ہے، لیکن اس کے باوجود بھارت نے فلسطین کے معاملے میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور فلسطین کو بطور ایک ریاست تسلیم کیا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات کے باوجود، بھارت نے فلسطین کے حق کو وقتی فائدے کے بجائے بنیادی اصول کے طور پر برقرار رکھا ہے۔
جب روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہوئی، تو امریکہ اور یورپ نے بھارت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، لیکن بھارت نے یورپ سے تعلقات ختم نہیں کیے اور اپنے معاشی و آزادانہ خارجہ پالیسی کو اہمیت دی۔ بھارت نے یورپ کو مسلسل انگیج رکھا اور حقیقت پسندانہ فیصلوں سے آگاہ کرتا رہا۔ آج جب یورپ کو امریکہ کی طرف سے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے، تو اس نے بھی اپنی راہیں بھارت کی طرف دیکھیں اور اب وہ بھارت کو اپنا سب سے اہم اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
یہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے کہ اس نے وقتی فیصلے یا وقتی فوائد کے بجائے مستقل مزاجی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ بھارت کی فارن پالیسی میں اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی بیرونی ریاست کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مثال کے طور پر، 2020 میں بھارت اور چین کے درمیان جنگ کے دوران، جہاں دونوں ممالک کے کئی فوجی ہلاک ہوئے، بھارت نے کسی سے مدد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور براہ راست چین سے خود مذاکرات کیا۔ بالآخر، آج دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آ چکے ہیں۔ اس پورے عمل میں بھارت نے کسی ثالث کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
یہی رویہ پاکستان کے ساتھ تنازعات میں بھی دیکھا گیا۔ بھارت نے کسی بھی ریاست سے مشورہ لیے بغیر کارروائی کی، اور جب جنگ کے دوران امریکہ نے مداخلت کی کوشش کی تو اسے بھی رد کر دیا۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے جنگ روکائی، بھارت کے آفیشلز کے مطابق، یہ تنازعہ مکمل طور پر بھارت نے خود پاکستان کے ساتھ مذاکرات کر کے حل کیا۔ بھارت کی یہ آزادانہ فیصلہ سازی اور مداخلت نہ قبول کرنے کا رویہ اس کی فارن پالیسی کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔
جب کسی ملک کی فارن پالیسی میں بیرونی مداخلت ہوتی ہے تو وہ آزاد نہیں رہ سکتی اور طاقتور ریاستوں کے اثر میں آ جاتی ہے۔ امریکہ، چین اور روس جیسے ممالک میں یہ رویہ واضح ہے، اور اب یہی آزادی اور خودمختاری بھارت کی پالیسی میں بھی نظر آ رہی ہے۔
کیا بھارت عالمی طاقت بن سکتی ہے؟
بھارت آج دنیا کی سیاست میں مختلف سطح پر اثر و رسوخ رکھتا ہے، لیکن بطور ایک مکمل عالمی طاقت ابھی اس کی پہچان نہیں بنی۔ دنیا کی آبادی کے تناسب سے بھارت سب سے بڑا ملک ہے اور معیشت کے لحاظ سے یہ اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت رکھتا ہے۔ آئندہ ایک سے دو سال کے دوران یہ جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی طرف جا رہا ہے۔
کسی بھی ملک کے لیے معیشت، فوج، ٹیکنالوجی، اثر و رسوخ اور بھروسہ مند اتحادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بھارت نے عالمی سطح پر اپنی معیشت، فوج، ٹیکنالوجی اور اثر و رسوخ کو ایک حد تک مضبوط کر لیا ہے، لیکن وہ اس مقام پر نہیں پہنچا جہاں اسے ایک مکمل عالمی طاقت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یورپ کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی اور تعاون بھارت کو عالمی طاقت کے طور پر سامنے لا سکتا ہے۔
اگر بھارت اور یورپ معاشی اور دفاعی اتحاد قائم کرتے ہیں تو بھارت کو یورپی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی، اور یورپی ٹیکنالوجی اور آئیڈیاز بھارت میں منتقل ہونے سے مختلف شعبوں میں اثرات مرتب ہوں گے۔ یورپ ٹیکنالوجی، انوویشن اور نئے آئیڈیاز کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اور دنیا کی بڑی سرمایہ دار کمپنیاں یہاں موجود ہیں۔ اگر یہ وسائل بھارت میں استعمال ہوں اور ملک کی بڑی آبادی کو تیار کیا جائے تو عالمی سطح پر اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔
بھارت کے لیے سب سے بڑا چیلنج خطے میں سیکورٹی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تاریخی کشیدگی بھارت کی سپرمیسی کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی ہے، کیونکہ پاکستان کے موجود ہونے کے سبب بھارت سینٹرل ایشیا میں اپنے قدم جمانے اور فعال کردار ادا کرنے میں محدود ہے۔ اس صرتحریٹ کے خاتمے کا تعلق بلوچ تحریک سے ہے اور یہ بھارت کی فارن پالیسی کے لیے شاید ایک سخت چیلنج ہو مگر پاکستان کی تباہی اس وقت بلوچستان سے ہی ممکن ہے۔
ایک آزاد بلوچ ریاست کے قیام کے بعد ہی پاکستان کا خطے میں طاقت کا اختتام ہو سکتا ہے اور ایک آزاد بلوچ ریاست کی موجودگی میں ہی بھارت کو ایک بہتر اور مستقل پارٹنر مل سکتا ہے کیونکہ بہت سے معاملوں میں دونوں جانب مفاد موجود ہیں۔ دوسری جانب، بھارت کے پاس وسیع اور ہنر مند افرادی قوت موجود ہے جو کسی بھی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے لیے بڑے اداروں اور عالمی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کی سرمایہ کاری آہستہ آہستہ بھارت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
جتنی زیادہ سرمایہ کاری بھارت میں آئے گی، اتنی ہی معاشی اور ٹیکنالوجی ترقی ممکن ہوگی۔ اگر بھارت اس معاملے میں کامیاب ہوتا ہے، تو مستقبل میں وہ اپنی فوجی طاقت کو خطے میں موثر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے اور اہم عالمی فیصلے لے سکتا ہے۔
بلوچ قومی طاقت کی بنیاد
بلوچ قوم کے لیے اس وقت سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی قوت اور صلاحیت کو عالمی سطح کے تقاضوں کے مطابق سامنے لا سکے۔ ہمیں آج بلوچ نوجوانوں کی صلاحیت، طاقت، علم اور ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ریاستی سطح کی قوت کی تیاری پر کام کرنا ہوگا۔ جب تک ہم خطے میں ریاستی سطح پر ایک منظم قوت کی بنیاد نہیں رکھتے، دور دراز اور اسٹریٹجک طور پر اہم علاقوں پر موثر کنٹرول قائم نہیں کرتے اور دنیا کو اپنی طاقت دکھانے میں کامیاب نہیں ہوتے، تب تک عالمی برادری ہمیں کسی بھی معاملے میں سنجیدگی سے نہیں لے گی۔
اس صورتحال میں بلوچ قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اس قوت اور صلاحیت کو کس طرح ایک منظم اور موثر طاقت میں تبدیل کر سکتی ہے، کیونکہ حقیقت پسندانہ سیاست اور موجودہ عالمی نظام میں طاقت ہی بنیادی عنصر سمجھی جاتی ہے۔ جب تک آپ مضبوط نہیں ہوتے، آپ دنیا کو کچھ پیش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور جب تک آپ کے پاس پیش کرنے کے لیے کچھ نہ ہو، آپ کسی کے لیے بھی ایک اہم اتحادی نہیں بن سکتے۔ عالمی سیاست کا اصول سادہ ہے: آپ کیا دے سکتے ہیں۔
کچھ پیش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود کو ایک طاقت کے طور پر منوائیں۔ امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تعلق کسی نظریاتی مفاد پر مبنی نہیں، لیکن پاکستان اس وقت خطے میں ایک اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے اور وہ امریکہ کو بہت کچھ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی لیے امریکہ نے اس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ اگر مستقبل میں ہم بھی ایسی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کو کچھ پیش کر سکیں، تو دنیا ہمیں ضرور سنے گی، لیکن اس کے لیے سب سے بنیادی نکتہ ایک منظم طاقت کا قیام ہے۔
طاقت کے بغیر ہم اپنی سرزمین پر کسی بھی چیز پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکتے، چاہے وہ گوادر کے گرم پانی ہوں، مکران کی اسٹریٹجک حیثیت ہو، رخشان کے معدنی وسائل ہوں یا ہماری زمین میں موجود نایاب معدنیات۔ ان تمام وسائل پر اس وقت پاکستان کا کنٹرول ہے، اور اس کنٹرول کے خاتمے کے بعد ہی اگلے مراحل کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے۔ طاقت سیاست میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس کے بعد ہی دیگر نکات سامنے آتے ہیں۔ اسی کے بعد ریاستی گورننس، انتظامی معاملات، حکومت، معیشت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں ترقی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
آج بلوچ جدوجہد اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا رہا ہے اور انہیں مواقع دیے جا رہے ہیں کہ وہ مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں استعمال کر سکیں۔ اس لیے قوم کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کریں اور طاقت کی بنیاد رکھنے کے عمل میں اپنا کردار ادا کریں۔ جب تک آپ زمینی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے، آپ کی سیاسی سوچ، اپروچ اور خیالات سب بے معنی رہتے ہیں۔
اسی لیے آج ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وقت اور توانائی طاقت کے حصول پر صرف کی جائے۔ اگر کل کو خطے میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے اور بھارت یا کوئی اور طاقت اس پوزیشن میں آ جاتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی حیثیت اور طاقت منوا سکے، اور اس کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان بن جائے، تو ایسی صورت میں ہم بھی خطے میں ایک سنجیدہ پلئیر کے طور پر دیکھے اور سمجھے جائیں گے۔ اس وقت یہ بات اس پر بھی منحصر ہوگی کہ ہم دنیا کو کیا آفر کر سکتے ہیں۔
جب تک ہم یہ صلاحیت پیدا نہیں کرتے کہ پورے بلوچستان پر موثر کنٹرول قائم کر سکیں، تب تک دنیا کی کوئی بھی طاقت ہم پر اپنا سرمایہ خرچ کرنے کا رسک نہیں لے گی۔ اس وقت تاریخ بدل رہی ہے اور حالات کسی بھی لمحے کسی بھی سمت جا سکتے ہیں۔ آئندہ ایک سے دو سال ایران کے حوالے سے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں، اور اس خطے میں بڑی تبدیلیوں کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔
کسی بھی وقت یہاں غیر متوقع صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر ہم کمزور رہے، ایک ریاست کے طور پر اپنی طاقت میں اضافہ نہ کیا، اور انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی، فوج، معیشت اور انسانی وسائل کے میدان میں مضبوط نہ ہوئے، تو ہم کسی بھی وقت ایک بڑے طوفان کی زد میں آ سکتے ہیں۔ آج ہمیں آنے والے طوفان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، بلکہ اس حد تک مضبوط ہونا ہوگا کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمیں نظرانداز کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
موجودہ حالات میں کمزور ہونا اجتماعی موت کے مترادف ہے، اور ہماری معمولی سی کمزوری بھی ہماری تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی صلاحیت اور طاقت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے مسلسل اور سنجیدگی سے کام کریں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































