گوادر: جھڑپیں جاری ، مسلح افراد نے سی پیک منصوبوں اور پورٹ کو نشانہ بنایا

237

گوادر پورٹ اور اس کے گردونواح میں صبح سویرے شروع ہونے والی فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے مرکزی حصے اور اہم اسٹریٹجک مقامات پر بم دھماکوں کے بعد فائرنگ جاری ہے۔ مسلح افراد گوادر پورٹ میں داخل ہو کر چینی منصوبوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس دوران گوادر پورٹ کے اندر متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، اور کئی گھنٹوں سے جاری جھڑپوں میں شدت مزید بڑھ گئی ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی کی قیادت میں جاری آپریشن “ہیروف” کے سلسلے میں بی ایل اے نے گوادر کے میدانِ جنگ سے اپنے ایک جنگجو کی ویڈیو نوٹ جاری کی ہے، جس میں جھڑپوں اور پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

اسی طرح، بی ایل اے نے پسنی کوسٹ گارڈ کیمپ پر حملہ کرنے والے اپنے حملہ آوروں کی ویڈیو بھی جاری کی ہے، جس میں مرد و خواتین جنگجو پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے لحاظ سے گوادر پاکستان اور چین دونوں کے لیے انتہائی اہم شہر ہے، جہاں چین سی پیک معاہدے کے تحت 60 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

دوسری جانب، پسنی بھی حالیہ دنوں عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جب غیر ملکی میڈیا نے تصدیق کی کہ پاکستانی فوجی قیادت پسنی کے قریب امریکہ کو بندرگاہ کی سہولت فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔