بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے بریت سے دو ایسے افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں اہلِ خانہ اور مقامی ذرائع کے مطابق مہینوں قبل پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
مقتولین کی شناخت ایاز بلوچ اور ظریف احمد کے ناموں سے ہوئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ایاز بلوچ ولد دوست محمد کا تعلق کولواہ کے علاقے گیشکور کے گاؤں سنڈم سے تھا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں 16 اکتوبر 2025 کو امداد بلوچ نامی نوجوان کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔
اسی طرح ظریف احمد ولد مستری فقیر محمد، جو کولواہ کے علاقے مالار سیاہ کل کے رہائشی تھے، 28 ستمبر کو اپنے گھر سے حراست میں لیے گئے تھے۔ بعد ازاں ان کے ساتھ گرفتار کیے گئے ایک شخص کو رہا کر دیا گیا، مگر ظریف احمد کے بارے میں کوئی اطلاع نہ مل سکی، یہاں تک کہ اب ان کی لاش برآمد ہوئی۔
لاشوں کی برآمدگی کے بعد متاثرہ خاندانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں افراد کو حراست کے دوران قتل کر کے ویران علاقے میں پھینک دیا گیا۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک حساس موضوع ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 2000 کی دہائی کے وسط سے ایسے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اکثر پاکستانی فورسز پر گرفتاری اور بعد ازاں لاپتہ کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں،
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور دیگر تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ سینکڑوں افراد ایسے ہیں جن کے بارے میں برسوں سے کوئی معلومات دستیاب نہیں۔ ان تنظیموں کے مطابق بعض کیسز میں لاپتہ افراد کی لاشیں بعد میں مختلف علاقوں سے ملتی رہی ہیں، جنہیں مقامی سطح پر ’کِل اینڈ ڈمپ‘ پالیسی کہا جاتا ہے۔
















































