ہرنائی: برآمد ہونے والی لاشوں کی شناخت لاپتہ افراد کے طور پر ہوگئی، موسیٰ خیل سے مزید چار لاشیں برآمد

115

بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ژوب بارڈر کے قریب ڈب کے علاقے سے چار نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع ہرنائی سے برآمد ہونے والی چار لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے، شناخت کئے جانے والوں میں نور محمد سکنہ بابر کچ کوٹ منڈئی، جمعہ خان مری سکنہ کوریاک، محمد رسول، اور علی اکبر ولد علی نواز سمالانی سکنہ گھوسٹ ہرنائی شامل ہیں۔

ہرنائی سے ملنے والی لاشوں میں شامل علی اکبر ولد علی نواز سمالانی کو سات ماہ قبل پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا، جبکہ جمعہ خان مری کے لواحقین نے بھی تصدیق کی ہے کہ جمعہ خان کو ایک سال قبل پاکستانی فورسز نے ہرنائی بازار سے حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

گزشتہ روز ہرنائی سے ملنے والی دیگر دو لاشوں کے حوالے سے جبری گمشدگی کی تفصیلات تاحال موصول نہیں ہو سکیں، تاہم بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دیگر دو لاشیں بھی پہلے سے زیرِ حراست افراد کی ہو سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں اس سے قبل بھی متعدد لاشیں برآمد ہو چکی ہیں یا سی ٹی ڈی کی جانب سے جعلی مقابلوں میں قتل کیے جانے کے بعد لاشوں کی شناخت ایسے افراد کے طور پر ہوئی ہے جنہیں مختلف اوقات میں بلوچستان سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق بلوچستان میں بیس ہزار سے زائد افراد پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے ہیں، تنظیم کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں کو پاکستانی فورسز کی جانب سے ماورائے عدالت کارروائیوں کا سامنا ہے۔

ادھر آج ہی بلوچستان کے علاقے موسیٰ خیل سے مقامی پولیس کو چار مزید لاشیں ملی ہیں، جنہیں قتل کرنے کے بعد پھینک دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق لاشوں کی شناخت کے لیے ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ واقعے کے محرکات اور ممکنہ ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔