کیچ، تجابان میں خواتین سمیت جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سی پیک شاہراہ بلاک، احتجاج تیسرے روز میں داخل۔
تربت کے علاقے تجابان میں چار جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ نے انتظامیہ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے خلاف ایک بار پھر سی پیک شاہراہ بلاک کر دی۔ احتجاج تیسرے روز بھی جاری ہے جہاں شدید سردی کے باوجود خواتین اور بچے رات کی تاریکی میں سڑک پر موجود ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سے گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات میں لاپتہ افراد، خصوصاً خواتین کی بازیابی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا تھا تاہم وعدے پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث دوبارہ احتجاج شروع کرنا پڑا۔
احتجاج کرنے والوں کے مطابق ایک ہی خاندان کے چار افراد تاحال لاپتہ ہیں جن میں دو خواتین شامل ہیں جب کہ ان میں سے ایک خاتون نو ماہ کی حاملہ بھی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اہلِ خانہ کی عدم بازیابی نے شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب مظاہرین کا کہنا ہے ک فورسز نے تجابان سے تعلق رکھنے والی دو خواتین سمیت چار افراد کو حب چوکی سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔ مظاہرین کے مطابق ان افراد پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی کے الزامات سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں جنہیں اہلِ خانہ اور مظاہرین مسترد کرتے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف دنیا نئے سال کی تقریبات میں مصروف ہے جبکہ دوسری جانب بلوچستان میں خواتین اور بچے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے شدید سردی میں سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہیں۔
تاحال ضلعی انتظامیہ یا سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ایک عرصے سے حساس رہا ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اس پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
سی پیک شاہراہ کی بندش کے باعث نہ صرف مقامی آبادی بلکہ بین الاضلاعی سفر کرنے والے مسافر بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔


















































