گرینڈ الائنس بلوچستان کے تحت سرکاری ملازمین کا 20 جنوری کو کوئٹہ میں احتجاج کا اعلان

1

بلوچستان کے سرکاری ملازمین نے کہا ہےکہ گرینڈ الائنس بلوچستان کے زیرِ اہتمام جاری احتجاجی تحریک اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ گرینڈ الائنس بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ 20 جنوری کو بلوچستان بھر سے سرکاری ملازمین بڑی تعداد میں کوئٹہ کا رخ کریں گے، جہاں ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے) کے حصول کے لیے فیصلہ کن احتجاج کیا جائے گا۔

گرینڈ الائنس سے وابستہ ملازمین کا کہنا ہے کہ نہایت مشکل اور نامساعد حالات کے باوجود قیادت نے اس تحریک کو آخری مرحلے تک پہنچایا ہے۔ اب اس جدوجہد کی کامیابی کا دار و مدار بلوچستان کے ڈھائی لاکھ ملازمین پر ہے کہ وہ بلا تاخیر، بلا خوف و خطر، جوش و جذبے، نظم و ضبط اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس احتجاج میں شرکت یقینی بنائیں۔

انہوں نے تمام سرکاری ملازمین سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ 20 جنوری کو کوئٹہ پہنچ کر اس فیصلہ کن مرحلے کو کامیاب بنائیں اور اپنے جائز حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے درجنوں محکموں کے ملازمین گزشتہ سات ماہ سے گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے مشترکہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صوبے کے محکموں میں تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے کم تنخواہ پانے والے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا جائے۔

گرینڈ الائنس بلوچستان کے سربراہ عبدالقدوس کاکڑ کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت نے یہ الاؤنس اپنے ملازمین کو دے دیا ہے، تاہم بلوچستان حکومت تاحال اس پر آمادہ نہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی کے موجودہ دور میں یہ ملازمین کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی اپنی قائم کردہ کمیٹی بھی ڈی آر اے کے حق میں سفارشات دے چکی ہے، مگر وزیراعلیٰ بلوچستان ان پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ، اسمبلی سیکریٹریٹ، سول سیکریٹریٹ اور ہائی کورٹ سمیت بعض محکموں میں ملازمین کو زیادہ تنخواہیں دی جاتی ہیں، جبکہ دیگر محکموں میں اسی گریڈ کے ملازمین کو کم تنخواہیں ملتی ہیں۔ اس واضح فرق کے خاتمے کے لیے ڈی آر اے الاؤنس ناگزیر ہے۔

گرینڈ الائنس بلوچستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔