گوادر: مزید چار افراد جبری طور پر لاپتہ

1

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے علاقے جیونی میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے دوران کم از کم چار نوجوان ماہی گیروں کو مختلف مقامات سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق اسراج ولد نور بخش (عمر 22 سال)، پیشہ ماہی گیر اور سکنہ پانوان جیونی، کو 5 جنوری 2026 کی رات تقریباً 3 بجے ان کے گھر سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا۔

اسی طرح جہانگیر ولد مراد بلوچ (عمر 25 سال)، پیشہ ماہی گیر، کو 27 دسمبر 2025 کو دوپہر 12 بجے جیونی کے ایک ہوٹل (گوادر ہوٹل) سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

مزید برآں شمس الدین ولد رستم بلوچ (عمر 18 سال) کو 25 دسمبر 2025 کی صبح 10 بجے آئی ایس آئی کے دفتر، گوادر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا۔ جبکہ شبیر ولد عبداللہ بلوچ (عمر 25 سال) کو 5 جنوری 2026 کی رات 12 بجے جیونی، گوادر سے اغواء کیا گیا، جس میں ایف سی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کا تعلق ایک ہی علاقے پانوان، جیونی سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے ماہی گیر ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق ماہی گیر طبقہ پہلے ہی شدید معاشی بدحالی کا شکار ہے، جبکہ جبری گمشدگیوں نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنان نے اقوامِ متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کا فوری نوٹس لیں اور پاکستان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرے۔